غزہ : اسرائیلی جارحیت میں اب تک 50 ہزار سے زائد اموات

حالیہ دنوں میں جنگ بندی کے بعد  اسرائیلی حملوں میں شدت آئی ہے

غزہ ،24 مارچ :۔

غزہ ایک بار پھر جل رہا ہے۔رمضان کے دوران بھی انہیں راحت نہیں ہے اور اسرائیلی جارحیت پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔اسرائیل اور حماس کے درمیان تقریباً 6 ہفتہ تک جنگ بندی رہی۔ اس دوران اسرائیل نے فلسطین کے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کیا تو تقریباً 150 یرغمالیوں کو حماس نے بھی چھوڑا۔   اس درمیان جنگ بندی آگے بڑھانے پر کوئی بات نہیں بن سکی تو اسرائیل نے پھر سے اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ گزشتہ تین سے چار دنوں میں ہی اسرائیل نے غزہ میں تابڑتوڑ حملے کیے ہیں جن میں 500 سے زیادہ  فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔جنگ بندی کے بعد اپنے گھروں کو لوٹے فلسطینی ابھی چھ ہفتوں میں  ٹھیک سے گھروں میں آباد بھی نہیں ہوئے تھے کہ اسرائیلی حملے نے انہیں پھر سے چلا وطنی پر مجبور کر دیا ۔اب پھر سے غزہ لوٹے مکین اپنی جان بچانے کیلئے در بدر بھٹک رہے ہیں۔ اتوار کو ہی اس نے غزہ پر پھر سے کئی فضائی حملے کیے جس میں 51 لوگ مارے گئے۔ ان حملوں میں اسرائیل کا ایک اعلیٰ کمانڈر بھی مارا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اب تک  اسرائیل کے حملوں میں اتوار کو 51 لوگ ہلاک ہوئے ہیں جن میں اسرائیل کے سیاسی وِنگ کا رکن اسمائیل برہوم بھی شامل ہے۔ وہ خان یونس شہر کے ناصر اسپتال میں علاج کرا رہا تھا۔ اسی دوران اسرائیل نے حملہ کیا جس میں اس کی موت ہو گئی۔ اس کے علاوہ لبنان میں بھی اسرائیلی حملے کیے ہیں، جن میں 8 لوگ مارے گئے ہیں۔ حالانکہ لبنان میں فعال حزب اللہ نے اسرائیل کے حملے کی بات سے انکار کیا ہے۔ دراصل تقریباً ڈیڑھ سال تک اکیلے حماس سے لڑنے کے بعد 4 مہینوں سے اسرائیل نے حزب اللہ کو بھی نشانے پر لینا شروع کیا ہے۔ فی الحال اسرائیل کی طرف سے غزہ میں اور فوجی بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

غزہ کی ہیلتھ منسٹری کا کہنا ہے کہ فلسطین میں اب تک اسرائیلی حملوں میں کُل 50 ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔ یہی نہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ اعداد شمار اس سے کہیں زیادہ کا ہی ہے کیونکہ سبھی لاشوں کی تو گنتی تک نہیں ہو سکی ہے۔