وقف ترمیمی بل :مسلم پرسنل لا بورڈ صدر جمہوریہ سے ملے گا،ملاقات کے لیے وقت مانگا

نئی دہلی،4 اپریل

پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل کی منظوری کے بعد اسے اب صدر جمہوریہ کے پاس دستخط کیلئے ارسال کر دیا گیا ہے۔ صدر جمہوریہ کے دستخط کے بعد یہ بل قانون بن جائے گا ۔ دریں اثنا  آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس بل کے خلاف تمام آئینی اور قانونی راہ اپنانے کا اعلان کرتے ہوئے اس بل کی واپسی اور قانون نہ بننے دینے کی پوری جدو جہد کر رہا ہے، اسی سلسلے میں آج مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایک لیٹر جاری کر کے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ  صدر جمہوریہ ہند   دروپدی مرمو سے پارلیمنٹ سے منظور شدہ وقف قانوں پر اپنی رضا مندی دینے سے پہلے فوری ملاقات کی استدعا کی ہے۔

بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے پریس کو بتایا کہ بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے اپنے خط میں ملاقات کی وجہ  بتاتے ہو ئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ سے منظوروقف قانون پر اپنی رضامندی دینے سے پہلے آپ ہماری بات ضرور سنیں کہ کس طرح یہ قانون دستور ہند کے بنیادی حقوق کے منافی اور مسلمانوں کے مفادات پر کاری ضرب ہے۔

خط میں آگے کہا گیا  ہمارا احساس ہے کہ قانون کی متعدد دفعات ازسرنو غور و فکر کی طالب ہیں اس لئے کہ وہ دستور میں دیئے گئے بنیادی حقوق سے راست  متصادم ہیں بالخصوص مذہبی آزادی، برابری اور مذہبی اداروں کے تحفظ کے تعلق سے۔ اوقاف کا مسلمانوں کی مذہبی اور فلاحی سرگرمیوں میں ایک تاریخی رول رہا ہے۔ ہمارا احساس ہے کہ وقف قانون میں اس وقت جو ترمیمات کی گئیں ہیں وہ اوقاف کے انتظام و انصرام اور اس کی خودمختاری کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔

ڈاکٹر الیاس کے مطابق  جنرل سیکریٹری بورڈ نے اپنے خط میں صدر جمہوریہ سے استدعا کی کہ حالات کی سنگینی اور ملک کی ایک بڑی اقلیت کی مذہبی آزادی اور دستوری حقوق کے تحفظ کا تقاضہ ہے کہ آپ ہمیں فوری ملاقات کا وقت دیں کہ ہم اپنی تشویش آپ کے سامنے رکھ سکیں تاکہ دستور کے دائرے میں اس کا مداوا ہو سکے۔