مسلمانوں کے زیر انتظام تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا ،غیر منصفانہ و افسوسناک
ملک میں مسلمانوں کے خلاف حکومتی سطح پر کارروائی پر جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان کا اظہار تشویش

نئی دہلی،27 فروری :
ملک میں بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں مسلمانوں کے زیر انتظام چلنے والی بعض یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنائے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’ یہ انتہائی تاسف و تشویش کی بات ہے کہ بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں ان تعلیمی اداروں کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے جو مسلمانوں کے زیر انتظام چل رہے ہیں۔ نئے نئے بہانے تراش کر کے ان اداروں سے منسلک افراد کو گرفتار کیا جارہا ہے جیسا کہ ابھی حال ہی میں آسام میں ’یو ایس ٹی ایم ‘کے چانسلر محبوب الحق کو آدھی رات کو گرفتار کیا گیا۔ اس سے قبل راجستھان میں مولانا آزاد یونیورسٹی کے چیئر پرسن کو بھی ہراساں کرنے کی کوششیں کی گئی، گلوکل یونیورسٹی کے اثاثوں کو ضبط کیا گیا اور اترپردیش میں محمد علی جوہر یونیورسٹی پر مسلسل کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے ۔ یہ سب اس بات کی واضح علامت ہے کہ مسلمانوں کے زیر نگرانی اعلیٰ تعلیمی مراکز کو خصوصی طور پر نشانہ بنانے کی منصوبہ بند کوشش کی جا رہی ہے جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی قیادت میں جاری تعلیمی ترقیات کی سرگرمیوں کو دبانے کے لیے ان اداروں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایاجا رہا ہے۔ اس غیر منصفانہ رویے کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب ان کارروائیوں کے ساتھ ہی بعض سیاست دانوں کی جانب سے ان اداروں کے لیے بنیاد پرست، دقیانوس جیسے غیر مناسب الفاظ استعمال کرکے ان کی شبیہ کو خراب کیا جاتا ہے۔ ‘‘
جناب ملک معتصم خان نے مزید کہا کہ ’’ حکومتوں کی جانب سے اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف ان یونیورسٹیوں کی ساکھ داغدار ہوتی ہے بلکہ ان میں تعلیم حاصل کر رہے ہزاروں طلباء اور فیکلٹی ممبران کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے ۔ اس سے ملک میں تعلیم کے بنیادی حق اور سب کے لیے مساوی مواقع کی پالیسی کو زک پہنچتی ہے۔ ان یونیورسٹیوں کے خلاف ہو رہی یہ کارروائیاں ہماری جمہوری اقدار کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ہمارے ملک کے آئین میں ذات پات، نسل برادری اور مذہب و ملت سے قطع نظر سب کے ساتھ یکساںسلوک کی تاکید کی گئی ہے۔اگر اس طرح ’ NAAC ‘سے تسلیم شدہ ’ اے ‘ گریڈ کی یونیورسٹیاں سیاسی موقع پرستی اور فرقہ وارانہ تعصب کا شکار ہوتی رہیں تو ملک میں اعلیٰ تعلیم سنگین بحران کا شکار ہو جائے گی۔ ہم عالمی رہنما ’’ وشو گرو‘‘ بننے اور غیر ملکی یونیورسٹیوں کو ہندوستان میں کیمپس کھولنے کی دعوت دینے کی کوششیں کررہے ہیں لیکن اگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ ہمارا یہی سلوک رہا تو ہمارے ان عزائم کو شدید دھچکا لگے گا۔ لہٰذا ہم حکومت سے مسلمانوں کے زیر انتظام اعلیٰ تعلیمی اداروں کو چن چن کر ہدف بنانے کے اس غیر اخلاقی رویے کو سختی سے ترک کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ریاستی حکومتیں ایسی فرقہ وارانہ اقدام، متعصبانہ فیصلے اور ووٹ بینک کی سیاست سے پرہیز کریں گی کیونکہ اس سے ہزاروں طلباء کے تعلیمی مفادات کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے جو کہ ملک کی ترقی اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔