5Gکا ریڈئیشن نقصان دہ نہیں ، بلکہ ٹیکنالوجی کا بےجا استعمال نقصان دہ

نائب امیر جماعت اسلامی ہند ڈاکٹر محمد سلیم انجینئر سے مشرف علی کی بات چیت

 

فائیو جی ٹکنالوجی ان دنوں عوام کے درمیان بحث کا موضوع ہے۔ کورونا وبا کو ایک سازش قرار دیتے ہوئے لوگوں نے اس کے تار 5جی ٹکنالوجی سے جوڑنے کی بھی کوشش کی ہے۔یہ سارا معاملہ کیا ہے اسے سمجھنے کے لیے ہم نے پروفیسر محمد سلیم انجینئر سے بات چیت کی ہے جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
سوال:آپ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو عام طور پر لوگوں سے پوشیدہ ہے۔ آپ نے بھی کبھی کسی مجلس میں اس موضوع پر گفتگو نہیں کی۔ مجھے بھی حال ہی میں معلوم ہوا ہے کی آپ نے ’فائیو جی‘ پر تحقیق کی ہے اور اسی بنا پر آپ کو 2012 میں جے پور یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ ملی ہے۔ آج میں آپ سے اسی موضوع پر گفتگو کرنے آیا ہوں۔ سب سے پہلے تو یہ بتائیے کہ یہ’ فائیو جی‘ ہے کیا اس کی مختصر وضاحت کر دیجیے۔
جواب:ایک بات میں واضح کر دوں کہ یقیناً ’فائیو جی‘ میری ریسرچ کا ایریا ہے۔ میری نگرانی میں کچھ طلبا اس پر تحقیق کر رہے ہیں، بلکہ میرے دو اسٹوڈنٹ تو ’سکس جی‘ پر بھی تحقیق کر رہے ہیں، لیکن میری خود کی جو ریسرچ تھی وہ ’فورجی‘ پر تھی۔ یہ 2012 کی بات ہے جب میری تحقیق مکمل ہوئی۔ اس زمانے میں فور جی آیا بھی نہیں تھا۔
یہ فورجی، فائیوجی وغیرہ دراصل موبائل ٹیکنالوجی کی جنریشنز یعنی اس کی ترقی یافتہ شکلیں ہیں۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کرتی جاتی ہے اس کی نئی جنریشن آتی جاتی ہے۔ پہلے’ ون جی‘ تھا، پھر’ ٹوجی‘ آیا اور اسی طرح اب’ فائیو جی‘ ٹیکنیکلی آگیا ہے، اگرچہ تجارتی طور پر ابھی لانچ نہیں ہوا ہے۔ تھری جی کے بعد کی جو ٹیکنالوجی ہے اس میں ایک بڑا فیکٹر ہے ڈیٹا ریٹ کا۔ انٹرنیٹ کی رفتار کا تعلق ڈیٹا ریٹ سے ہے۔ اگر ڈیٹا ریٹ اچھی ہے تو نیٹ چلانے میں آسانی ہو گی۔ بڑی فائلیں بھی آسانی سے سے کھل جائیں گی۔ ویڈیو چلانے کے لیے زیادہ ڈیٹا ریٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جب آپ کوئی ویڈیو چلانا چاہتے ہیں تو آپ کو انتظار کرنا پڑتا ہے اور اسکرین پر کوئی چیز گھومتی نظر آتی ہے۔ اسے بفرنگ کہتے ہیں۔ بفرنگ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ڈیٹا بہت زیادہ ہے اور اور نیٹ کی رفتار کم ہے، اس لیے وہ بفرنگ کرکے کچھ ڈیٹا اسٹور کرتا ہے پھر اس کو ریلیز کرتا ہے پھر اسٹور کرتا ہے پھر ریلیز کرتا ہے۔ اگر ڈیٹا ریٹ اچھی ہے تو بفرنگ نہیں ہوگی یعنی آپ کو انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ شروع میں بہت کم ڈیٹا ریٹ تھا، اس کی پیمائش کلو بٹس پر سیکنڈ (kbps) میں ہوتی تھی یعنی ایک ہزار بٹس فی سیکنڈ۔ پھر میگا بٹس (mbps) میں ہونے لگی، یعنی دس لاکھ بٹس فی سیکنڈ۔ اب تو جی بی پی ایس (gbps) یعنی میگا بٹس سے 100گنا زیادہ گیگابٹس کی تیاری ہو رہی ہے۔ ٹیکنولوجی کے حساب سے فائیو جی کی تفصیلات طے ہو گئی ہیں۔ ایک بین الاقوامی ادارہ ہوتا ہے جو اس کے معیارات متعین کرتا ہے اور پھر دنیا بھر میں اسی معیار پر عمل کیا جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہ اس کی فریکوئنسی کیا ہو گی بینڈ وِڈتھ کیا ہوگی۔ ابھی تو یہ ٹیسٹنگ کے مرحلے میں ہے لیکن جلدی ہی اس کا استعمال شروع ہو جائے گا۔
سوال: گویا فائیو جی، فور جی کی ترقی یافتہ شکل ہے، لیکن ان میں بنیادی فرق کیا ہے؟ مزید یہ کہ فورجی سے فائیو جی میں شفٹ کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
جواب: موجودہ ٹیکنالوجی سے اس کی ترقی یافتہ جنریشن میں شفٹ ہونا ایک نیچرل عمل ہے۔ یہ انسان کا مزاج ہے کہ وہ ہمیشہ آگے بڑھنے کی سوچتا ہے، جو چیز اس نے حاصل کر لی ہے وہ اس سے آگے کی چیز حاصل کرنا چاہتا ہے اور ہمیشہ بہتر کی تلاش میں رہتا ہے۔ اسی بہتری کی تلاش کے نتیجے میں تحقیق ہوتی ہیں۔ ایک جنریشن کی عمر تقریباً دس سال ہوتی ہے۔ اس مدّت میں نئی ضرورتیں سامنے آنے لگتی ہیں اور تحقیق شروع ہو جاتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ تو فائیو جی میں شفٹ ہونے کا ایک بڑا سبب تو ڈیٹا ریٹ کا ہے۔ اس سے انٹرنیٹ کی رفتار بڑھے گی اور کوالٹی مزید بہتر ہو گی۔ پہلے جو ٹیکنالوجی تھی اس میں صرف ایس ایم ایس کی سہولت تھی، کچھ ترقی ہوئی تو ایم ایم ایس کیا جانے لگا اور اب فائل ٹرانسفر ہو جاتی ہے۔ اس میں بھی پہلے صرف آڈیو فائل ٹرانسفر ہوتی تھی اب ویڈیو فائل بھی ٹرانسفر ہوتی ہے۔ فائل کا سائز اس کی ریزولیوشن پر منحصر کرتا ہے یعنی اچھی کوالیٹی کی فائل ہے تو ریزولوشن زیادہ کرنا ہو گا، یعنی اس فائل کا ڈیٹا زیادہ ہو جائے گا اور ڈیٹا زیادہ ہوگا تو زیادہ ڈیٹا ریٹ (رفتار) کی ضرورت ہو گی۔ اسی کوالیٹی کو بڑھانے کے لیے ہم تھری جی سی فور جی میں آئے تھے اور اب فور جی سے فائیو جی میں آ رہے ہیں۔ فائیو جی میں اور بھی کئی سہولتیں رکھ دی گئی ہیں۔ کچھ سہولتیں فور جی میں بھی تھیں، انہیں مزید ایڈوانس کیا گیا ہے مثلاً، انٹرنیٹ آف تھنگز، ٹیلی میڈیسن وغیرہ
جنریشن کے ساتھ ایک چیز اور بڑھتی ہے وہ ہے فریکوئنسی۔ جس فریکوئنسی پر ریڈیشن ہوتا ہے اس کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ فریکوئنسی بھی ہر جنریشن میں الگ الگ ہوتی ہے۔ پہلی جنریشن میں چار سو سے پانچ سو میگا ہرٹز تھی، دوسری میں یہ آٹھ سو سے نو سو میگا ہرٹز پر آئی، تیسری جنریشن میں پندرہ سو سے اٹھارہ سو میگا ہرٹز پر کام ہوا۔ چوتھی جنریشن میں دو ہزار سے زائد میگا ہرٹز ہوا اور اب فائیو جی میں اسے مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ فاسٹ چلنا سب کی ضرورت ہے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ کلک کرتے ہی فائل کھل جائے۔
زیادہ فریکوئنسی پر پر زیادہ ڈوڈتھ ملتی ہے اور اس پر ہم زیادہ ڈیٹا ریٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
سوال: یہ کہا جاتا ہے کہ 5G کو مکمل طور سے فنکشنل ہونے کے لیے بڑی تعداد میں سیلز (cells) کی ضرورت ہے۔ یہ سیلز صحت کے لیے بہت مضر ہیں۔ عوام میں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ 5G radiation کی وجہ سے بہت سے پرندوں کی موت ہو گئی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے جو انسانی اموات COVID کی طرف منسوب کی جاتی ہیں ان میں بھی زیادہ تر 5G radiation کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔ اس بات میں کتنی صداقت ہے۔
جواب: موبائل ٹاور کی رینج ٹیکنالوجی کا ایکاہم حصہ ہے۔ موبائل ٹاور کو سیل (cell) کہتے ہیں اور اس کی جو رینج ہوتی ہے یا جو ایریا وہ کور کرتا ہے اسے سیل ریڈیس (cell radius) کہا جاتا ہے۔ایڈوانس ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم چھوٹے سیل ریڈیس کی طرف جا رہے ہیں۔ پہلے ایک ٹاور سے کافی بڑا علاقہ کور کیا جاتا تھا۔ ٹو جی اور تھری جی میں ایک ٹاور دو سے تین کلو میٹر کا علاقہ کور کرتے تھے۔ فور جی میں اسے تین سو سے چار سو میٹر کیا گیا۔ فائیو جی میں اسے مزید کم کر کے بیس سے تیس میٹر تک لایا جا رہا ہے۔ چھوٹے چھوٹے ٹاورکی ٹیکنالوجی ہر لحاظ سے بہتر ہے، لیکن چونکہ یہ خرچیلی ہے، اس لیے موبائل فون کمپنیاں بڑے ٹاور لگا کر زیادہ ایریا کو کور کرنا چاہتی ہیں، تاکہ انہیں کم ٹاور لگانے پڑیں انہیں صرف پاور بڑھانی ہوتی ہے۔ پاور کا زیادہ ہونا مناسب نہیں ہے۔
آپ نے جو بات کہی کہ بڑی تعداد میں سیلز صحت کے لیے نقصاندہ ہیں تو حقیقت اس کے برعکس ہے۔ لوگوں کے لیے فائدہ مند یہ ہے کہ سیل ٹاورز زیادہ سے زیادہ ہوں اور ان کے ریڈیس کم سے کم۔ ٹاوروں کے ریڈیئشن اور ان سے ہونے والے نقصانات کا معاملہ اکثر وبیشتر اٹھایا جاتا رہا ہے۔ 2012 کی بات ہے جب فورجی آنے والا تھا تو اس کے ریڈیئیشن سے ہونے والے نقصانات کو لے کر جے پور ہائی کورٹ میں شکایت درج کرائی گئی کہ ٹاور کی وجہ سے بیماریاں ہو رہی ہیں، یہاں تک کہ کینسر ہو رہا ہے۔ اس وقت فور جی پر میری تحقیق مکمل ہونے والی تھی۔ ہائی کورٹ نے اس شکایت پر سنوائی کرتے ہوئے میری صدارت میں ایک چار رکنی کمیٹی بنا دی۔ اس کے دیگر ارکان میں جے پور میڈیکل کالج کے پرنسپل ایک کینسر اسپیشلسٹ اور ایک اور پروفیسر تھے۔ ہمیں دو مہینہ میں اپنی رپورٹ دینی تھی۔ پھر ہم چار لوگوں نے دو مہینے تک پورے جے پور میں میں سروے کیا اور رپورٹ دی جس کا لب لباب یہ ہے کہ ٹاوروں کی تعداد کوئی خطرہ کی بات نہیں ہے، بلکہ ٹاوروں کی تعداد کا زیادہ ہونا بہتر ہے، لہٰذا ٹاوروں کی تعداد بڑھائی جائے اور ان کے ریڈیس اور پاور کو کم کیا جائے۔ نئی ٹیکنالوجی میں اس کا خیال رکھا گیا ہے۔ حکومتوں کو چاہیے کہ اس کی پابندی کرائیں۔ آج کل کمپنی والے کرتے یہ ہیں کہ ایک ہی ٹاور پر کئی کمپنیوں کے اینٹینا لگا دیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے کسی خاص جگہ پر ریڈیایشن بہت زیادہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ انسٹالیشن کے وقت اس کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن کمپنی والے اپنے فائدے کے لیے ان ہدایات پر عمل نہیں کرتے جس کے برے اثرات ہو سکتے ہیں۔ یہ جو باتیں پھیلائی جارہی ہیں کہ اس کی وجہ سے یہ نقصان ہو رہا ہے وہ نقصان ہو رہا ہے اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ میرے خیال سے اس کے پیچھے کچھ اور ہی مقاصد کار فرما ہیں۔
جہاں تک پرندوں کی موت کی بات ہے تو اس کے پیچھے بھی کوئی ثبوت یا ٹیکنالوجیکلی کوئی دلیل نہیں ہے۔ پرندے تو اتنے حساس ہوتے ہیں کہ اگر ٹاور سے زیادہ حدت خارج ہو گی تو وہ اس کے قریب ہی نہیں جائیں گے دور سے ہی اسے محسوس کر کے اپنی سمت بدل لیں گے۔ لہٰذا اس بات میں کوئی وزن نہیں ہے۔ یہ دیکھ کر مجھے تعجب ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کی چیزیں پھیلائی جاتی ہیں اور لوگ بغیر سمجھے بوجھے اس مہم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ فائیو جی کا ابھی اس طرح انسٹالیشن ہوا بھی نہیں ہے۔
یہ بات بھی صحیح ہے کہ ریڈیئیشن نقصاندہ ہوتا ہے لیکن جب ٹیکنالوجی بنتی ہے تو ہر پہلو سے اس کی جانچ کی جاتی ہے۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ انسانی جسم پر اس کے کیا اثرات پڑیں گے۔ نئی ٹیکنالوجی کو فائنل کرنے سے پہلے ہر طرح سے تجربات کیے جاتے ہیں۔ ریڈیئیشن تو تھری جی میں بھی تھا فورجی میں بھی تھا اور فائیوجی میں بھی ہوگا۔ ریڈئییشن میں زیادہ دیر تک ایکسپوز ہوگا تو وہ نقصاندہ ہے۔ زیادہ فریکوئنسی پر چونکہ پاور کم کرنی پڑتی ہے اس لیے خطرہ نسبتاً کم ہو جاتا ہے یعنی ریڈیئیشن سے خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ ٹیکنولوجی میں اس کا خیال رکھا جاتا ہےاور پورا اسٹینڈرڈ مینٹین کیا جاتا ہے تاکہ انسانوں کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔ ڈیوائس میں بھی اس کا پورا خیال رکھا جاتا ہے کہ ایک خاص لیول سے زیادہ پاور نہ ہونے پائے۔ ہر ٹیکنالوجی کے ساتھ ہدایت دی جاتی ہے ہیں اگر ان کی خلاف ورزی کی جائے گی اور ان کا بے جا استعمال کیا جائے گا تو وہ نقصاندہ ثابت ہو گا۔ آج کل تو بچوں کی آنکھیں یا کان خراب ہو رہے ہیں یہ ٹکنالوجی کے بے جا استعمال کی وجہ سے ہے۔ وہ دن میں کئی کئی گھنٹے فون پر لگے رہتے ہیں، اسے کان سے لگائے رہتے ہیں یا اسکرین پر آنکھیں گڑائے رہتے ہیں۔ کسی بھی جگہ پر زیادہ دیر تک ریڈیئیشن ہو گا تو اس کا نقصان تو ہو گا۔ لیکن اس کی وجہ سے کینسر یا کوئی اور بیماری کا ہونا ثابت نہیں ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ فون کا زیادہ استعمال مضر ہے۔ کسی بھی چیز کا بے جا استعمال نقصان پہنچاتا ہے لیکن اس کی وجہ سے ٹیکنالوجی کی ترقی تو روکی نہیں جا سکتی۔ ہم نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ 6 منٹ سے زیادہ ایک پوزیشن میں فون کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ 6 منٹ کے اندر اندر اپنی پوزیشن بدل لینی چاہیے۔ ہاتھ اور کان بدل لیں یا اسپیکر آن کر لیں یا کچھ اور تبدیلی کر لیں کیونکہ 6 منٹ کے بعد جسم کے جس حصہ پر فون لگا ہوا ہے وہاں پر جسم کے اندر کے سیلز گرم ہونے لگتے ہیں۔ ایسا قطعی نہیں ہے کہ کینسر یا اس طرح کی کوئی دوسری بیماری ہوتی ہے، لیکن ہیٹنگ ضرور ہوتی ہے۔یہ ویسا ہی ہے جیسے مائکرو ویو میں ہوتا ہے۔ حالانکہ مائکرو ویو کے مقابلے میں موبائل فون کی پاور بہت ہی کم ہوتی ہے۔ لیکن یہ کم پاور بھی جب زیادہ دیر تک ایک حصہ پر حدت پہنچاتی رہے گی تو نقصان کر سکتی ہے۔
سوال:کیا 5G سے ہماری معیشت پر کوئی قابل قدر مثبت اثر پڑنے کی امید ہے۔ آپ کی اس سلسلے میں کیا رائے ہے؟
جواب:یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی جگہ پر اچھی سڑک بن جائے، اچھی گاڑیاں آ جائیں جن میں کم ایندھن لگتا ہو اور وہ تیز رفتار چلتی ہوں تو اس سے اقتصادی فائدہ تو ہو گا۔ اسی طرح جب آپ انٹرنیٹ کی سہولت کو بہتر کریں گے تو کم وقت میں زیادہ کام ہو گا۔ فائلوں کے بھیجنے اور ریسیو کرنے میں انتظار نہیں کرنا پڑے گا تو اس سے اقتصادی فائدہ ہو گا۔ ٹیکنولوجی تو ہوتی ہی اس لیے ہے کہ انسان کو سہولت فراہم کرے اور انڈسٹریل گروتھ کو بڑھاوا دے۔
سوال: کیا 5G اسمارٹ فون 10Gb/s کو سپورٹ کرے گا؟ اس کے اور کیا کیا نئے امکانات ہیں؟
جواب: ٹیکنولوجی کی جنریشن تو ڈیٹا ریٹ کے حساب سے ہی آگے بڑھتی ہے۔ آپ نے تو صرف 10 جی بی پی ایس کی بات کی ہے، فائیو جی میں تو 100 جی بی پی ایس تک کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ڈیٹا ریٹ کہیں 10 جی بی پی ایس ہو گا کہیں اور زیادہ ہو گا اور وہ حد سے حد 100 جی بی پی ایس تک جا سکتا ہے۔ ڈیٹا ریٹ بڑھانے کے لیے ہی تو یہ ٹیکنالوجی آ رہی ہے۔
سوال:5G کی وجہ سے انٹرنیٹ پر انحصار مزید بڑھےگا ورک فرام ہوم کلچر میں بھی ابال آئے گا اس سے کسی فرد کی سماجی زندگی پر کیا مثبت اور منفی اثر پڑنے کا احتمال ہے؟
جواب: فاسٹ انٹر نیٹ سروس سے یقیناً لائف اسٹائل میں تبدیلیآں آئیں گی لیکن کوئی بڑی اور نمایاں تبدیلی آئے گی، ایسا نہیں ہے۔ تبدیلی تو غیر محسوس طریقے سے آجائے گی اور پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کب ہم فور جی سے فائیو جی میں آ گئے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ہم آہستہ آہستہ ڈیجیٹل لائف کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر انحصار ہماری دوسری سرگرمیوں کو یقیناً کم کر رہا ہےاور اس طرح ہمارا لائف اسٹائل بدل رہا ہے۔ اس کے سماجی پہلو بھی ہیں، آج بھی اگر آپ موبائل کا زیادہ استعمال کریں گے تو تنہائی کا شکار ہو جائیں گے۔ ہمیں نئی ٹیکنالوجی کے کارآمد پہلوؤں کا فائدہ اٹھانا چاہیے اور جو پہلو سماجی طور پر کمزور کرنے والے ہیں ان سے محتاط رہنا چاہیے۔
سوال: 5G کا اثر IOT پر کیسا پڑے گا جس میں کئی گھر گیجٹز کو انٹرنٹ سے جوڑ دیا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک شہر کو اسمارٹ شہر سے جوڑ دیتے ہیں کیا اس طرح ہیک ہونے کا خطرہ نہیں بڑھ جائے گا؟
جواب: فائیو جی کی ایک ایپلیکیشن ہے انٹرنیٹ آف تھنگز، جسے آئی اوٹی (IOT) کہتے ہیں۔ اس میں گھر کے بہت سے سامان کو موبائل سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ آدمی کہیں بھی رہے وہ انہیں انٹرنیٹ کے ذریعے آپریٹ کر سکتا ہے۔ گھر کے اندر کے حالات معلوم کر سکتا ہے۔ اگر وہ چاہتا ہے کہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے اے سی آن کر دی جائے یا گیزر چلا دیا جائے تو وہ یہ کر سکتا ہے۔ دروازے پر پہنچتے ہی بغیر ہاتھ لگائے دروازہ کھول سکتا ہے وغیرہ۔ اس طرح کی دوسری سہولتیں بھی ہیں۔
جہاں تک ہیک ہونے کا سوال ہے تو کوئی بھی سسٹم ہیک ہو سکتا ہے، کیونکہ کوڈ تو انسان ہی بناتے ہیں اور انسان اس کو اس کو توڑ بھی سکتے ہیں۔ لیکن اس کا علاج بھی موجود ہے۔ ہیکنگ بھی ایک پوری ٹیکنالوجی بن گئی ہے۔ اس کی بھی باقاعدہ ٹریننگ دی جاتی ہے کہ سسٹم کو ہے ہونے سے کیسے بچایا جائے۔ اس کے علاوہ جب ہم ایک جنریشن سے دوسری جنریشن کی طرف جاتے ہیں تو باقی چیزوں کے ساتھ اس کی سکیورٹی بھی بڑھا دی جاتی ہے۔
سوال: اس ٹکنولوجی سے telemedicine, virtual reality وغیرہ میں مزید کیا بہتری آنے کی توقع ہے؟
جواب: کئی ایپلی کیشنز جو فورجی میں بہت وقت لیتے تھے ڈیٹا ریٹ بڑھنے سے فائیو جی میں ریئل ٹائم ہو جائیں گے یعنی ان میں بفرنگ کا مسئلہ ختم ہو جائے گا اور کلک کرتے ہی فائل سامنے ہوگی۔ ورچول ریالٹی ہو یا ٹیلی میڈیسن ہو اس میں ڈیٹا ریٹ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان میں بڑی بڑی فائلیں ٹرانسفر ہوتی ہیں۔
ٹیلی میڈیسن فائیو جی کی ایک اور بڑی اہم ایپلیکیشن ہے۔ اس میں گھر بیٹھے ماہرین سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ بھیجی جا سکتی ہے اور ان پر رائے لی جا سکتی ہیں یہاں تک کہ یہاں کے آپریشن تھیٹر میں سرجری کرنے والا ڈاکٹر دنیا کے کسی حصہ میں موجود ماہر ڈاکٹروں سے مدد لے سکتا ہے۔ آپریشن لائیو ہو گا اور وہاں کے ڈاکٹرس اسے اپنے یہاں اسکرین پر دیکھیں گے اور وہ برابر ہدایت دیتے رہیں گے۔ اس دوران کوئی مسئلہ آتا ہے تو اسے دور کریں گے۔ یقیناً فائیو جی میں یہ عمل تیز ہو جائے گا اور امید ہے کہ سکس جی میں مزید تیز ہو گا۔ اس سلسلے میں اور بھی آگے کے خواب دیکھے جا رہے ہیں مثلاً بغیر ڈرائیور کی گاڑیاں، ڈرون کی شکل میں اس کا ایک تجربہ کیا گیا ہے۔ یہ بہت چھوٹے پیمانے پر ہے لیکن اسے بڑے پیمانے پر بھی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ سب فائیو جی میں مکمل ہو جائے گا لیکن ان مستقبل کی ایپلیکیشنز پر لوگوں کی نگاہ ہے۔
سوال: کیا 5G سے گندے اور فحش مواد کی ترسیل آسان نہیں ہو جائے گی؟ یقیناً اس کا اخلاق عامہ پر برا اثر پڑے گا تو کیا لوگوں کو خصوصاََ نوجوانوں اور بچوں کو اس سے بچانے کا کوئی طریقہ اس 5G ٹکنالوجی میں موجود ہے؟
جواب: اس کا تعلق فائیو جی یا کسی بھی جی سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق معاشرے کی ذہنیت سے ہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال تو اچھے کام کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور برے کام کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی یہ نہیں جانتی کہ اس سے کیا کام لیا جا رہا ہے۔ آپ اس پر قرآن کی آیتیں ٹرانسفر کریں یا فحش مواد ٹیکنولوجی کے لیے دونوں برابر ہیں۔ کیونکہ اسے تو صرف بِٹس نظر آتے ہیں۔ یہ ایک دوسرا پہلو ہے کہ فحش مواد کی ترسیل پر کیسے قابو پایا جائے اس کے لیے ٹیکنالوجی کی رفتار کو روکا نہیں جا سکتا۔ ٹیکنالوجی کے جہاں بے شمار فائدے ہیں تو کچھ نقصانات بھی ہیں۔یقیناً ہمیں ان نقصانات سے محفوظ رہنے کی تدابیر کرنی چاہیے۔
(مشرف علی ہندی ہفتہ واری ’کانتی‘ کے سب ایڈیٹر ہیں۔)

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 20 جون تا 26 جون 2021