میانمار: زلزلے میں 700 سے زائد مسلمان جاں بحق،60 سے زائد مساجد تباہ

نئی دہلی ،31 مارچ :۔

میانمار میں آئے گزشتہ دنوں شدت اور تباہ کن زلزلے میں اب تک دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔ اس میں مزید ہلاکتوں  میں اضافہ ہو رہا ہے۔۔ تازہ ترین خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 2000 کے پار چلی گئی ہے۔ میانمار میں برسراقتدار جُنٹا حکومت نے 31 مارچ کو اس سلسلے میں نئے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ اس اعداد و شمار کے مطابق زلزلہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 2056 ہو گئی ہے، جبکہ 3900 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ بچاؤ و راحت رسانی کے کاموں میں لگے اہلکار منہدم عمارتوں کے ملبہ میں اب بھی تلاشی مہم چلا رہے ہیں۔دریں اثنا مسلمانوں کو اس زلزلے میں بے پناہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بہار انقلاب میانمار مسلم نیٹ ورک نے بتایا ہے کہ جمعہ کی نماز کے دوران میانمار میں آنے والے 7.7 شدت کے طاقتور زلزلے سے 700 سے زائد مسلمان ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا یہ ہلاکتیں سرکاری ہلاکتوں میں شامل ہیں، جو ملک کی فوجی قیادت والی حکومت کے مطابق، دوہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

زیادہ تر ہلاکتیں مساجد میں ہوئیں، مسلمان اس وقت نماز جمعہ میں مصروف تھے ۔سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیو گردش کر رہی ہیں جس میں لوگ مسجد سے باہر بھاگتے ہوئے نظر آ رہے ہیں ۔متعدد مساجد منہدم ہو رہی ہیں۔

نیٹ ورک کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے ایک اہم رکن، ٹون کی نے   بتایا کہ زلزلے نے کافی تباہی مچائی، تقریباً 60 مساجد کو یا تو نقصان پہنچا یا تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ٹون کی نے کہاکہ نماز جمعہ اتحاد کا وقت ہے، لیکن جو ہم نے دیکھا وہ عبادت گاہوں میں تباہی اور جانی نقصان تھا۔ مسلمانوں کو  بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔”

دی اراوڈی نیوز سائٹ کے ذریعے شیئر کی گئی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ زلزلے کے دوران کئی مساجد منہدم ہوتی ہیں، خوفزدہ رہائشی ملبے سے بھاگ رہے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں علاقے میں روانہ کر دی گئی ہیں لیکن سڑک کو نقصان پہنچانے اور آفٹر شاکس کی وجہ سے کوششوں میں رکاوٹ ہے۔