وقف ترمیمی بل: نماز جمعہ کے دوران سیکورٹی سخت ، دہلی سے یوپی تک پولیس الرٹ رہی
احتجاج کے خدشات کے درمیان دہلی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ڈرون سے نظر، میرٹھ، سہارنپور، شاملی، مظفرنگر وغیرہ میں فوجی دستوں کی تعیناتی رہی

نئی دہلی ،04 اپریل :۔
وقف ترمیمی بل مسلمانوں اور مسلم تنظیموں کی حد درجہ مخالفت کے باوجود لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا سے بھی منظوری مل گئی ۔ اس بل کی منظوری کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، دیگر مسلم تنظیمیں اور حزب اختلاف سخت برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ کانگریس، ڈی ایم کے اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے اس بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔دریں اثنا آج آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی ملت کے لوگوں سے ایک پر زور احتجاج کیلئے تیار رہنے کو کہا ہے۔ ان ہی امکانات کے پیش نظر جمعہ کے روز دہلی، اتر پردیش اور دیگر حساس شہروں میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیۃ علمائے ہند اور دیگر تنظیموں نے اس بل کو وقف املاک کے تحفظ پر حملہ قرار دیا ہے۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے وقف جائیدادوں پر سرکاری کنٹرول بڑھایا جا رہا ہے اور اسے قانونی چیلنج دیا جائے گا۔ ادھر، کانگریس، ڈی ایم کے اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں اس بل کو چیلنج کریں گے۔
دہلی میں جامع مسجد، اوکھلا، سیلم پور، بٹلہ ہاؤس اور ترکمان گیٹ جیسے علاقوں میں پولیس ہائی الرٹ پر رہی۔ جمعرات کو بھی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں نے ان علاقوں میں حالات کا جائزہ لیا اور امن کمیٹیوں اور مساجد کی انتظامیہ سے رابطہ قائم رکھا۔ نماز جمعہ کے بعد احتجاج یا مظاہرے کے خدشات کے سبب ڈرون کیمروں اور سی سی ٹی وی کے ذریعے نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ اتر پریش میں بھی نماز جمعہ کے دوران بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکار الرٹ پر نظر آئے۔ میرٹھ، سہارنپور، شاملی، مظفرنگر، بجنور اور باغپت میں بھی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کر دی گئی ہے۔ جمعرات کو ان علاقوں میں پولیس نے فلیگ مارچ کیا، جبکہ حساس مقامات پر اضافی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔ میرٹھ کے ایس ایس پی ڈاکٹر وپن ٹاڈا کے مطابق، جمعہ کی نماز کے دوران حساس علاقوں پر سخت نظر رکھی جائے گی اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
پولیس اور انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ پرامن رہیں اور کسی بھی قسم کی افواہوں پر یقین نہ کریں۔ مختلف مساجد کی انتظامیہ کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عوام کو اشتعال انگیزی سے باز رکھیں اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع فوراً حکام کو دیں۔