لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا سے بھی وقف بل کو منظوری،صدر جمہوریہ کے پاس بھیجا گیا
راجیہ سبھا میں دیر رات دو بجے کے بعد بل کی حمایت میں 128 اور مخالفت میں95 ووٹ پڑے،صدر جمہوریہ کی منظوری کے بعد یہ بل قانون بن جائے گا

نئی دہلی، 4 اپریل :۔
پارلیمنٹ نے وقف (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری دے دی۔ لوک سبھا میں 12 گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی میراتھن بحث کے بعد اسے راجیہ سبھا میں پاس کیا گیا۔ آدھی رات کے بعد نئی تاریخ (4 اپریل 2025) شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد بل کی حمایت میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے۔ اپوزیشن نے بل میں متعدد ترامیم پیش کیں۔ ایوان نے اسے مسترد کر دیا۔ اب اسے صدر جمہوریہ کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔ یہ بل صدر کی منظوری کے ساتھ ہی قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔ لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا میں بھی بل کی منظوری کے لیے کارروائی آدھی رات کے بعد تک جاری رہی۔
راجیہ سبھا میں وقف (ترمیمی) بل 2025 پر بحث کا جواب دیتے ہوئے مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ وقف بورڈ ایک قانونی ادارہ ہے اور اسے سیکولر ہونا چاہئے۔ پھر بھی ہم نے اس میں غیر مسلموں کی تعداد کو محدود کر رکھا ہے۔ ہم وقف بل سے مسلمانوں کو نہیں ڈرا رہے بلکہ اپوزیشن پارٹیاں انہیں ڈرا رہی ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر مسلمانوں میں زیادہ غریبی ہے تو انہیں غریب کس نے بنایا؟ وزیر اعظم نریندر مودی نے جو سب کا ساتھ، سب کا وکاس کی بات کی ہے، وہی تو آئین کی روح ہے۔ وقف بورڈ غیر آئینی نہیں ہے۔ بل پر بحث کے دوران اپوزیشن کی زیادہ تر نشستیں خالی دیکھی گئیں۔ اس دوران لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا میں بھی وزیر داخلہ امت شاہ حکومت کی طرف سے مورچہ سنبھالتے نظر آئے۔
انہوں نے بحث کے دوران کئی بار نہ صرف کھڑے ہو کر مداخلت کی بلکہ اپوزیشن کو آئینہ بھی دکھایا۔ انہوں نے کانگریس کے ناصر حسین کو روکتے ہوئے کہا کہ اب تک ٹریبونل کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ہم اسے نئے بل میں لیکر آئے ہیں۔ بی جے پی کے صدر اور ایوان کے لیڈر جے پی نڈا نے کہا کہ کانگریس نے اپنے دور حکومت میں مسلم خواتین کو دوسرے درجے کا شہری بنایا تھا۔
قبل ازیں راجیہ سبھا میں بل پیش کرتے ہوئے رجیجو نے اپوزیشن کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ مسلمانوں کے حقوق چھینے جا رہے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس قانون کا مقصد مسلم خواتین کو بااختیار بنانا اور تمام مسلم کمیونٹیز کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ یہ بل ہرگز مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ ان کی بہتری کے لیے ہے۔ یہ بل غریب اور پسماندہ مسلمانوں اور ان کے خاندانوں کی ترقی کا راستہ کھولنے والا ہے۔ اسی لیے اس کا نام امید رکھا گیا ہے۔ انہوں نے امید کا پورا نام بھی پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے کہا کہ ویسے بھی جب وزیر اعظم نریندر مودی ملک کو ترقی دینے کی بات کرتے ہیں تو مسلمان ان سے مختلف نہیں ہیں۔