وقف ترمیمی بل 2024:نتیش کے زیادہ تر مسلم  رہنماؤں میں عدم اطمینان ، چہ می گوئیاں جاری

نئی دہلی ، پٹنہ03اپریل:۔

لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل کی منظوری کے بعد جے ڈی یو کے اندر افراتفری شروع ہوگئی ہے۔ جے ڈی یو کے مسلم  رہنماؤں میں پہلے ہی عدم اطمینان کی فضا تھی اس بل کی لوک سبھا میں جے ڈی یو ارکان کے ذریعہ حمایت کرنے پر اس عدم اطمینان میں اضافہ ہوا ہے اور چہ می گوئیاں شروع ہو گئی ہیں ۔ دریں اثنا مسلم رہنماؤں نے یہ کہہ کر سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے کہ جلد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔ پارٹی کے مسلم لیڈروں میں ایم ایل سی غلام غوث ، ایم ایل سی خالد انور ، سابق ایم پی اور قومی جنرل سکریٹری غلام رسول بلیاوی ، اقلیتی محاذ کے صدر سلیم پرویز ، سابق ایم پی اشفاق کریم اور اشفاق احمد اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ایسے میں اب سب کی نظریں ان کے موقف پر جمی ہوئی ہیں۔بعض حلقوں کی جانے سے یہ بحث بھی جاری ہے کہ کیا جے ڈی یو میں تقسیم ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق جے ڈی یو مسلم رہنماؤں میں عدم اطمینان کو دیکھتے ہوئےپٹنہ میں بہار ، اڑیسہ ، جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والے ادارہ شرعیہ کے حامیوں کی میٹنگ  بلانے کی تیاری جاری تھی جسے منسوخ کر دیا گیا ہے ۔ جے ڈی یو کے مسلم لیڈروں نے واضح کیا ہے کہ وہ میٹنگ کے بعد ہی کوئی فیصلہ لیں گے۔ غلام رسول بلیاوی نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم سپریم کورٹ اور تمام ہائی کورٹس کی قانونی ٹیم سے بھی بات کریں گے۔

غلام رسول بلیاوی نے کہا کہ وقف بل پاس ہو چکا ہے۔ ادارہ شرعیہ کی جانب سے، ہم نے جے پی سی کو 31 صفحات پر مشتمل تجاویز دی تھیں اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور چندرا بابو نائیڈو کو بھی بھیجی تھیں۔ یہ تمام جے پی سی ممبران کو بھی دیا گیا۔ اب بل پاس ہو چکا ہے۔

غلام غوث نے وقف بل کی مخالفت کی ہے۔ ایک بار پھر دستبرداری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ غلام غوث اب بھی نتیش کمار پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں ، لیکن ان کی ناراضگی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ غلام غوث اس وقت پارٹی کے ایم ایل سی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے لالو پرساد یادو سے بھی ملاقات کی تھی اور ان کے بارے میں بھی کئی طرح کی بحثیں چل رہی ہیں۔

جے ڈی یو کے ایم ایل سی خالد انور کی قانون ساز کونسل میں طویل مدت کار ہے ، لیکن اس سے قبل بھی اپنے بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ جلد اس پر بات کریں گے۔  مجموعی طور پر جے ڈی یو کے تمام مسلم لیڈر فی الحال نتیش کمار کے خلاف کھل کر بولنے سے گریز کر رہے ہیں ۔ لیکن جلد ہی کوئی بڑا فیصلہ لے سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ  بہار میں مسلمانوں کا ووٹ فیصد 17.70 ہے اور اس کے بعد یادووں کا ووٹ تقریباً 14 فیصد ہے۔ اگر ہم ان دونوں کو شامل کریں تو یہ تقریباً 32 فیصد بنتا ہے اور یہ ایک بڑی تعداد ہے جس سے اپوزیشن فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ بہار میں 50 اسمبلی سیٹیں ہیں ، جہاں نتیش کمار کو مسلم ووٹروں کےناراضگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔