ظفرعلی ایڈوکیٹ کی رہائی تک سنبھل کے وکلاء کا ہڑتال کا اعلان

نئی دہلی ،سنبھل،02 اپریل :۔

اترپردیش کے سنبھل میں جامع مسجد کمیٹی کے صدر ظفر علی ایڈوکیٹ کی گرفتاری پر شہر کے وکلاء میں غصہ ہے۔ منگل کو وکلا نے پولیس کے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔ انہوں نے پولیس پر غلط کارروائی کرنے کا الزام بھی لگایا۔ وکلا نے متفقہ طور پر کہا کہ ظفر صدیقی کے باہر آنے تک احتجاج اور قلم بند ہڑتال جاری رہے گی۔

احتجاج کرنے والے ایڈووکیٹ محمد اسلام کا کہنا تھا کہ ظفر علی کے بھائیوں کے خلاف بغیر کسی نوٹس کے دفعہ 135 اور 126 کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ یہ ان کے خلاف انتقامی کارروائی ہے۔ انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ وکلاء کے خلاف کارروائی کی کیا ضرورت ہے؟ اب عدالت کے احاطے میں مظاہرہ کیا گیا ہے۔ادھر احتجاج کرنے والے ایڈووکیٹ شکیل احمد نے کہا کہ ہمارے سینئر ایڈووکیٹ ظفر علی کو پولیس نے غلط طریقے سے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔ وکلاء میں ان کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بار کونسل ممبران نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک ظفر جیل کے اندر رہیں گے، بار کے وکیل عدالت کے اندر نہیں جائیں گے۔ کام کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ جس دن ظفر باہر آئے گا، اس دن سے کام دوبارہ شروع ہو جائے گا، تب تک ہماری قلم بند ہڑتال اور کام بند رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ احتجاج کتنے دن جاری رہے گا تاہم ظفر کے سامنے آنے تک ہڑتال جاری رہے گی۔ ایڈووکیٹ شکیل نے کہا کہ انتظامیہ پہلے ہی ظفر ایڈوکیٹ کو غلط طریقے سے جیل بھیج چکی ہے۔ آج ان کے بھائیوں اور بھتیجوں کے خلاف نوٹس جاری کر کے پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ ظفر بھائی کے پورے خاندان کو ہراساں کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔