مودی حکومت نے وقف بل کو ’بُلڈوز‘ کیا، جمہوریت کو نقصان پہنچایا
لوک سبھا میں متنازعہ وقف ترمیمی بل کے پاس ہونے کے بعد میٹنگ میں سونیا گاندھی نے اسے آئین پر حملہ قرار دیا

نئی دہلی ،03 اپریل :۔
متنازعہ وقف ترمیمی بل 2024 کو مرکز کی بی جے پی حکومت نے تمام تر مسلم تنظیموں کی مخالفت کے باوجود ایوان میں پیش کیا اور لوک سبھا سے پاس بھی کر دیا۔ جمعرات کی نصف شب وقف ترمیمی بل کی حمایت میں 288 ممبران پارلیمنٹ نے ووٹ کیا جبکہ اس کی مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔یہ بل آج راجیہ سبھا میں بحث کیلئے پیش کیا گیا جس پر ممبران پارلیمنٹ کا بحث جاری ہے۔ دریں اثنا اپوزیشن کی جانب سے اس بل کی مخالفت اور اس کے مضمرات کا ذکر کر کے مودی حکومت پر حملہ جاری ہے۔
کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے جمعرات کو وقف (ترمیمی) بل کو ہندوستانی آئین پر ایک "جبراً حملہ” قرار دیتے ہوئے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ اسے معاشرے میں "مستقل پولرائزیشن” کے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
سمودھان سدن میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے گاندھی نے کہا کہ سخت مخالفت کے باوجود لوک سبھا کے ذریعے بل کو "بلڈوز” کر دیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ’’مودی حکومت ملک کو ایک ایسی کھائی میں گھسیٹ رہی ہے جہاں ہمارا آئین صرف کاغذوں پر ہی رہ جائے گا، اور ہم جانتے ہیں کہ ان کا ارادہ اس کو بھی منہدم کرنا ہے۔‘‘
گاندھی نے ون نیشن، ون الیکشن بل کو بی جے پی کی جانب سے جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کی مبینہ کوششوں سے بھی جوڑا، سخت مخالفت کا عزم کیا۔
انہوں نے کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ بشمول پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے اور قائد حزب اختلاف راہل گاندھی پر زور دیا، جو میٹنگ میں موجود تھے اور کہا کہ ہمیں مودی حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے، صحیح اور انصاف کے لیے لڑائی جاری رکھنا ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم مودی پر یو پی اے دور (2004–2014) کے دوران اٹھائے گئے "ری برانڈنگ، ری پیکجنگ، اور مارکیٹنگ” کے اقدامات کو ان کی اپنی کامیابیوں کے طور پر پیش کرنے کا الزام لگایا، ان دعوؤں کا مقابلہ کرنے کے لیے عوامی رابطہ مہم چلانے کی بھی اپیل کی۔
لوک سبھا نے وقف ترمیمی بل کو 12 گھنٹے کی طویل بحث کے بعد گزشتہ نصف شب میں منظور کر لیا، اپوزیشن کی تمام ترامیم کو مسترد کر دیا گیا۔ حتمی نتائج کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ یہ بل اب جمعرات کو راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا ور اس پر بحث جاری ہے۔