امریکی جمہوریت اور شکوک و شبہات کی گرداب

انتخابی مراحل کے نشیب و فراز کا تفصیلی جائزہ

مسعود ابدالی

 

ہم جیسے کم علم خامہ بگوش، جن کی ساری ’قابلیت‘ بلکہ لن ترانی حالات حاضرہ تک محدود ہے ہفتہ وار کالم لکھتے ہوئے کئی بار مشکل اور آزمائش میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ کہیں تجزیہ نگاری کا سارا بھرم ہی نہ کھل جائے۔ راہِ سیاست میں کئی بار ایسے مرحلے پیش آتے ہیں جب یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یا تیزی سے بدلتی زمینی حقائق کی بنا پر ساربان اسے بٹھانے کے بجائے ہنکا کر آگے لے جانے کو ترجیح دے گا۔ کچھ ایسا ہی مرحلہ اس وقت درپیش ہے کہ یہ کالم متوقع تاریخ اشاعت یعنی 8 جنوری سے 5 دن پہلے تحریر کیا جا رہا ہے اور اس میں دیے گئے تجزیے کی بنیاد ان دو عوامل پر ہیں جن کا ظہور 5 اور 6 جنوری کو ہونا ہے۔
آج ہم امریکی صدارتی انتخاب پر گفتگو کریں گے۔امریکہ کے صدارتی انتخابات اس قدر پیچ در پیچ ہیں اب تک یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ قارئین کی خدمت میں عرض ہے کہ انتظار کی گھڑیاں اب ختم ہونے کو ہیں اور ’توقع‘ ہے کہ جب یہ تحریر آپ تک پہنچے گی امریکی صدارتی انتخاب کے سرکاری نتائج کا اعلان ہوچکا ہوگا۔ قوسین میں توقع لکھ کر احتیاط کے اس حصار کی وجہ اس کالم کا کلیدی نکتہ ہے۔
ہم کئی بار امریکی صدارتی انتخاب کے طریقے اور انتخابی کالج کی ہئیت اور اس کے نصاب پر گفتگو کر چکے ہیں تاہم ان قارئین کے لیے چند سطور جو اس نظام سے واقف نہیں ہیں۔
امریکہ پچاس ریاستوں پر مشتمل وفاق ہے اور صدر کا چناؤ ایک کلیہ انتخاب یا Electoral College سے ہوتا ہے۔ کلیہ انتخاب میں وفاق کی تمام اکائیوں یعنی ریاستوں کو ان کی آبادی کے مطابق نمائندگی دی گئی ہے۔ ہر ریاست سے ایوان نمائندگان (لوک سبھا) اور راجیہ سبھا یعنی سینیٹ کے لیے جتنے رکن منتخب کئے جاتے ہیں الیکٹورل کالج میں وہی اس ریاست کی نمائندگی کا حجم ہے۔ ہندوستان کی طرح ایوان نمائندگان کی نشستیں آبادی کے مطابق ہیں جبکہ سینیٹ میں ہر ریاست کے لیے دو دو نشستیں مختص ہیں۔ انتخابی کالج میں دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کو بھی 3 نشستیں عطا کی گئی ہیں۔ اس طرح ایوان نمائندگان کی 435، سینیٹ کی 100 اور دارالحکومت کی 3نشستیں ملا کر انتخابی کالج کے کل ووٹوں کی تعداد 538ہے۔ کامیابی کے لیے نصف سے زیادہ یعنی انتخابی کالج کے کم ازکم 270 ووٹ درکار ہیں۔
سیاسی پارٹیاں جب اپنے صدارتی امیدواروں کے انتخاب (ٹکٹ) کے لیے سالانہ اجتماع منعقد کرتی ہیں اس وقت کلیہ انتخاب کے ارکان بھی نامزد کردیے جاتے ہیں جنہیں Electors کہا جاتا ہے۔ عام انتخابات کے دوران ریاست میں زیادہ ووٹ لینے والے امیدوار کے electors انتخابی کالج کے ارکان تصور ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ٹیکسس الیکٹرل ووٹوں کی تعداد 38ہے۔ عام انتخابات میں صدر ٹرمپ نے یہ میدان مار لیا ہے چنانچہ ان کے تمام کے تمام 38نامزد نمائندے ریاستی الیکٹرز ہیں۔
صدارتی انتخابات عملاً تین مرحلوں میں مکمل ہوتے ہیں۔
• ہر چار سال بعد نومبر کے مہینے میں پہلے پیر کے بعد آنے والے منگل کو عام انتخابات ہوتے ہیں۔ اگر نومبر کا پہلا دن منگل ہو تو انتخابات دوسرے منگل کو ہوں گے۔ 2016 میں یکم نومبر منگل تھا اس لیے ووٹنگ 8 نومبر کو ہوئی
• دسمبر کے دوسرے بدھ کے بعد آنے والے پیر کو ریاستی دارالحکومتوں میں انتخابی کالج کا اجلاس ہوتا ہے جس میں نامزد ایلیکٹرز صدر اور نائب صدر کے لیے ووٹ ڈالتے ہیں۔ ووٹنگ کے بعد سکریٹری آف اسٹیٹ تصدیق شدہ نتیجہ سینیٹ کے سربراہ (نائب صدر) کو بھیج دیتے ہیں۔
• اگلے سال کی 6 جنوری کو امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس نائب صدر کی سرابرہی میں منعقد ہوتا ہے جہاں انتخابی کالج کے ووٹوں کی گنتی ہوتی ہے۔ نائب صدر بربنائے عہدہ امریکی سینیٹ کے چئیر مین ہیں۔
اس تفصیلی پس منظر کے بعد آمدم بر سرِ مطلب
سرکاری گنتی کے دوران ارکان کانگریس کے سامنے ایک ایک ریاست کے مصدقہ نتائج پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ نائب صدر با آوازِ بلند Accepted کہہ کر انہیں سند عطا کرتے ہیں اور دارالحکومت و پچاسوں ریاستوں کے نتائج کو جوڑ کر کامیاب ہونے والے امیدوار کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق گانگریس کے مشترکہ اجلاس میں انتخابی ووٹوں کی گنتی ایک رسمی کارروائی ہے اور یہ مرحلہ تیزی سے مکمل ہو جاتا ہے لیکن ارکان کانگریس کو اعتراض کا حق حاصل ہے۔ عام طور سے اعتراضات بہت معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں اور زیادہ تر کا تعلق ان ووٹوں سے ہوتا ہے جو اس ریاست سے جیتے ہوئے امیدوار کے علاوہ کسی اور کو دیا گیا ہو۔ یعنی اگر کسی الیکٹر نے بے وفائی کرتے ہوئے کسی دوسرے شخص کے حق میں رائے دی ہے تو اس ووٹ کو حذف کر دینے کا مطالبہ ہوتا ہے۔ بے وفائی کرنے والے الیکٹرز کو faithless کہا جاتا ہے۔ ایسے الیکٹرز کی تعداد دو چار سے زیادہ نہیں ہوتی لہٰذا نتائج پر فرق نہیں پڑتا۔ وعدہ خلافی کے اعتبار سے 2016 کا صدارتی انتخاب بدترین چناؤ تھا جب ہیلری کلنٹن کے 8اور ڈونالڈ ٹرمپ کے 2 الیکٹرز نے بے وفائی کا مظاہرہ کیا۔ اس پر شور شرابا تو ہوا لیکن نتیجے پر کوئی فرق نہیں پڑا چنانچہ رائے شماری کی نوبت ہی نہیں آئی۔
چھ جنوری کے لیے ریپبلکن پارٹی کے ارادے مشکوک نظر آرہے ہیں۔ ایوان نمائندگان کے 144ارکان اور ایک درجن سے زیادہ سینیٹرز نے اجلاس کے دوران پنسلوانیہ، جارجیا، وسکونس، مشیگن اور ایریزونا ریاستوں کے انتخابات کو کالعدم کرنے کی تحریک پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ پارلیمانی حجم کے اعتبار سے مشترکہ اجلاس میں ریپبلکن پارٹی کے ارکان کی کل تعداد 262 جبکہ 270 نشستوں پر ڈیموکریٹس براجمان ہوں گے۔ سینیٹ کے قائد ایوان سمیت بہت سے ریپبلکن ارکان نے انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتوں سے صدر ٹرمپ کی دو درجن سے زیادہ انتخابی عذر داریاں پہلی ہی سماعت پر خارج ہو چکی ہیں یعنی عدالت نے ان درخواستوں کو سماعت کے لیے بھی منظور نہیں کیا۔ جارجیا میں ووٹوں کی تین بار اور مشی گن میں دوبار گنتی ہو چکی ہے لیکن نتائج میں کوئی تبدیلی نہیں بلکہ جو بائیڈن کے ووٹوں میں چند سو کا اضافہ ہو گیا۔
قدامت پسندوں کی سرخیل اور ریپبلکن کانفرنس (پارلیمانی پارٹی) کی قائد محترمہ لزچینی کا کہنا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا اور کانگریس میں تماشہ کھڑا کرکے جمہوریت کو داغ دار بنانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ سینیٹ کے قائد ایوان مچ مک کونل کا بھی یہی خیال ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ اور ان کے قدامت پسند حامی مزاحمت کے لیے پر عزم ہیں۔ کل صدر ٹرمپ نے جارجیا کے گورنر برائن کیمپ سے ایک گھنٹہ گفتگو کی۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جارجیا میں گنتی کے دوران ان کے 11780 ووٹ غائب کر دیے گئے ہیں۔ دلچسپ بات کہ عام انتخابات میں جو بائیڈن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر 11779 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ ریاست کے سکریٹری آف اسٹیٹ بریڈ رافینسپرگر Brad Raffensperger کا کہنا ہے کہ انہوں نے تیسری گنتی کی بذات خود نگرانی کی ہے اور ہر ووٹ بالکل ٹھیک گنا گیا ہے۔ صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے جناب رافنسپرگر نے کہا کہ ووٹ غائب ہونے یا جعلی بیلٹ جاری ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور ان کے لیے نتائج کی تصدیق کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جس پر صدر ٹرمپ نے مشتعل ہو کر کہا کہ اگر سکریٹری آف اسٹیٹ نا اہل ہے تو اسے مستعفی ہوجانا چاہئے۔ اگر جارجیا کے نتائج تبدیل ہو جائیں تب بھی جو بائیڈن کو کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ جارجیا کے انتخابی ووٹوں کی تعداد 16 ہے۔ انہیں نکال دینے کے بعد بھی جو بائیڈن کے انتخابی ووٹ 270 کے نشان سے آگے رہیں گے۔
انتخابی ووٹوں کی گنتی کے دوران قدامت پسند، کانگریس کے گھیراؤ پروگرام بنا رہے ہیں جس کے لیے سارے امریکہ سے قافلے پیر کو روانہ ہوں گے۔ اس مظاہرے کا مقصد ریپبلکن ارکان کانگریس پر پانچ ریاستوں کے انتخاب کو کالعدم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔ تاہم تمام کی تمام ریاستوں نے انتخابات کی تصدیق کر دی ہے لہذا ان نتائج کو مسترد یا تحلیل کرنا ممکن نہیں اور پھر ضابطے کے تحت ہر اعتراض کا فیصلہ ایوان میں رائے شماری سے ہوگا۔ جیسا کہ ہم نے عرض کیا ایوان میں ڈیموکریٹک پارٹی کو واضح برتری حاصل ہے اور اس معاملے پر ریپبلکن پارٹی یکسو بھی نہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ اعتراض پر فوری رائے شماری کے بجائے سینیٹ کے چیئرمین بحث و مباحثے کی اجازت دے دیں گے اور اگر یہ سلسلہ شروع ہوگیا تو اجلاس غیر معینہ مدت تک طویل ہو سکتا ہے۔تاہم معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں۔ یہ چونکہ کانگریس کا مشترکہ اجلاس ہے اسلیے نائب صدر مائک پینس کے ساتھ کانگریس کی اسپیکر نینسی پلوسی بھی صدارت فرمارہی ہوں گی جن کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے۔ اس کے علاوہ بیلٹ پیپر پر چونکہ مائک پینس کا نام بطور امیدوار موجود ہے اسلیے غیر جانب داری کے نام پر ڈیموکریٹک پارٹی گنتی کے عمل سے انہیں الگ رکھنے کی تحریک پیش کرسکتی ہے اور اس سلسلے میں ایک نظیر بھی موجود ہے۔ 1968کے صدارتی انتخابات میں نائب صدر ہیوبرٹ ہیمپفرے Hubert Humphrey صدر نکسن سے شکست کھا گئے تھے چنانچہ انہوں نے اجلاس کی صدارت سے معذرت کرلی تھی لیکن دوسری طرف 2000 کے انتخابات میں صدر بش سے ہار جانے کے باوجود نائب صدر ایل گور نے نہ صرف اجلاس کی صدارت کی بلکہ انتخابی نتائج کا اعلان بھی کیا۔
انتخابات کالعدم کرانے میں صدر ٹرمپ کی دلچسپی کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن اب جبکہ صدر کی شکست نوشتہ دیوار ہے تو ریپبلکن پارٹی کے کچھ سینٹرز اتنے پرجوش کیوں ہیں؟ اس کا آسان جواب یہ کہ بنئے کا بیٹا کچھ دیکھ کر ہی گر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ انتخاب تو ہار گئے لیکن جارحانہ انتخابی مہم کے نتیجے میں انہوں نے سارے ملک کے قدامت پسندوں میں نئی روح پھونک دی ہے۔ Make America Great Again یا MAGA تحریک کے نام سے نوجوانوں کی ایک تنظیم قائم ہو گئی ہے۔ مہم کے دوران انہوں نے دیہی امریکہ میں بڑے بڑے جلسے اور ریلیاں کرکے ان نوجوانوں کو متحرک کر دیا۔ ریپبلکن پارٹی کاروایتی حلقہ اور مقتدرہ MAGA سے خوفزدہ ہے۔ان کا خیال ہے کہ MAGA اب ریپبلکن پارٹی سے زیادہ مضبوط، منظم اور انتہائی پرجوش تنظیم بن چکی ہے۔سرگرم سینٹرز کی اکثریت 2024 کے صدارتی انتخاب میں قسمت آزمائی کرنا چاہتی ہے۔ وہ خود کو ٹرمپ کا مخلص اور نرم و گرم میں انکا وفادار ثابت کر کے MAGA کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹر مپ 2024میں دوبارہ انتخاب لڑنے کے خوا ہشمند ہیں۔ اسی بنا پر وہ شکست تسلیم کر کے میدان سے باہر نہیں جانا چاہتے۔ امریکی صدر اپنے حامیوں کو تاثر دے رہے ہیں کہ ان کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے اور اس حق کو چار سال بعد ہر قیمت پر واپس لینا ہے۔ اپنے خطابات میں وہ بار بار کہہ رہے کہ اس ڈکیتی کے خلاف وہ پوری قوم کو متحد کریں گے اور 2024سے دو سال پہلے 2022 کے پارلیمانی انتخاب میں کانگریس پر برتری حاصل کر کے دھاندلی روکنے کے لیے انتخابی اصلاحات کا بل منظور کرائیں گے۔
اس سلسلے میں ان کی پوری توجہ ریاست جارجیا پر ہے جہاں 5 جون کو سینیٹ کی دونشستوں کے نتخابات ہو رہے ہیں۔ 3نومبر کو ہونے والے ان انتخابات میں کسی بھی امیدوار نے 50فیصد ووٹ نہیں حاصل کئے اس لیے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں کے درمیان براہ راست مقابلہ ہو رہا ہے جسے RUN-OFF کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں نشستیں 2012 سے ریپبلکن پارٹی کے پاس ہیں۔اس وقت 100 رکنی سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کے پاس 50 نشستیں ہیں، 46 نشستوں پر ڈیموکریٹس اور دو سیٹیں برنی سینڈرز سمیت آزاد نمائندوں کے پاس ہیں جنہوں نے خود کو ٖڈیموکریٹس پارلیمانی پارٹی سے وابستہ کر رکھا ہے۔ جارجیا میں ہونے والا انتخاب نئی امریکی سینیٹ کے خد وخال واضح کر دے گا۔ ڈیموکریٹس کے لیے یہ دونوں نشستیں جیتنا ضروری ہے تاکہ مقابلہ 50:50 سے برابر ہو جائے اور رائے شماری کے دوران فیصلہ کن ووٹ ٖڈال کر نائب صدر پانسہ حکمراں پارٹی کےحق میں کر دیں۔ ریپبلکن پارٹی اگر ایک نشست بھی جیتے میں کامیاب ہو گئی تو مستقبل کی جو بائیڈن انتظامیہ کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکہ میں اٹارنی جنرل سمیت تمام وفاقی وزرا، جج، اقوام متحدہ اور مختلف ملکوں کے سفیر، فوجی سربراہ، خفیہ اداروں کے چیف اور با اختیار سرکاری کارپویشنوں کے سربراہ کا تقرر سینیٹ کی توثیق سے مشروط ہے۔ مالیاتی بل، میزانیہ اور قانون سازی کے لیے بھی دونوں ایوانوں سے منظوری ضروری ہے۔ اگر سینیٹ پر ریپبلکن کو برتری حاصل ہو گئی تو نئی قیادت پالیسی اور قانون سازی کے لیے ریپبلکن پارٹی کے رحم و کرم پر ہو گی۔صدر ٹرمپ اسی لیے جارجیا میں اپنے امیدواروں کی مہم خود چلا رہے ہیں۔ اگر وہ اپنے ایک امیدوار کو بھی جتوانے کامیاب ہو گئے تو 2022 میں ایوان نمائندگان کو ہدف بنائیں گے جہاں حالیہ انتخابات کے بعد ڈیموکریٹس کی برتری خاصی سکڑ گئی ہے۔ 435 رکنی ایوان میں اکثریت کے لیے 218 نشستیں درکار ہیں اور جو بائیڈن کی جماعت کے پاس 222 نشستیں ہیں۔ اگر سینیٹ پر برتری برقرار رکھتے ہوئے وسط مدتی انتخاب میں ریپبلکن پارٹی ڈیموکریٹس سے ایوان نمائندگان کی 4 نشستیں چھین لینے میں کامیاب ہو جائے تو صدر بائیڈن کے آخری دوسال بہت سخت ہو سکتے۔ امریکہ میں عام طور سے وسط مدتی انتخابات حکمراں جماعت کے لیے بہت بھاری ہوتے ہیں۔
چنانچہ پانچ جنوری کو جارجیا میں سیینٹ کے انتخابات اور اس کے دوسرے روز واشنگٹن میں انتخابی ووٹوں کی گنتی پر سیاسی پنڈت نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ یہ دو عوامل امریکہ کے سیاسی منظر نامے پر دور رس اثرات مرتب کریں گے۔ اس وقت جب آپ ہماری تحریر کو شرف نگاہ عطا فرما رہے ہوں گے، اونٹ کسی نہ کسی کروٹ بیٹھ چکا ہوگا۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے امکانات، خدشات اور مضمرات پر آئندہ گفتگو ہو گی۔
(مسعود ابدالی معروف کالم نویس ہیں جو مشرق وسطیٰ ، مسلم دنیا اور عالمی سیاست پر لکھتے رہے ہیں)
masood_abdali@hotmail.com
***

انتخابات کالعدم کرانے میں صدر ٹرمپ کی دلچسپی کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن اب جبکہ صدر کی شکست نوشتہ دیوار ہے تو ریپبلکن پارٹی کے کچھ سینٹرز اتنے پرجوش کیوں ہیں؟ اس کا آسان جواب یہ کہ بنئے کا بیٹا کچھ دیکھ کر ہی گر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ انتخاب تو ہار گئے لیکن جارحانہ انتخابی مہم کے نتیجے میں انہوں نے سارے ملک کے قدامت پسندوں میں نئی روح پھونک دی ہے

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 10 جنوری تا 16 جنوری 2021