مہاراشٹر:’روایت کی خلاف ورزی’ کا حوالہ دیتے ہوئےہندوؤں کا مذہبی یاترا میں مسلمانوں کے شرکت پر پابندی عائد کی
مہاراشٹر کے پاتھر ڈی تعلقہ میں کمبھ میں پابندی کا حوالہ دیتے ہوئے کنفناتھ مندر کی یاترا میں مسلم کاروباریوں کی شرکت پر پابندی کا فیصلہ

نئی دہلی ،24 فروری :۔
شدت پسند ہندوؤں کی جانب سے اب ہندو مذہبی یاتریاوں یا میلوں میں مسلم کاروباریوں یا تاجروں پر پابندی عائد کیا جانا معمول کی بات ہوتی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں پریاگ راج میں مہا کمبھ میں مسلمان کاروباریوں کے داخلہ پر پابندی عائد کی گئی تھی جس کی مثال دیتے ہوئے اب ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی مسلمانوں کو ہندو مذہبی یاتراؤں اور پروگراموں میں داخلہ پر پابندی عائد کئے جانے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے۔ یہ در اصل مسلمانوں کو اقتصادی طور پر کمزور کرنے کی ایک سازش کا حصہ ہے۔
تازہ معاملہ مہاراشٹر کے پاتھرڈی تعلقہ کا ہے جہاں مقامی دیہاتیوں نے مسلم تاجروں کے کنفناتھ مندر مدھی یاترا میں شرکت پر پابندی لگانے کی قرارداد منظور کی ہے۔ گاؤں والوں کا دعویٰ ہے کہ مسلمان تاجر ان کی روایات پر عمل نہیں کرتے جس سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔
خیال رہے کہ یہ یاترا ہولی پر شروع ہوتی ہے اور گوڑی پڑوا پر ختم ہوتی ہے۔ مقامی رسم و رواج کے مطابق یاترا سے ایک ماہ قبل دیوتا کو تیل لگایا جاتا ہے۔ اس وقت دیہاتی ایک سوگ کی مدت کا مشاہدہ کرتے ہیں، تلے ہوئے کھانے، بستروں اور تقریبات سے گریز کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گاؤں کے سربراہ اور کنیفناتھ مندر کے ٹرسٹ کے چیئرمین سنجے باجی راؤ مارکڈ نے کہا، ’’مسلم تاجر ہماری روایات پر عمل نہیں کرتے۔ "یہ ہمارے لیے ایک حساس وقت ہے۔ ہم نہ تلا ہوا کھانا کھاتے ہیں اور نہ ہی کوئی خوشی کا کام کرتے ہیں لیکن یہ تاجر ہمارے رسم و رواج کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے عقیدت مندوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔
مرکڈ نے اس فیصلے کا موازنہ کمبھ میلے میں مسلم تاجروں پر پابندی سے کرتے ہوئے کہا، ’’جس طرح کمبھ میلہ میں مسلم تاجروں پر پابندی عائد ہے، اسی طرح ہم نے ان پر کنف ناتھ یاترا پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
انہوں نے مسلمان تاجروں پر یاترا کے دوران غیر اخلاقی حرکات کا بھی الزام لگایا۔ "کچھ مسلمان تاجر عقیدت مندوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور غیر قانونی کاروبار چلاتے ہیں۔ ماضی میں کچھ عقیدت مندوں پر حملہ بھی ہوا تھا۔ بہت سے عقیدت مندوں نے پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے ہمیں لکھا، اور ہم نے ان کے خدشات کو دیکھتے ہوئے مذکورہ فیصلہ کیا ہے۔