مظفر نگر کا نام بدل کر لکشمی نگر رکھا جائے، ضلع پنچایت نے تجویز کو منظوری دی
حتمی منظوری کے لئے ریاستی حکومت کو بھیجا گیا،فیروز آباد کا نام بھی چندر نگر رکھنے کی تجویز ارسال

نئی دہلی ،لکھنؤ،03 اپریل :۔
اتر پردیش کی یوگی حکومت میں مسلم نام والے اضلاع اور شہروں کے نام تبدیل کر نے کا سلسلہ جاری ہے۔اب مغربی اتر پردیش میں واقع ایک قدیم اور معروف ضلع مظفر نگر کا نام بدل کر لکشمی نگر رکھا جائے گا کیونکہ ضلع پنچایت نے ضلع کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پاس کر کے اسے منظوری کے لیے ریاستی حکومت کو بھیج دیا ہے۔دریں اثنا فیروز آباد ضلع پریشد نے بھی ریاستی حکومت کو ضلع کا نام بدل کر چندر نگر رکھنے کی تجویز بھی بھیجی۔
اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت، وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں، اکثر ہندو برادری میں شدت پسند ہندو اکثریت کو خوش کرنے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ ریاستی حکومت کا خیال ہے کہ مسلمانوں سے وابستہ ناموں کے ساتھ جگہوں کا نام تبدیل کرنے سے ہندو ووٹروں کی حمایت میں اضافہ ہوگا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت بے روزگاری، مہنگائی اور غربت جیسے بنیادی خدشات کو دور کرنے کے بجائے مذہبی مسائل پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ یوگی حکومت کام اور ترقی کے بجائے لوگوں کو ہندو مسلم اور مسجد مندر کے تنازعہ میں الجھائے ہوئے ہے۔اور بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں تو اس بات کا مقابلہ جاری ہے کہ کون زیادہ مسلمانوں سے نفرت کر سکتا ہے۔
لوگوں کا ماننا ہے کہ مظفر نگر کا نام تبدیل کرنا بی جے پی کی اسی ہندو مسلم منافرت پالیسی کی ایک مثال ہے، جس کا مقصد اہم مسائل سے توجہ ہٹانا اور نوجوانوں کو روزگار اور معاشی ترقی پر توجہ دینے کے بجائے مذہبی سیاست میں شامل کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ضلع کا نام تبدیل کرنے کی تجویز 29 مارچ 2025 کو منعقدہ ضلع پنچایت میٹنگ کے دوران منظور کی گئی تھی۔ اس میٹنگ کی صدارت ضلع پنچایت صدر ڈاکٹر ویرپال ناروال نے کی تھی، اور اس میں یوپی کے وزیر انیل کمار اور ایم پی چندن سنگھ چوہان نے شرکت کی تھی۔ ضلع پنچایت کے ایڈیشنل چیف آفیسر یوگیش کمار نے تجویز پیش کی، جس کے بعد بحث ہوئی۔ ضلع پنچایت کے رکن منوج راجپوت نے تجویز پیش کی کہ مظفر نگر کا نام بدل کر لکشمی نگر رکھا جائے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ نیا نام ضلع کی ترقی کو فروغ دے گا۔ زیادہ تر اراکین نے اس تجویز کی حمایت کی، اگرچہ رکن یونس چودھری نے اس کی مخالفت کی، اور تجویز پیش کی کہ اس طرح کے فیصلے تمام برادریوں کے اتفاق رائے سے کیے جائیں۔ اس کے باوجود یہ تجویز منظور کر لی گئی اور جلد ہی اسے حتمی منظوری کے لیے ریاستی حکومت کو بھیجا جائے گا۔
مظفر نگر کا نام تبدیل کرنے کا دباؤ کوئی علاحدہ واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے جو بی جے پی کے وسیع تر ایجنڈے کے مطابق دکھائی دیتی ہے۔ قانون ساز کونسل کے بی جے پی رکن موہت بینیوال نے پہلے بھی کونسل میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات کی تھی اور فوری کارروائی پر زور دیا تھا۔ اس کے علاوہ کئی ہندو تنظیموں نے تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
قبل ازیں یوپی بی جے پی حکومت نے فیض آباد ضلع کا نام بدل کر ایودھیا ضلع، الہ آباد کا نام بدل کر پریاگ راج، مغل سرائے کا نام پنڈت دین دیال اپادھیائے نگر، فیض آباد جنکشن ریلوے اسٹیشن کا نام ایودھیا کینٹ ریلوے اسٹیشن، الہ آباد ریلوے جنکشن کو پریاگ راج ریلوے جنکشن، اور مغل سرائے ریلوے اسٹیشن کا نام بدل کر دین دیال اپادھیائے اسٹیشن رکھا ہے اور اس طرح کے مسلمانوں سے وابستہ اردو نام والے درجنوں مقامات کے نام تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔