وقف ترمیمی بل کسی کی زمین ہڑپنے کا قانون نہیں ہے:کرن رجیجو
کرن رجیجو نے دعویٰ کرتے ہوئےکہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے اس بل پر وسیع بحث کی۔ اتنی وسیع بحث شاید ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی

نئی دہلی،02 اپریل :۔
ملک بھر میں مسلمانوں کے احتجاج اور مخالفت کے باوجود بی جے پی کی مرکزی حکومت نے وقف ترمیمی بل کو بالآخر لوک سبھا میں پیش کر دیا۔ لوک سبھا میں وقف بل پیش کرتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے دعویٰ کرتے ہوئےکہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے اس بل پر وسیع بحث کی۔ اتنی وسیع بحث شاید ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ کمیٹی نے لاکھوں درخواستوں پر غور کیا۔ 284 سے زائد اسٹیک ہولڈرز نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ رجیجو نے کہا کہ اپوزیشن نے اس بل کو لے کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ بل پر اتنی وسیع بحث پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ 96 لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں۔ 25 ریاستی حکومتوں نے کمیٹی کے سامنے اپنے خیالات پیش کئے۔ قانونی ماہرین نے بھی اپنی تجاویز دیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ یہ کسی کی زمین چھیننے یا اس کی جائیداد ہڑپ کرنے کا قانون نہیں ہے۔
واضح رہے کہ اس متنازع بل پر آٹھ گھنٹے تک بحث چلے گی۔ اس کے بعد منظوری کے لیے ووٹنگ کی جائے گی اور اکثریت کی بنیاد پر اس کے پاس ہونے یا رد ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ اس بل راجیہ سبھا میں جمعرات کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، دونوں ایوانوں نے مجوزہ بل پر بحث کے لیے آٹھ گھنٹے مختص کیے ہیں۔
رجسٹرڈ جائیداد میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔ یہ کسی کی زمین چھیننے یا ان کی جائیداد ہڑپ کرنے کا قانون نہیں ہے۔
حکومت ایسی جائیداد پر کچھ نہیں کرے گی جو متنازعہ ہو یا عدالت میں زیر التوا ہو۔
وقف صرف اسی جائیداد پر ہو سکتا ہے جو کسی کا 100% حصہ ہو۔ بچوں اور خواتین کے حقوق نہیں چھینے جا سکتے۔
کلکٹر سے اوپر کا کوئی بھی افسر دیکھے گا کہ یہ سرکاری زمین ہے یا متنازعہ
ملک کے قبائلیوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے شیڈول 5 اور شیڈول 6 میں وقف املاک کو نہیں بنایا جا سکتا۔
وقف ٹریبونل میں 3 ممبران ہوں گے۔ ان کی مدت ملازمت 6 سال ہوگی۔