گجرات کا تعلیمی ماڈل،ایک کمرے میں چل رہے ہیں 300 سے زیادہ سرکاری اسکول

 محکمہ تعلیم میں 14سو سے زیادہ آسامیاں خالی،اسمبلی میں کانگریس ایم ایل اے کریٹ پٹیل کے ذریعہ پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر اتعلیم کا جواب،  گجرات ماڈل کے دعوے پر اٹھے سوال  

نئی دہلی،22فروری :۔

گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے نریندر مودی جب 2014 میں ملک کے وزیر اعظم بن گئے تو بی جے پی نے پورے ملک میں گجرات ماڈل کا ڈھنڈورہ پیٹا اور گجرات ریاست کو ترقیاتی ماڈل کے ایک مثال کے طو ر پر ملک کے سامنے پیش کر کے لوگوں سے ووٹ مانگے۔مگر آج وہی گجرات تعلیمی لحاظ سے کس قدر پستی کا شکار ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ  گجرات حکومت میں کل 341 سرکاری پرائمری اسکول ایک کمروں میں چل رہے ہیں اور دسمبر 2023 تک محکمہ تعلیم میں 1,400 سے زیادہ آسامیاں خالی تھیں۔

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گجرات ریاست تعلیمی میدان میں کس پائدان پر موجود ہے۔گجرات کے وزیر تعلیم کبیر دینڈور نے بجٹ اجلاس کے دوران کانگریس ایم ایل اے کریٹ پٹیل کے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں یہ جانکاری دی۔

 

کانگریس ایم ایل اے پٹیل نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت کے تحت ریاست گجرات میں تعلیم کا معیار تیزی سے گرا ہے اور ریاست دیگر ریاستوں کے مقابلے میں پیچھے ہے۔

واضح رہے کہ گجرات حکومت نے منگل کو ریاستی اسمبلی میں کانگریس کے سوال پر یہ معلومات دی کہ ریاست میں کل 341 سرکاری پرائمری اسکول ایک کمرے میں چلائے جاتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ محکمہ تعلیم میں انتظامی افسران کی 1400 سے زائد آسامیاں دسمبر 2023 تک خالی پڑی تھیں۔

یہ اعداد و شمار وزیر تعلیم کبیر دینڈور نے بجٹ اجلاس کے سوال کے دوران کانگریس ایم ایل اے کریت پٹیل کے پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں پیش کئے۔

گجرات ایجوکیشن سروس کیڈر کے کلاس 1 اور کلاس 2 افسران کی خالی آسامیوں کے بارے میں ایم ایل اے پٹیل کی طرف سے اٹھائے گئے ایک اور سوال کے جواب میں، ڈنڈور نے کہا کہ 31 دسمبر 2023 تک 781 آسامیاں بھری گئی تھیں، جب کہ 1459 عہدے خالی تھے۔

 گجرات حکومت نے منگل کو ریاستی اسمبلی میں کانگریس کے سوال پر یہ معلومات دی کہ ریاست میں کل 341 سرکاری پرائمری اسکول ایک کمرے میں چلائے جاتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ محکمہ تعلیم میں انتظامی افسران کی 1400 سے زائد آسامیاں دسمبر 2023 تک خالی پڑی تھیں۔

پٹیل نے دعویٰ کیا، ”بی جے پی حکومت صرف تشہیر اور گجرات کو ایک ماڈل ریاست کے طور پر پیش کرنے میں  مصروف ہے  ، جبکہ حقیقت کچھ اور ہے۔ 2023 کی پرفارمنس گریڈنگ انڈیکس رپورٹ کے مطابق، گجرات کے پرائمری اسکولوں میں پڑھنے والے تقریباً 25 فیصد بچے گجراتی نہیں پڑھ سکتے، جب کہ 47.20 فیصد انگریزی نہیں پڑھ سکتے۔ ”

اپنے جواب میں وزیر نے کہا کہ ان خالی آسامیوں کو پروموشن اور براہ راست بھرتی کے ذریعے جلد از جلد پُر کیا جائے گا۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ ان اسکولوں میں مرحلہ وار نئی کلاسیں بنائی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے اب تک 65,000 سے زیادہ اسمارٹ کلاس روم بنائے جا چکے ہیں اور مزید 43,000 زیر تعمیر ہیں۔انہوں نے کہا، ‘مشن اسکول آف ایکسی لینس پروجیکٹ کے تحت، ہم نے 2023-24 میں 15,000 کلاس رومز تعمیر کیے ہیں، جب کہ مزید 15,000 کلاس رومز کی تعمیر جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق، وزیر نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی کوششوں کی وجہ سے، پرائمری اسکولوں میں ڈراپ آؤٹ ریشو 2022-23 میں 37.22 فیصد سے کم ہو کر 2.68 فیصد پر آ گیا۔

انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے سال 2023-24 میں کل 22,349 ودیہ سہائک اور گیان سہائک (کنٹریکٹ پر اساتذہ) کی تقرری کی گئی ہے۔