یوپی: دلت طالب علم کے ذریعہ بوتل سے پانی پینے پر استاد چراغ پا ،طالب علم کی انگلیاں توڑ دیں

شکایت کے بعد تھانے میں مقدمہ درج ،مزید تحقیات جاری،ایس پی سٹی نے دلت طالب علم کو انصاف کی فراہم کی یقین دہانی کارئی

نئی دہلی ،03 اپریل :۔

آج بھی ترقی یافتہ اور تعلیمی یافتہ دور میں ذات پات اور اونچ نیچ کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سلسلہ جاری ہے۔ ہم خواہ کتنے بھی خود کو مہذب اور تعلیم یافتہ کہہ لیں لیکن جب تک ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سلسلہ جاری ہے ہم حقیقی معنوں میں ایک مہذب شہری نہیں کہلا سکتے۔ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا ایک افسوسناک واقعہ یوپی کے مین پوری کے ایک اسکول میں پیش آیا  ہے جہاں  ایک ٹیچر اس وقت مشتعل ہو گیا جب ایک دلت طالب علم نے میز پر رکھی بوتل کو چھوا ۔محض بوتل کے چھونے پر اعلیٰ ذات سے تعلق رکھنے والا استاد اس قدر مشتعل اور بر انگیختہ ہو گیا کہ اس نےطالب علم کی جم کر پٹائی کی ۔ اس مار  پیٹ کے واقعے میں طالب علم کی دو انگلیاں بھی ٹوٹ گئیں۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد پولیس میں شکایت درج کرائی گئی۔ فی الحال اس کی تفتیش کی جارہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ طالب علم مین پوری کے کشنی تھانہ علاقے کے ساکرم پور گاؤں میں واقع نریندر پرتاپ سنگھ ہائر میموریل اسکول میں 11ویں جماعت میں پڑھتا ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ کو دی گئی شکایت میں بتایا گیا ہے کہ کلاس کے دوران اسے پیاس لگی اور اس نے ٹیچر کی رکھی بوتل اٹھائی اور پانی پیا۔ اس پر انہوں نے اسے گالی دی اور مارا پیٹا جس سے اس کی دو انگلیاں ٹوٹ گئیں۔

طالب علم کا کہنا ہے کہ پہلے وہ کشنی تھانے گیا، لیکن وہاں کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس کی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ اس کے بعد مین پوری کے ایس پی پولس آفس گئے اور شکایتی خط دیا، وہاں سے کشنی تھانے میں فون کرکے مقدمہ درج کیا گیا۔ طالب علم کے مطابق ایس پی نے یقین دلایا ہے کہ انصاف فراہم کیا جائے گا اور ٹیچر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ایس پی سٹی ارون کمار سنگھ نے کہا کہ پورا معاملہ علم میں ہے اور اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ استاد کی تلاش جاری ہے۔ متاثرہ کا طبی معائنہ کرایا گیا ہے۔ جو بھی میڈیکل میں آئے گا اس کے مطابق سیکشنز بڑھائے جائیں گے اور طالب علم کو انصاف فراہم کرنے کے لیے کام کیا جائے گا۔