مہاراشٹر: ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے پر نابالغ کے والدین گرفتار، دکان منہدم

نئی دہلی ،26 فروری  :۔

ملک گیر سطح پر جہاں عام ہندو شدت پسندوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت عروج پر ہے وہیں حکومت اور انتظامیہ بھی   کارروائی  کرنے میں مستعدی دکھاتی ہے جب معاملہ مسلمانوں کا ہو،کسی بھی طرح کے الزام پر انتظامیہ فوری طور پر گرفتاری کی کارروائی کرتی ہے اور پھر پہلا کام انہدامی کارروائی کا ہوتا ہے۔مہاراشٹر میں ایسا ہی ایک معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ایک نابالغ مسلم  پر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کے الزام میں نہ صرف ملزم کے والدین کو گرفتار کی اگیا بلکہ ان کی دکان بھی توڑ دی گئی ۔

معاملہ مہاراشٹر کے سندھو درگ ضلع کے مالوان قصبے  کا ہے  ایک نابالغ لڑکے کے والدین کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس پر اتوار کو چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کے خلاف ہندوستان کی کرکٹ کی جیت کے بعد "پاکستان زندہ باد” کا نعرہ لگانے کا الزام ہے۔ نابالغ کو آبزرویشن ہوم بھیج دیا گیا ہے۔

پیر کو، مالوان میونسپل کونسل نے خاندان کی اسکریپ کی دکان کو یہ کہتے ہوئے منہدم کر دیا کہ یہ ایک غیر مجاز ڈھانچہ ہے۔ اس دوران خاندان کی ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔

ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا دھڑے سے کڈل کے ایم ایل اے نیلیش رانے نے سوشل میڈیا پر انہدام کی تصاویر پوسٹ کیں۔ "ابھی کے لیے، ہم نے اس کے اسکریپ کے کاروبار کو تباہ کر دیا ہے،  اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ   آخرکار اسے ضلع بد کر  دیا جائے گا۔رانے نے پولیس، میونسپل کونسل اور مالوان لائرز بار ایسوسی ایشن کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مبینہ طور پر اس خاندان کی نمائندگی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق  ایک مقامی باشندے کی شکایت پر پیر کو پولس کیس درج کیا گیا۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ جب لڑکوں کا ایک گروپ ہندوستان کی جیت کا جشن منا رہا تھا، ایک نے "بھارت مخالف” نعرے لگائے، جس سے تصادم شروع ہوگیا۔

اس خاندان پر مذہبی گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے، حملہ کرنے اور قومی یکجہتی کے لیے منفی الزامات لگانے سے متعلق بھارتیہ نیا ئےسنہتا سیکشن کے تحت الزام لگایا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے 13 نومبر کے فیصلے کے باوجود جس میں عدالت عظمیٰ نے کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی پر پابندی عائد کر دی ہے بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں انہدامی کارروائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔