نصف قیدیوں کی رہائی کے عوض 50 دن کی جنگ بندی ،اسرائیل کی نئی پیشکش

تل ابیب ،یکم اپریل :۔

گزشتہ دنوں جنگ بندی کے معاہدے کے اختتام کے بعد اسرائیل غزہ میں پوری شدت کے ساتھ حملے کر رہا ہے۔ دریں اثنا سیکڑوں معصوم فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد دنیا بھر میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی جا رہی ہے اور جنگ بندی کی طرف لوٹنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

دریں اثنا  اسرائیل نے حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس میں غزہ کی پٹی میں 50 دن کی جنگ بندی کے بدلے اپنے نصف زندہ اور مردہ قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اسرائیل کے چینل 13 نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے "غزہ میں 50 دن کی جنگ بندی کے بدلے میں زندہ اور مردہ قیدیوں میں سے نصف کی رہائی کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی ہے”۔

اسرائیلی اندازوں کے مطابق غزہ کی پٹی میں 59 قیدی ہیں جن میں سے 24 اب بھی زندہ ہیں۔چینل نے وضاحت کی کہ بنجمن نیتن یاہو کی حکومت نے یہ نئی تجویز پیش کی ہے "جب تل ابیب نے ثالثوں کی جانب سے صرف پانچ قیدیوں کو رہا کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا، جس میں امریکی شہریت کےحامل ایڈان الیگزینڈر بھی شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی کابینہ نے ہفتے کی شام قیدیوں کی فائل پر طویل بحث کے لیے ملاقات کی، جب تل ابیب کو حماس کے ساتھ معاہدے کی تجدید کے لیے ثالثوں کی جانب سے ایک نئی تجویز موصول ہوئی۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں "حماس پر مزید فوجی دباؤ ڈالنے کی ضرورت” پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ہفتے کے روز نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیاتھا کہ اس نے ثالثوں کی جانب سے تل ابیب کی جانب سے موصول ہونے والی تجویز کا جواب ایک متبادل کے ساتھ دیا ہے، جو واشنگٹن کے موقف سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ تاہم اس کی مزید تفصیلات نہیں بیان کی گئیں‘۔ایک اسرائیلی اخبار نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ اگر حماس مشرق وسطیٰ کے امریکی ایلچی اسٹیو وٹ کوف کی تجویز کو قبول کرتی ہے تو اسرائیل غزہ کی پٹی پر جنگ ختم کرنے پر بات کرے گا۔

نیتن یاہو نے جنگ ختم کرنے کے لیے شرط رکھی کہ حماس کو اپنے ہتھیار ڈالنا ہوں گے اور اپنے رہنماؤں کو غزہ سے نکالنا ہوگا۔’اسرائیل ہیوم‘ اخبار نے اتوار کے روز ایک نامعلوم سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے کہا کہ اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے حماس کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کے لیے تیار ہو گا اگر وہ اسٹیو وٹ کوف کی تجویز کو قبول کرتی ہے۔