
غزہ میں جہنم کا دروازہ کھول دوں گا
جنگ بندی معاہدہ کے درمیان اسرائیلی وزیر اعظم نے نیتن یاہو نے حماس کو نیست و نابود کرنے کی دی دھمکی
نئی دہلی ،17فروری :۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی جاری ہے۔ رفتہ رفتہ دونوں طرف سے قیدیوں کا تبادلہ بھی ہو رہا ہے۔ لیکن اس درمیان اسرائیلی وزیر اعظم اور امریکی صدر کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آ رہے ہیں جو اس معاہدے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔ ایک بار پھر اسرائیلی وزیر اعظم نے غزہ میں دھمکی دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اتوار کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک ایسا بیان دے دیا ہے جس سے حالات سدھرنے کے بجائے مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ نیتن یاہو نے وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حماس نے سبھی قیدیوں کو رہا نہیں کیا تو وہ غزہ میں ‘جہنم کا دروازہ’ کھول دیں گے۔ یروشلم میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد انہوں نے یہ بیان دیا ہے۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ غزہ کو لے کر اسرائیل-امریکہ کی مشترکہ حکمت عملی ہے، جسے ہم عوام کے ساتھ ساجھا نہیں کر سکتے۔ ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ ‘جہنم کا دروازہ’ کب کھولیں جائیں گے لیکن اگر ہمارے سبھی لوگوں کو رہا نہیں کیا گیا تو وہ یہ دروازہ یقینی طور پر کھول دیں گے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ حماس کی فوجی طاقت اور غزہ میں اس کی ممکنہ حکومت کو نیست و نابود کردیں گے۔
اس کے ساتھ ہی اسرائیلی وزیر اعظم نے ہفتہ کو تین یرغمالیوں کی رہائی میں مدد کے لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ہمارے ساتھ پوری طرح سے تعاون کر رہی ہے۔