اعظم خان کی مشکلات میں مزید اضافہ جوہر ٹرسٹ سے 550 کروڑ کی وصولی کا حکم
انکم ٹیکس محکمہ نے وصولی کا یہ فرمان یونیورسٹی کی تعمیر میں کیے گئے مبینہ بے نامی سرمایہ کاری کی بنیاد پر جاری کیا

نئی دہلی ،لکھنؤ،04 اپریل :۔
سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اور جیل میں بند اعظم خان اتر پردیش کی یوگی حکومت کیلئے مشق ستم بنے ہوئے ہیں ۔ متعدد بیماری اور دیگر جسمانی بیماریوں کے باوجود ان کی مشکلات کم نہیں ہو رہی ہیں ۔اس بار معاملہ انکم ٹیکس محکمہ سے جڑا ہے، جس نے اعظم خان کے جوہر ٹرسٹ سے 550 کروڑ روپے وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ وصولی یونیورسٹی کی تعمیر میں کیے گئے مبینہ بے نامی سرمایہ کاری کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔
تقریباً ڈیڑھ سال قبل انکم ٹیکس محکمہ نے اعظم خان اور جوہر ٹرسٹ کے دیگر ارکان کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے تھے۔ تفتیش کے دوران اس بات کے شواہد ملے کہ یونیورسٹی کی تعمیر میں بے نامی سرمایہ لگایا گیا ہے۔ محکمہ نے سنٹرل پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (سی پی ڈبلیو ڈی) سے جوہر یونیورسٹی کی تعمیر پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ لگانے کو کہا تھا، جس کے مطابق اس پر تقریباً 450 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ تاہم، ٹرسٹ کے بینک کھاتوں میں صرف 100 کروڑ روپے کی تفصیلات موجود تھیں، باقی 350 کروڑ روپے کا کوئی واضح حساب کتاب نہیں ملا۔
واضح رہے کہ جوہر یونیورسٹی کی بنیاد اس وقت رکھی گئی تھی جب ملائم سنگھ یادو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ تھے۔ اعظم خان نے اس یونیورسٹی کو اقلیتی تعلیمی ادارے کے طور پر ترقی دینے کی کوشش کی تھی، مگر وقت کے ساتھ یہ متعدد تنازعات میں گھر گئی۔
انکم ٹیکس محکمہ نے جوہر ٹرسٹ کے اکاؤنٹس، تعمیراتی لاگت اور دیگر مالی معاملات کی باریک بینی سے جانچ کی، جس کے بعد بے نامی سرمایہ کاری کا شبہ مضبوط ہوا۔ اسی بنیاد پر محکمہ نے 550 کروڑ روپے کی وصولی کا نوٹس جاری کیا ہے۔
واضح رہے کہ اعظم خان اکتوبر 2023 سے ہر دوئی جیل میں قید ہیں۔ ان پر زمینوں پر ناجائز قبضے، مالی بے ضابطگیوں اور دیگر مقدمات درج ہیں۔ ان کے بیٹے عبداللہ اعظم سمیت جوہر ٹرسٹ کے دیگر افراد بھی اس معاملے میں شامل بتائے جا رہے ہیں۔ یہ معاملہ نہ صرف اعظم خان بلکہ سماج وادی پارٹی کے لیے بھی ایک بڑا سیاسی دھچکہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اتر پردیش کی سیاست میں اعظم خان ایک مضبوط مسلم رہنما مانے جاتے ہیں، مگر قانونی معاملات کے سبب ان کی سیاسی حیثیت متاثر ہو رہی ہے۔