بھارت کو ہندو راشٹر مانیں گے تو آپ کا فائدہ نہ مانیں تو آپ کا نقصان

آرایس ایس کی صد سالہ تین روزہ تقریبات کے آخری دن آر ایس ایس سر براہ موہن بھاگوت کا مسلمانوں کو مشورہ،مسلمانوں کو یہ خدشہ ترک کرنا ہو گا کہ ساتھ چلنے سے ان کا اسلام ختم ہو جائے گا،کاشی متھرا تحریک میں سنگھ کے براہ راست شمولیت سے انکار

دعوت ویب ڈیسک

نئی دہلی، 29 اگست:۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے صد سالہ جشن کی مناسبت سے وگیان بھون میں منعقد تین روزہ لیکچر سیریز کے آخری دن آر ایس ایس  کے سر سنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت نے مختلف سوالات کے جواب دیئے۔ اور خاص طور پر مسلمانوں ،اسلام اور عیسائیوں کے تعلق سے کئی اہم تبصرے بھی کئے ۔دریں اثنا انہوں نے ملک میں شدت پسندہندو تنظیموں کی جانب سے ہمہ وقت دیرینہ مطالبہ ہندو راشٹر  اور اکھنڈ بھارت پر بھی کھل کر بات کی اور کہا کہ ہندوستان ہندو راشٹر ہی ہے ،یہ سب کا احساس ہے اس کیلئے کسی سرکاری اعلان کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ”بھارت اکھنڈ (ناقابل تقسیم)ہے، یہ زندگی کی ایک حقیقت ہے۔  اکھنڈ بھارت صرف سیاست نہیں ہے، بلکہ لوگوں کا اتحاد ہے۔ جب یہ احساس بیدار ہوگا، تو ہر کوئی خوش اور پرامن رہے گا۔انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے اس پر یقین نہ رکھنے والوں کیلئے نقصاندہ قرار دیا اور کہا کہ  رشی منیوں  نے پہلے ہی ہندو راشٹر قرار دے دیا ہے۔ یہ کسی سرکاری یا رسمی اعلان کا محتاج نہیں، یہ ایک سچائی ہے۔ اگر آپ اسے مانیں گے تو آپ کا فائدہ ہے، نہ مانیں تو آپ کا نقصان ہے۔

اس موقع پر انہوں نے آر ایس ایس کے تعلق سے سماج میں پھیلی منفی تصورات پر بھی گفتگو کی اور  کہا کہ سنگھ کے بارے میں یہ تصور غلط ہے کہ وہ کسی کا مخالف ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد اور ثقافت یکساں ہے۔ پوجا -عبادت کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے ،لیکن پہچان ایک ہے۔ بین المذاہب اعتماد قائم کرنے کی ضرورت تمام فریقوں میں ہے۔ خاص طور پر مسلمانوں کے تعلق سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو یہ خدشہ ترک کرنا ہو گا کہ ساتھ چلنے سے ان کا اسلام ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم خواہ عیسائیت یا اسلام کے پیروکار ہو سکتے ہیں لیکن ہم یورپی اور عرب نہیں ہیں اور ان مذاہب کے رہنماؤں کو اپنے لوگوں کو یہ بات سکھانی چاہیے۔

آبادی پر کنٹرول اور ہم دو ہمارے دو کے نظریہ پر تبصرہ کرتے ہوئے  شرح پیدائش میں توازن برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ملک کے مفاد میں ہر خاندان میں تین بچے پیدا ہونے چاہئیں اور خود کو اس تک محدود رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ” آبادی قابو میں بھی رہے اور مناسب بھی ،اس کے لئے نئی نسل کو تیار کرناہو گا۔“

متھرا اور کاشی تنازعات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متھرا اور کاشی کے لیے ہندو سماج کے جذبات کا احترام ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ رام مندر تحریک میں سنگھ نے سرگرم حصہ لیا تھا، لیکن اب کسی اور تحریک میں تنظیم براہِ راست شامل نہیں ہوگی۔ مگر انہوں نے سویم سیوکوں کو آزادی دی ہے کہ وہ تحریک کا حصہ بن سکتے ہیں ۔

hacklink panel |
betorder giriş |
güncel bahis siteleri |
casinolevant |
hacklink panel |
sekabet giriş |
2025 yılının en güvenilir deneme bonusu veren siteler listesi |
Deneme Bonusu Veren Siteleri 2025 |
deneme bonusu veren siteler |
deneme bonusu veren siteler |
taksimbet giriş |
betpas giriş |
bahis siteleri |
ekrem abi siteleri |
betebet giriş |
gamdom |
gamdom |
gamdom giriş |
gamdom |
betsat |
ronabet giriş |
truvabet |
venüsbet giriş |
truvabet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
hacklink panel |
betorder giriş |
güncel bahis siteleri |
casinolevant |
hacklink panel |
sekabet giriş |
2025 yılının en güvenilir deneme bonusu veren siteler listesi |
Deneme Bonusu Veren Siteleri 2025 |
deneme bonusu veren siteler |
deneme bonusu veren siteler |
taksimbet giriş |
betpas giriş |
bahis siteleri |
ekrem abi siteleri |
betebet giriş |
gamdom |
gamdom |
gamdom giriş |
gamdom |
betsat |
ronabet giriş |
truvabet |
venüsbet giriş |
truvabet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |
Altaybet |