وقف ترمیمی بل 2024:’ بھروسہ ختم‘ جے ڈی یو کے 2 سینئر مسلم رہنماؤں کا پارٹی سے استعفیٰ
پارٹی صدر نتیش کمار کو لکھے خط میں رہنماؤں نے کہا کہ اس بل کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں کی تذلیل اور توہین کی جا رہی ہے مگرنہ آپ کو اور نہ ہی آپ کی پارٹی کو اس کا احساس ہے

(دعوت ویب ڈیسک)
نئی دہلی ،03 اپریل :۔
وقف ترمیمی بل 2024 کی مسلم تنظیموں کی جانب سے مخالفت کی جاتی رہی اور اس دوران مسلم تنظیموں نے بی جے پی کی اتحادی جماعتوں جنتا دل (یونائیٹڈ) اور ٹی ڈی پی کے سر براہان سے ملاقات کر کے ایوان میں بل کی مخالفت کی اپیل اور درخواست کی تھی مگر دونوں نام نہاد سیکولر جماعتوں نے ایوان میں مسلمانوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے نہ صرف بل کی حمایت میں ووٹنگ کی بلکہ جے ڈی یو کے سینئر رہنما للن سنگھ نے لوک سبھا میں بحث کے دوران بی جے پی کی زبان بولتے ہوئے مسلمانوں اور مسلم تنظیموں پر طنز بھی کیا۔ چنانچہ جے ڈی یو کے اس فیصلے کے بعد پارٹی سے جڑے مسلم رہنماؤں میں عدم اطمینان کی لہر پائی جا رہی ہے جس کا اثر اب نظر آنے لگا ہے۔جے ڈی یو کے دو سینئر قائدین محمد قاسم انصاری اور محمد نواز ملک نے جمعرات کو پارٹی اور ان کے تمام عہدوں سے وقف ترمیمی بل کے لئے پارٹی کی حمایت پر تنقید کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔محمد نواز ملک جے ڈی (یو) کے اقلیتی محاذ کے ریاستی سکریٹری تھے۔
جے ڈی (یو) کے صدر اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کو لکھے ایک خط میں قاسم نے کہا کہ اس سے بہت سے ہندوستانی مسلمانوں کا اعتماد ٹوٹ گیا ہے جو جے ڈی (یو) کو سیکولر اقدار کے محافظ کے طور پر دیکھتے ہیں۔
انہوں نے اپنے استعفیٰ نامہ میں لکھا کہ میں احترام کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم جیسے لاکھوں ہندوستانی مسلمانوں کا غیر متزلزل یقین تھا کہ آپ ایک خالص سیکولر نظریے کے علمبردار ہیں۔ لیکن اب یہ یقین ٹوٹ گیا ہے۔ لاکھوں سرشار ہندوستانی مسلمان اور ہم جیسے کارکنان جے ڈی (یو) کے موقف سے شدید صدمے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقف بل کو کسی بھی حالت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بل آئین کے بہت سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس بل کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں کی تذلیل اور توہین کی جا رہی ہے… نہ آپ کو اور نہ ہی آپ کی پارٹی کو اس کا احساس ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے اپنی زندگی کے کئی سال پارٹی کو دیے۔محمد نواز ملک نے بھی وقف بل کی پارٹی کی حمایت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ملک نے لکھا، "لاکھوں ہندوستانی مسلمانوں کا اٹل عقیدہ تھا کہ آپ ایک خالص سیکولر نظریے کے علمبردار ہیں۔ لیکن اب یہ یقین ٹوٹ گیا ہے۔ وقف ترمیمی بل پر جے ڈی (یو) کے موقف نے ہندوستانی مسلمانوں اور ہم جیسے پارٹی کارکنوں کو شدید دکھ پہنچایا ہے۔ لوک سبھا میں للن سنگھ نے جس طرح سے اس بل کی حمایت کی اس سے ہم مایوس ہیں۔