’’ملک کو متحد رکھنے کے لیے تمام برادریوں کا احترام اور رواداری ضروری ہے‘‘، الہ آباد ہائی کورٹ نے متھرا-ورنداون میں گوشت پر پابندی کے خلاف دائر درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا

نئی دہلی، اپریل 19: الہ آباد ہائی کورٹ نے پیر کو کہا کہ ملک کو متحد رکھنے کے لیے تمام برادریوں کے لیے رواداری اور احترام بالکل ضروری ہے۔

لائیو لاء کے مطابق جسٹس پرتنکر دیواکر اور آشوتوش سریواستو کی بنچ نے کہا ’’یہ ہمارے بانی باپ دادا کی دانش مندی کے سبب ہے کہ ہمارے پاس ایک ایسا آئین ہے جو سیکولر ہے…یہ ہندوستان کا آئین ہے جو تمام تنوع کے باوجود ہمیں ایک ساتھ رکھتا ہے، کیوں کہ آئین ملک میں تمام برادریوں، فرقوں، لسانی اور نسلی گروہوں وغیرہ کو یکساں احترام دیتا ہے۔‘‘

عدالت نے متھرا اور ورنداون میں گوشت اور شراب کی فروخت پر پابندی لگانے کے اترپردیش حکومت کے فیصلے کے خلاف سماجی کارکن شاہدہ کی طرف سے دائر درخواست کو مسترد کرتے ہوئے یہ مشاہدہ کیا۔

ستمبر میں متھرا-ورنداون میونسپل کارپوریشن کے تحت 22 وارڈوں میں گوشت اور شراب کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی تھی جب اتر پردیش حکومت کے ایک نوٹیفکیشن نے انھیں مقدس زیارت گاہوں کے طور پر نشان زد کیا تھا۔

ہائی کورٹ کے سامنے اپنی درخواست میں سماجی کارکن نے دعوی کیا تھا کہ حکومت کی طرف سے عائد پابندیوں کی وجہ سے لوگ نہ تو نان ویج کھانا کھا سکتے ہیں اور نہ ہی گوشت کا کاروبار کر سکتے ہیں۔

اس نے یہ بھی دلیل دی کہ یہ پابندی آئین کی دفعہ 19 (1) (جی) (کسی بھی پیشے کو اپنانے کی آزادی) اور دفعہ 21 (زندگی اور ذاتی آزادی کے تحفظ) کی خلاف ورزی کرتی ہے۔

دوسری طرف اتر پردیش حکومت نے عدالت کو بتایا کہ متھرا اور ورنداون بڑی تاریخی اور مذہبی اہمیت کے حامل اہم مقامات ہیں۔ ریاست نے کہا کہ یہ پابندی شہر کے صرف 22 وارڈوں میں ان کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے لگائی گئی ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ وہ درخواست کو مسترد کر رہی ہے کیوں کہ درخواست گزار نے ریاستی حکومت کی طرف سے عائد پابندی کو براہ راست چیلنج نہیں کیا تھا۔

ججز نے مزید کہا کہ درخواست گزار کی طرف سے بنیادی حقوق کی بعض خلاف ورزیوں کی نشان دہی بھی کی گئی تھی، لیکن ’’حیرت انگیز طور پر رٹ پٹیشن میں کسی ریلیف کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔‘‘