’’کاروبار کے ذریعے سماج کی خدمت بھی کرسکتے ہیں‘‘

آن لائن تجارت میں بہت کم عرصہ میںترقی کرنے والے عبداللہ عاصم سے بات چیت

عبدالرحمٰن پاشا

 

’کاروبار کا بنیادی مقصد پیسے کمانا تو ہے ہی لیکن صارفین کی بروقت ضرورت پوری کرنا بھی ہے۔ اس طرح سماج میں اپنے کاروبار کے ذریعے لوگوں کی خدمت بھی کی جاسکتی ہے‘۔ یہ کہنا ہے ریاست تلنگانہ کے ضلع کریم نگر کے ابھرتے ہوئے نوجوان انٹرپرینر جناب عبداللہ عاصم کا جنہوں نے آج سے دو برس قبل تعلیم کے دوران ہی اپنی منفرد اور اختراعی سوچ و فکر کے ساتھ آن لائن کاروبار شروع کیا۔ انھوں نے سنہ 2017کے آواخر میں آن لائن کاروبار ’مائی سٹی کارٹ‘ کا آغاز کیا۔ جہاں اب دس ہزار سے زائد صارفین اپنی اشیا کے لیے آرڈر دے رہے ہیں۔
عالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ-19) نے زندگی کے مختلف شعبہ جات کو کئی اعتبار سے متاثر کیا ہے۔ وہیں کاروبار اور خاص کر آن لائن کاروبار بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہے۔ ای کامرس کے لیے اس عالمی وبا کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اب صارفین براہ راست شاپنگ مالز یا دوکانوں پر جا کر خریداری کرنے کے بجائے آن لائن شاپنگ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ایسے میں مابعد کورونا ای۔ کامرس میں کس طرح تبدیلیاں رونما ہوئیں اس نئے رجحان کے تحت کس طرح آن لائن کاروبار شروع کیا جاسکتا ہے اسے کیسے برقرار رکھا جائے اس کاروبار کی ترجیحات کیا ہونی چاہیے صارفین تک اپنی بہتر خدمات پیش کر ان کا اعتماد کیسے حاصل کیا جائے۔ یہ اور ان جیسے کئی سوالات پر صحافی عبدالرحمٰن پاشا نے مائی سٹی کارٹ کے بانی مالک جناب عبداللہ عاصم سے تفصیلی گفتگو کی۔
جب ہم نے عبداللہ عاصم سے پوچھا کہ کسی بھی کاروبار کو شروع کرنے سے قبل ایک ’آئیڈیا‘ بہت معنی رکھتا ہے۔ یہ ایک آئیڈیا اور بنیادی خاکہ پر ہی منحصر ہے کہ آپ کس طرح کا کاروبار کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں آن لائن کاروبار کے ضمن میں آپ کی بنیادی سوچ کیا تھی؟ اس پر عبداللہ عاصم نے بتایا کہ انھوں نے پوسٹ گریجویشن کے دوران ہی اپنا خود کا کاروبار کرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ اسی دوران عبداللہ عاصم نے عزم کیا کہ کیوں نہ آن لائن کاروبار کا آغاز کیا جائے۔ اس آئیڈیا کو لے کر اپنے آبائی علاقہ کریم نگر کو شروعاتی طور پر منتخب کیا۔ کئی لوگوں سے اسی ضمن میں واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کیا اور انھوں نے طئے کیا کہ کریم نگر کے علاقے میں اپنی آن لائن خدمات شروع کی جائے۔
آن لائن کاروبار کے آغاز سے قبل طئے شدہ علاقہ کا تجزیہ و تحقیق کی جاتی ہے جسے مارکیٹ اسٹڈی کہا جاتا ہے یہ کیسے کیا جاتا ہے؟ اس پر انھوں نے بتایا کہ نئے کاروبار کے آغاز سے قبل مارکٹ اسٹڈی ضروری ہے وہ چاہے آن لائن کاروبار ہو یا آف لائن۔ اس سے بازار کی موجودہ صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ آپ کو پتہ چلے گا کہ پہلے سے موجود کمپنوں کے درمیان کس طرح مقابلہ چل رہا ہے۔ طئے شدہ علاقہ کے صارفین کی ضروریات کیا ہیں۔ اسی کے تحت انھوں نے اپنے کاروبار کے آغاز سے کئی برس قبل ای۔ کامرس سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنی شروع کی۔ اس دوران وہ صارفین کے خریداری کے رویے (Purchasing behaviour of customers) کا بھی بہ غور مطالعہ کیا۔ عبداللہ عاصم نے بتایا کہ ان کے جن لوگوں سے تعلقات تھے وہ ان سے مسلسل رابطے میں رہے اور انھیں اپنے آن لائن کاروبار کے بارے میں بتاتے رہے۔
معاشی سرگرمیوں میں ایک اہم سوال غیر یقینی صورت حال (Uncertainty) کا آتا ہے کہ کاروبار چل پائے گا یا نہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ فائدہ کے بجائے نقصان ہوجائے۔ اس کو انھوں نے کس نظر سے دیکھا؟ اس پر عبداللہ عاصم نے کہا کہ کاروبار ہی نہیں کسی بھی طرح کا بڑا فیصلہ یا نئے کام میں اس طرح کی صورت حال درپیش ہوتی ہے۔ لیکن اسی دوران ہمیں عزمِ مصمم کرنا ہوتا ہے کہ ہمیں وہ کام کرنا ہی ہے، ہمیں اس میں انتہا درجے کی کامیابی حاصل کرنی ہے۔ تب ہی جاکر آپ ایک اچھا اور کامیاب کاروبار یا کوئی بھی بڑا کام کرسکتے ہیں۔ ویسے کاروبار میں تو نفع و نقصان ہوتا رہتا ہے۔ یہ اس کا لازمی حصہ ہے۔
ایک نئے آن لائن کاروبار شروع کرنے کے بعد کس طرح کے چیلنجز درپیش آتے ہیں اور اسے کیسے حل کیا جائے؟ یہ ایسا سوال ہے جو تقریبا ہر ایک نئے کاروبار کرنے والے کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔ ایسے میں مناسب رویہ کیا ہو؟ اس پر انھوں نے بتایا ہے کہ چیلنجز تو ہر میدان میں ہوتے ہیں۔ کوئی بھی میدان ہمیں سجا سجایا نہیں ملتا۔ آن لائن کاروبار کے میدان میں پہلے سے کئی کمپنیاں صارفین کو اپنی خدمات مہیا کرا رہی ہیں۔ ایسے میں صارفین کو اپنی خدمات کی طرف راغب کرنا اور انھیں اطمینان دلانا ضروری ہے۔ اضلاع میں آن لائن کاروبار کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ان علاقوں تک شہروں کی طرح کمپنیوں کی رسائی نہیں ہے۔ ڈیلیوری کرنے والوں کو دیہی علاقوں کا زیادہ علم بھی نہیں ہوتا۔ عبداللہ عاصم نے بتایا کہ اسی وجہ سے مقامی لوگ بڑی کمنیوں کے پلیٹ فارم سے جڑ نہیں پاتے۔ ایسے میں یہ ایک پلس پوائنٹ کے ساتھ ساتھ چیلنج بھی ہے کہ ہماری خدمات سماج کے آخری اور دیہی افراد تک بھی پہنچے۔ ’مائی سٹی کارٹ‘ کریم نگر کی عوام کے لیے ایک بہترین متبادل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محض دو برس کے عرصے میں دس ہزار سے زائد صارفین ان کی خدمات (Deliveries) حاصل کر رہے ہیں۔
آن لائن کاروبا رمیں سروس کے دوران صارفین کا کس طرح رد عمل رہا۔ کیا صارفین آپ کی خدمات سے مطمئن ہیں؟ اس پر عبداللہ عاصم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کاروبار میں کاروباری ادارہ/ مالک اور صارفین کے درمیان بہت گہرا رشتہ ہوتا ہے۔ صارفین اشیا و خدمات کی خریداری کے دوران جس شئے کو منتخب کرتے ہیں اس میں بھی اس کی قسم یا brand کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان کو فراہم کی جانے والی خدمات کس طرح ہیں۔ ان سب کے بارے میں وہ اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ چیز ایک کاروبار کے لیے بہت ہی اہم ہوتی ہے۔ ہمیں صارفین کی جانب سے دیے گئے ہر طرح کے فیڈ بیک کا استقبال کرنا چاہیے۔ اسی سے ہمیں علم ہوتا ہے کہ ہمارے کاروبار / سروس کے ضمن میں صارفین کیا رائے رکھتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جہاں تک صارفین کے اطمینان و تسکین (Satisfaction) کی بات ہے تو میں یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ تاحال صارفین کا ملا جلا رد عمل رہا ہے۔ ہمیں صارفین مشورہ بھی دیتے ہیں کہ اسے اس طرح کیا جائے اور اس طرح نہ کیا جائے۔ اس طرح کے رد عمل کو احترام کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ اسی سے کاروبار میں نئی تبدیلیاں لائی جاسکتی ہے اور اسی سے کاروبار کو مزید فروغ ملے گا۔کسی بھی شئے کو صارفین میں متعارف کروانے کے لیے اشتہار بازی (Advertising) بہت ہی ضروری ہوتی ہے۔ اس پر ہم نے سوال کیا کہ وہ اپنی خدمات کو مزید صارفین تک پہنچانے کے لیے کس طرح کی اشتہار بازی کرتے ہیں؟ تو انھوں نے بتایا کہ اشتہار بازی تو ہر کاروبار کے لیے ضروری ہے۔ آن لائن کاروبار کے لیے تو یہ بہت ہی ضروری ہے۔ ایک معمولی شئے بازار میں لانچ کی جارہی ہے تو اس کے لیے بھی اشتہار لازمی ہے۔ ہم تو کئی اشیا کو مقام پیداوار سے مقام صَرف تک پہنچانے کا کام کر رہے ہیں۔ اشتہار ہی کے ذریعے صارفین کو پتا چلے گا کہ ہمارے یہاں کون سی اشیا دستیاب ہیں، ان کی قیمتیں کیا ہیں، وہ آرڈر دینے کے کتنی دیر بعد گھر تک پہنچے گا۔ ان ساری تفصیلات اور اس سے متعلق اشتہار بازی کے لیے مائی سٹی کارٹ کی مستقل ویب سائٹ http://mycitykart.com/ ہے۔ مائی سٹی کارٹ کا اینڈرائیڈ ایپ بھی ہے جہاں دستیاب شدہ اشیا سے متعلق تمام معلومات فراہم کی جاتی ہیں اور ہر چیز کے بارے میں نئی تفصیلات بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ہم اشتہار بازی کے لیے سابقہ اور نئے صارفین سے واٹس ایپ کے ذریعے مسلسل رابطہ میں ہے۔ کسی بھی کاروبار میں صحت مند مسابقت کاروبار کو ایک نئے روح بخشتی ہے وہیں اسے پہلے سے موجود کمپنیوں سے بھی مقابلہ (Competition) کرنا پڑتا ہوگا؟ اس ضمن میں عبداللہ عاصم نے بتایا ہے کہ ’بالکل! ہم پہلے سے موجود خدمات فراہم کرنے والی فرمس سے بہتر اور صحت مند انداز میں مقابلہ کر رہے ہیں۔ اوپر میں نے بتایا کہ دیہی اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں ان فرمس کی خدمات مہیا نہیں ہیں۔ ایسے میں مائی سٹی کارٹ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ کریم نگر کی حد تک ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہر گھر تک ڈیلیوری کے لیے اجازت مل چکی ہے۔ بلکہ کریم نگر انتظامیہ نے ہمارے آنے لائن کاروبار کو سرکاری طور پر رجسٹرڈ اور سرٹیفائیڈ بھی کر دیا ہے۔ آپ کو بتا دوں کہ کورونا وائرس کے باعث نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے دوران بھی سخت ترین حالات میں مائی سٹی کارٹ عوام کی خدمات میں مصروف رہا۔ جب کہ دیگر کمپنیوں کی خدمات اس دوران مسدود رہیں‘۔
اوپر انھوں نے سرکاری اجازت کی بات کہی ہے۔ حکومتی سطح پر تو آتم نربھر (خود کفیل) بھارت کی بات کہی جارہی ہے۔ چھوٹے، بہت چھوٹے اور درمیانی درجہ (MSMEs) کے کاروبار کو فروغ دینے کی بھی بات بڑی زور و شور سے کہی جارہے ہے۔ ایسے میں ان کا یہ اقدام کیا بھارتی صنعت کو فروغ دینے کی سمت اہم پیش رفت ہے؟ اس پر عبداللہ عاصم نے بتایا ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں جس طرح ہر فرد کو خود انحصار بننا ضروری ہے اسی طرح ہر ملک کو بھی اپنے دستیاب وسائل کو استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ بیرونی ممالک کی درآمدات پر زیادہ انحصار نہ رہے۔ بلکہ اکیسویں صدی کے بھارت کو تو اس قابل بننا ہے کہ یہاں کی معیاری اشیا نہایت ہی سستے داموں دنیا کے ہر ملک میں دستیاب رہیں۔ یہی بات سرویسز کے ضمن میں کہی جاسکتی ہے۔ علی بابا، والمارٹ اور ایمیزون جیسے عالمی پلیٹ فارم بھارت میں اپنی خدمات فراہم کررہے ہیں لیکن بھارت ابھی اس میدان میں پیچھے ہے۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مائی سٹی کارٹ کا یہ اقدام اسی سمت میں اہم پیش رفت ہے کہ ہماری خدمات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں اور ہمارا وطن عزیز بھارت خود کفیل بن جائے۔
mrpasha1994@gmail.com
***

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 15 تا 21 نومبر، 2020