’’کیا بی جے پی لیڈروں کے خاندان میں ہونے والی بین المذاہب شادیاں بھی ’’لو جہاد‘‘ میں شامل ہیں؟‘‘: بھوپیش بگھیل

رائے پور، 22 نومبر: بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیرقیادت ریاستوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی اور کانگریس کے سینئر لیڈر بھوپش بگھیل نے ہفتہ کے روز پوچھا کہ کیا بی جے پی قائدین کے خاندان کے ممبروں کی بین المذاہب شادیاں بھی ’’لو جہاد‘‘ (Love Jihad) میں شامل ہوں گی۔

واضح رہے کہ ’’لوجہاد‘‘ بھگوا تنظیموں کے ذریعے استعمال کی جانے والی ایک من گھڑت اصطلاح ہے جس میں وہ مسلمان مردوں پر شادی کے نام پر ہندو لڑکیوں کا مذہب تبدیل کروانے کا الزام لگاتے ہیں۔

جناب بگھیل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے پوچھا ’’بی جے پی کے متعدد رہنماؤں کے خاندان کے افراد نے بھی بین المذاہب شادیاں کی ہیں۔ میں بی جے پی کے رہنماؤں سے پوچھتا ہوں کہ کیا یہ شادیاں ’’لو جہاد‘‘ کی تعریف میں آتی ہیں؟‘‘

بگھیل کا یہ بیان اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے حال ہی میں کیے گئے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ ان کی حکومت "لو جہاد” اور زبردستی مذہبی تبدیلی کو روکنے کے لیے ایک سخت قانون لائے گی۔

اس سے قبل مدھیہ پردیش میں شیو راج سنگھ چوہان کی زیرقیادت بی جے پی حکومت نے بھی کہا تھا کہ ریاست میں جلد ہی ”لو جہاد ” کے خلاف ایک قانون بنایا جائے گا۔ حال میں ہی بی جے پی کے زیر اقتدار ہریانہ کی حکومت نے بھی اسی طرح کا اعلان کیا تھا۔