سنبھل تشدد کی خفیہ رپورٹ کا مخصوص حصہ لیک ، مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر ہنگامہ

اکھلیش ترپاٹھی
لکھنؤ ،31 اگست :۔
نومبر 2024 کے سنبھل تشدد پر بنائے گئے عدالتی کمیشن کی خفیہ رپورٹ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو پیش کیے جانے کے چند گھنٹے بعد ہی میڈیا میں لیک ہو گئی۔ لیکن اس میں صرف وہی حصے لیک کئے گئے، جن میں مسلمانوں کو تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ اس سلیکٹیو لیک نے ایک سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے اور فرقہ وارانہ پولرائزیشن پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
450 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ الہ آباد ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس دیویندر کمار اروڑہ کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے نو ماہ کی تحقیقات کے بعد تیار کی ہے۔ کمیشن کے ارکان ریٹائرڈ آئی اے ایس امیت موہن اور ریٹائرڈ آئی پی ایس اروند کمار جین تھے۔ یہ رپورٹ 28 اگست 2025 کو وزیر اعلیٰ کو پیش کی گئی تھی۔ پرنسپل سکریٹری (ہوم) سنجے پرساد نے رپورٹ کو "خفیہ” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسے پہلے کابینہ میں رکھا جائے گا اور پھر اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ لیکن اگلے ہی دن اخبارات میں رپورٹ کے اقتباسات شائع ہوئے، جن میں صرف مسلم لیڈروں اور تنظیموں کو تشدد کی سازش کرنے والوں کے طور پر نامزد کیا گیا۔
لیک شدہ اقتباسات کے مطابق، کمیشن نے سنبھل کے ایم پی ضیاء الرحمن برق، سابق ایم ایل اے اقبال محمود کے بیٹے سہیل اقبال اور جامع مسجد کمیٹی پر تشدد بھڑکانے، ہجوم کو جمع کرنے اور غیر ملکی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگایا ہے۔ رپورٹ میں تشدد کو مبینہ طور پر آبادیاتی تبدیلی، "خوش کرنے کی سیاست”، "لو جہاد” اور "غزوہ ہند” جیسے بیانیے سے بھی جوڑا گیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ میڈیا رپورٹس میں انتظامیہ اور پولیس کے کردار کا کوئی ذکر نہیں تھا، حالانکہ یہ مانا جاتا ہے کہ کمیشن نے ان سے بھی پوچھ گچھ کی تھی۔ مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے صرف اقتباس کے افشا ہونے سے اس الزام میں شدت آگئی ہے کہ یہ رپورٹ مسلم کمیونٹی کو بدنام کرنے اور حکومت اور انتظامیہ کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جان بوجھ کر منتخب طور پر لیک کی گئی ۔
سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے اس لیک کی مذمت کی ہے۔ سابق آئی پی ایس افسر اور آزاد ادھیکار سینا کے صدر امیتابھ ٹھاکر نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا، "خفیہ رپورٹ کے منتخب حصوں کو لیک کرنا انتہائی قابل اعتراض ہے۔ اس سے سماجی ہم آہنگی کو ٹھیس پہنچتی ہے اور سیاسی نیت پر شکوک پیدا ہوتے ہیں۔
اپوزیشن نے بھی اس معاملے پر حکومت کو گھیرا۔ ایس پی صدر اکھلیش یادو نے بی جے پی پر رپورٹ کو پروپیگنڈہ کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا، "حکومت اعتماد پیدا کرنے، ہم آہنگی برقرار رکھنے اور روزگار فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ہندوؤں کے اخراج کی یہ کہانی دراصل حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس لیک نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ اہم ترین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ خفیہ رپورٹ کو لیک کرنے کی اجازت کس نے دی؟ مسلمانوں پر الزام لگانے والے ہی حصے کیوں افشاں ہوئے؟ اور سنبھل تشدد کو یک طرفہ انداز میں پیش کرنے سے سیاسی فائدہ کس کو مل رہا ہے؟
فی الحال حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا۔
(بشکریہ:انڈیا ٹو مارو)