مہا کمبھ بھگدڑ: یوپی حکومت نے مہلوکین کی تعداد چھپائی ،پی یو سی ایل کاالزام

نئی دہلی،14 فروری :۔
پریاگ راج میں چل رہے مہا کمبھ میلہ میں گزشتہ ماہ بھگدڑ میں ہلاکتوں کی تعداد پر اب تک تنازعہ جاری ہے۔اس بھگدڑ کی تحقیقات چل رہی ہے جوڈیشیل تحقیقات بھی جاری ہے اور یو پی حکومت کی جانب سے یو پی پولیس بھی اپنی سطح پر تحقیقات کر رہی ہے مگر اس دوران ہلاکتوں کی تعداد پر اب بھی اتر پردیش کی یوگی حکومت پر سوال کھڑے کئے جا رہے ہیں ۔
اب پیپلز یونین فار سول لبرٹیز (پی یو سی ایل) نے بھی اتر پردیش حکومت پر مہا کمبھ میں حالیہ بھگدڑ میں ہونے والی ہلاکتوں کی حقیقی تعداد کو چھپانے کا الزام لگایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ، پی یو سی ایل نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پی یو سی ایل کی اتر پردیش یونٹ نے اپنی ابتدائی تحقیقات میں پایا ہے کہ اتر پردیش حکومت نے اموات کی حقیقی تعداد کو چھپانے کے لیے کئی طریقے استعمال کیے ہیں۔ لاشوں کو دو مختلف پوسٹ مارٹم مراکز میں بھیجا گیا اور بعض صورتوں میں ان کی برآمدگی کی جگہ اور تاریخ میں ہیرا پھیری کی گئی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ الہ آباد کے سوروپ رانی اسپتال میں پی یو سی ایل کے اراکین نے رجسٹر میں چسپاں نامعلوم مردہ افراد کی تصاویر دیکھی ہیں۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ لاشوں کی حالت سے واضح ہوتا ہے کہ ان میں سے کئی کو کچل دیا گیا تھا۔ لیکن ایک حالیہ نوٹس میں تصاویر لینے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
بیان کے مطابق، ‘پی یو سی ایل اتر پردیش کے پریاگ راج میں مہا کمبھ میلے کے دوران 29 جنوری 2025 کو ہونے والی بھگدڑ پر گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے اور یاتریوں کی موت پر تعزیت کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اتر پردیش حکومت سے شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی سب سے بنیادی آئینی ذمہ داری، جو کہ تمام افراد کے زندگی کے حق کی حفاظت کرنا ہے، ادا کرنے میں کیوں ناکام رہی ہے۔پی یو سی ایل نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم کی سربراہی میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) بھگدڑ کی وجوہات کے بارے میں اپنی تشخیص کو عام کرے۔
قابل ذکر ہے کہ مہا کمبھ میں بھگدڑ کے بعد اتر پردیش حکومت نے مرنے والوں کی جو تعداد جاری کی ہے اسے گمراہ کن بتایا جا رہا ہے۔ بھگدڑ کے تقریباً پندرہ گھنٹے بعد ریاستی حکومت نے کہا تھا کہ 28 جنوری کو دیر گئے سنگم نوز کے علاقے میں ہونے والی بھگدڑ میں 30 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوئے تھے۔
جبکہ اب میڈیا کی مختلف رپورٹس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ بھگدڑ ایک جگہ نہیں بلکہ کئی مقامات پر ہوئی تھی۔ سنگم نوز کے علاوہ جھونسی میں بھی اسی رات بھگدڑ ہوئی تھی، جس کے بارے میں میلے کے ڈی آئی جی ویبھو کرشنا نے کہا کہ،’پولیس کے پاس ایسی کوئی جانکاری نہیں ہے۔’
ظاہر ہے کہ جب پولیس کے پاس اس بات کی کوئی اطلاع نہیں تھی کہ جھونسی کے علاقے میں بھی بھگدڑ ہوئی ہے، توحکومت نے وہاں مرنے والوں کی تعداد بھی نہیں بتائی۔ جھوسی کے علاقے کے عینی شاہدین نے میڈیا کو بتایا کہ وہاں 24 افراد اکی موت ہوئی۔ اس طرح مرنے والوں کی تعداد 54 ہو جاتی ہے۔