ٹیکسٹائل صنعت پرامریکی محصولات سے 3 ملین ملازمتوں کو خطرہ
دلت مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، تمل ناڈو کے وزیر اعلی اسٹالن نے وزیر اعظم مودی کو خبردار کیا

نئی دہلی ،29 اگست :۔
امریکہ کے ذریعہ بھارت پر نئے اور بھاری بھرکم ٹیریف سے مختلف صنعتوں کو نقصانات اور بے روزگاری میں اضافہ کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں ۔ بتایا جا رہا ہے کہ امریکہ کے ذریعہ نافذ کئے گئے 50 فیصد ٹیرف سے سب سے زیادہ جن صنعتوں کو نقصان پہنچ رہا ہے وہ ٹکسٹائل اور بھدوہی کی قالین صنعت ہے ۔اس سلسلے میں تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے جس میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے ہندوستانی ٹیکسٹائل پر عائد 50 فیصد ٹیرف سے دلت مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ٹیرف کل سے لاگو ہوئے اور توقع ہے کہ اس سے ریاست کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ایک بڑا دھچکا لگے گا، جو ملک کی سب سے بڑی صنعتوں میں سے ایک ہے۔
اسٹالن نے نشاندہی کی کہ دلت، جو گارمنٹس کے شعبے میں تقریباً 60 فیصد افرادی قوت ہیں، اس بحران کا خمیازہ بھگتیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تامل ناڈو کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں 30 لاکھ تک نوکریاں اب فوری خطرے میں ہیں۔
اسٹالن نے اپنے خط میں کہا، "صرف تروپور، جو کہ ہندوستان میں سب سے بڑا نٹ ویئر مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ کا مرکز ہے، معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے ہزاروں لوگوں کو ملازمت دیتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ نئے محصولات ذریعہ معاش کو تباہ کر دیں گے، خاص طور پر دلت اور پسماندہ برادریوں میں جن کی گزر بسر کا انحصار انہیں کپڑا صنعت پر ہے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
واضح رہے کہ امریکہ ملبوسات کے لیے ہندوستان کی سب سے بڑی منڈی ہے، جس کی تمام برآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہے۔ لیکن نئی ڈیوٹی کے ساتھ، ہندوستان کو بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے حریفوں کے مقابلے میں سخت نقصان پہنچا ہے، جہاں ٹیرف صرف 20 فیصد ہیں، اور انڈونیشیا اور کمبوڈیا، جہاں وہ 19 فیصد ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تمل ناڈو میں برآمد کنندگان نے پہلے ہی سپلائی روک دی ہے یا اس میں تاخیر کر دی ہے، جب کہ عالمی خوردہ سلسلوں پر بشمول Walmart، Target، Amazon، Kohl’s، Gap Inc.، اور H&M نے سپلائی کرنے والوں کو صورت حال مزید واضح ہونے تک کنسائنمنٹ روک دینے کی ہدایت دی ہے ۔ بہت سے برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ انہیں خسارے میں موجودہ آرڈرز کو پورا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ اسٹالن نے اپنے خط میں واضح کیا کہ "ٹیکسٹائل کا شعبہ ہماری لائف لائن ہے۔ وزیر اعظم پر زور دیا کہ مداخلت کریں اور ان لاکھوں لوگوں کی ملازمتوں اور معاش کی حفاظت کریں جو اب غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔