احمد آباد کے گومتی پور میں بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائی ،متعدکئی مسلم خاندان مشکلات کا شکار

نئی دہلی ،27 فروری :۔
احمد آباد گجرات کے گومتی پور علاقے میں 22 فروری کو احمد آباد میونسپل کارپوریشن (اے ایم سی) کی طرف سے سڑک کو چوڑا کرنے کے لیے چلائی گئی انہدامی مہم کے بعد بہت سے مسلم خاندان پریشانی میں ہیں۔توڑ پھوڑ کے نتیجے میں 160 عمارتیں تباہ ہوئیں، جن میں دو مذہبی عمارتیں بھی شامل تھیں، جس کے نتیجے میں مقامی باشندوں نے احتجاج کیا۔
مقامی باشندوں جن میں زیادہ تر کم آمدنی والے خاندان ہیں، نے حکام کی من مانی اور غیر حساس کارروائی پر اپنے غصے کا اظہار کیا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایک مقامی رہائشی نے کہا، ’’وہ بغیر کسی پیشگی اطلاع یا نوٹس کے ہمارے مکانوں کو مسمار کر دیتے ہیں۔ خاص طور پر چھوٹے بچوں کے ساتھ؟” ایک اور متاثرہ نے کہا کہ ترقی کسی کی تباہی کی قیمت پر نہیں ہونی چاہئے۔
جیسے جیسے رمضان کا مقدس مہینہ قریب آرہا ہے، بہت سے رہائشیوں نے اس کے ان کی روزمرہ کی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔ توڑ پھوڑ سے پریشان ایک بوڑھے رہائشی نے پوچھا، ’’اس توڑ پھوڑ سے ہم رمضان کے روزے کیسے رکھیں گے؟ ہم اپنی نماز کیسے پڑھیں گے؟
گومتی پور کے کونسلر اقبال شیخ کے مطابق بغیر کسی پیشگی اطلاع کے مسماری کی گئی جس کی وجہ سے وہاں رہنے والوں کو تیاری کا موقع نہیں ملا۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مظاہرین کو پولیس نے حراست میں لے لیا ۔ تاہم مقامی حکام کا کہنا ہے کہ انہدام سے قبل نوٹس جاری کیے گئے تھے۔
احمد آباد ایسٹ زون کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار خودی داس چوہان نے بتایا کہ 15.25 میٹر چوڑی سڑک کو 30.50 میٹر تک بڑھایا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے 45 رہائشی اور 115 کمرشل ڈھانچے کو گرانا ضروری تھا۔
اس واقعے نے خاص طور پر سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کے تناظر میں اس طرح کی مسماریوں کی قانونی حیثیت اور انصاف کے حوالے سے اہم خدشات کو جنم دیا ہے۔ گزشتہ سال 13 نومبر کو عدالت نے ‘بلڈوزر جسٹس’ کو ‘مکمل طور پر غیر آئینی’ قرار دیا تھا۔بنچ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ جائیداد کو من مانی طور پر منہدم نہیں کیا جا سکتا اور مناسب طریقہ کار کی پیروی کی جانی چاہیے۔
یہ واقعہ ترقی اور شہری حقوق کے درمیان توازن پر جاری بحث کو نمایاں کرتا ہے، خاص طور پر پسماندہ کمیونٹیز میں۔ مناسب قانونی پروٹوکول پر عمل نہ کرنے سے عوام میں غم و غصہ پیدا ہوا ہے اور حکام سے زیادہ شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔