ہفت روزہ دعوت – شمارہ 17 تا 23 اکتوبر 2021

مشمولات

اہم ترین

مسلم دنیا میں تعلیم کا دوبارہ ظہور۔ امید افزا تبدیلی کی دستک

ڈاکٹر محمد اقتدار حسین فاروقی تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور اعلیٰ تعلیم غربت کے خاتمہ، مشترکہ خوشحالی کے فروغ اور سماج کو اپنے وقت کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے طاقتور بنانے ایک طاقتور ہتھیار ہے۔ اس بنیادی حقیقت کا مسلم امت کو عہد وسطیٰ میں جو اسلامی تاریخ کا سنہرا دور تھا گہرا ادراک حاصل تھا۔ حصول تعلیم مسلمانوں کے…
مزید پڑھیں...

اداریــــہ

خون ناحق چاہے کسی کا بھی بہے تکلیف دہ ہوتا ہے۔پچھلے دنوں مرکز کے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر میں وہاں کی اقلیتوں کے چار افراد کے علاوہ مزید دو تین شہریوں کو سر عام جس طرح گولیوں سے بھون کر ہلاک کردیا گیا اس نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہمالیائی ریاست کے شہریوں پر یوں بھی دوہری مار پڑ رہی ہے۔ ایک جانب انتہا پسندی اور دہشت گردی ہے تو…
مزید پڑھیں...

علاج میں آسانی کے لیے ’ڈیجیٹل ہیلتھ مشن‘ اچھی پہل!

ابھی تک ہمارے ملک میں ڈیٹا کے تحفظ پر کوئی قانون نہیں ہے لہذا اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مریضوں کی معلومات کا افشا نہیں ہوگا ۔ اسی لیے اس پروگرام کو ملک گیر پیمانے پر کلی طور پر نافذ کرنے سے پہلے مہینوں تک پالیسی سازوں کو مذکورہ چیلنجز کی حساسیت کو سامنے رکھ کر کمیوں اور خامیوں کو دور کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں...

آسام:بے زمینوں کی زمین پر چند لمحات

علاقہ کے کئی افراد کے ساتھ بات چیت کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ پولیس فائرنگ اور شہریوں پر بے لگام ریاستی تشدد کی مناسب تحقیقات کرائی جانی چاہیے۔ خاطیوں کے خلاف سخت اقدام لازماً کیا جائے جنہوں نے بے قصوروں پر تشدد کیا ہے۔ آسام کے بنگالی مسلمانوں کے خلاف سابق میں پیش آئے تقریباً تمام ہی واقعات میں خاطیوں کو قصور وار قرار نہیں دیا گیا۔ ان…
مزید پڑھیں...

نظامِ انصاف، سپریم کورٹ، حکومت اور جمہور

اہم مسئلہ یہ ہے کہ عدالت کا وقار جو مسلسل مجروح ہورہا ہے اس کا ازالہ کیوں کر ہوگا؟ اس کے لیے عدلیہ کو دکھانا ہوگا کہ اس میں وہ قوت ہے کہ وہ بڑے سے بڑے منہ زور کو ناک میں نکیل ڈال سکتی ہے ۔ زیادہ کہنے سے بہتر یہ ہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ اندرا گاندھی کے خلاف جو فیصلہ آیا تھا وہ یقینی طور سے ہندوستانی عدلیہ کے لیے مشعل راہ ہونا چاہیے ۔ایسا…
مزید پڑھیں...

سیرت صحابیات سیریز(۶) ام المومنین حضرت زینب بنت جحش

نام زینب، کنیت ام الحکم، ان کا تعلق قریش کے خاندان اسد بن خزیمہ سے تھا۔ والدہ کا نام امیمہ بنت عبدالمطلب تھا جو رسول کریمﷺ کی پھوپھی تھیں۔ اس لحاظ سے حضرت زینبؓ رسول کریمﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ حضرت زینبؓ ان خوش قسمت لوگوں میں تھیں جنہوں نے سابقون الاولون بننے کا شرف حاصل کیا۔ ۱۳ بعد البعثت میں اپنے اہل خاندان کے ہم راہ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے…
مزید پڑھیں...

ہفت روزہ دعوت ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ اعلیٰ اقدار کی حامل صحافت کے فروغ کے لیے اس کا تعاون کیجیے۔