سلطان پور لودھی کی ویران تاریخی مسجد کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کا فیصلہ

عمارت کی مرمت اپنے خرچ پر کروانے سکھ برادری کی پیشکش ۔عقیدہ توحیدمسلم ۔ سکھ اتحاد کی بنیاد بن سکتا ہے : امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند پنجاب

 

پنجاب میں سکھ برادری نے مذہبی رواداری کی ایک اور شاندار مثال پیش کرتے ہوئےقصبہ سلطان پور لودھی کی ایک تاریخی مسجد کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے اور مسلمانوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ اس مسجد کی مرمت اپنے خرچ پر کروائیں گے۔ ریاست پنجاب کے مسلمانوں کے لیے ۱۳ نومبر بروز جمعہ کا دن بے حد خاص رہا کیونکہ سکھ برادری نے قصبہ سلطان پور لودھی میں ایک پر وقار تقریب منعقد کرتے ہوئے مقامی مسلمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اور نواب دولت خاں کے قلعہ میں خستہ حال ہوچکی مسجد میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر نماز شکرانہ ادا کی۔ اس موقع پر سنت بابا سکھ دیو سنگھ ڈیرہ رومی بھچوں کلاں والے اور سنت بابا بلبیر سنگھ سیچے وال نے اپنی تقاریر سے دل موہ لیے۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ تقسیم وطن کے وقت جب پورا مشرقی پنجاب مسلمانوں سے خالی ہوگیا تھا تو پنجاب کے باقی دیہاتوں، قصبوں اور شہروں کی طرح شہر سلطان پور لودھی کی سبھی مساجد لاوارث اور ویران ہوگئی تھیں۔ نواب دولت خاں کے اس قلعہ پر جہاں خستہ حال تاریخی مسجد اب بھی موجود ہے محکمہ پولیس نے قبضہ کرلیا اور آج تک مسجد کے علاوہ اس کےباقی حصہ پر پولیس تھانہ بنا ہوا ہے۔ ایک ایسے وقت جب مختلف مسلم تنظیمیں گرونانک دیو جی کی 550سالہ یوم پیدائش تقاریب بڑے پیمانہ پر منارہی ہیں، ڈیرہ رومی بھچوں کلاں کے صدر سنت بابا سکھ دیو سنگھ کو خیال آیا کہ کیوں نہ اس تاریخی اہمیت والی مسجد کی عظمت رفتہ کو بحال کیا جائے جو مذاہب کے درمیان رواداری کی ایک قابل تقلید مثال بنے گی۔ اس خیال کے آتے ہی انھوں نے فیصلہ کرلیا کہ خصوصی تقریبات کے ایک حصہ کے طور پر اس مسجد کی مرمت و تزئین نو کا بیڑا اٹھایا جائے۔ چنانچہ انھوں نے اس سمت میں فوری اقدام کرتے ہوئے پنجاب کے مختلف علاقوں سے مسلم نمائندوں کو اس تاریخی مسجد میں آکر نماز شکرانہ ادا کرنے کی دعوت دی۔ اس ضمن میں انھوں نے سماجی جہد کار جناب ضمیر علی سے رابطہ کیا تھا۔ جناب محمد ارشاد کی رپورٹ کے مطابق ۱۳ نومبر بروز جمعہ مالیر کوٹلہ کی متعدد مسلم تنظیموں کے ایک وفد نے امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند حلقہ پنجاب جناب عبدالشکور سے ملاقات کی اور سنت بابا کی جانب سے مسجد میں نماز شکرانہ کی ادائیگی کی دعوت سے مطلع کیا جس پر امیر حلقہ پنجاب بھی اپنے کیڈر کے ہمراہ اس تقریب میں پہنچے جہاں سینکڑوں مردو خواتین نے ان کا استقبال کیا۔ بعد نماز جمعہ منعقدہ تقریب میں سنت بابا بلبیر سنگھ بھی آئے ۔ انھوں نے مسلمانوں کا استقبال کرتے ہوئے مستقبل میں انھیں ہر جائز مسئلہ میں تعاون پیش کرنے کا یقین دلایا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر حلقہ جناب عبدالشکور نے کہا کہ عقیدہ توحید مسلم۔ سکھ اتحاد کی بنیاد بن سکتا ہے جیسا کہ گرونانک دیو جی بھی توحید کے قائل تھے۔ انھوں نے اس دھرتی پر قرآن کا پیغام ہی عام کیا تھا اور جہاں تک ان کی معلومات کا تعلق ہے وہ قرآن کے ایک عالم بھی تھے۔ انھوں نے مجمع میں موجود سکھ حاضرین سے اپیل کی کہ وہ گرونانک دیو جی کی پیروی کرتے ہوئے قرآن کا مطالعہ کریں تاکہ اپنے گرو کے نظریات کو سمجھنے میں انھیں آسانی ہوسکے۔ جناب عبدالشکور نے ملک کے مخصوص حالات کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مختلف مذاہب کے امن پسند رہنماوں کو متحد ہوکر آج شرپسند گروہوں کے عزائم کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں متحدہ کوششوں میں تیزی پیدا کرنی چاہیے۔ سنت بابا سکھ دیو سنگھ نے اس موقع پر مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مختلف مذاہب کے نیک صفت لوگوں کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ سچائی اور انصاف کے لیے جدوجہد کرنا بابا سکھ دیو سنگھ کی تعلیمات کا خلاصہ ہے اور ان کو ہم اسی وقت صحیح معنی میں خراج عقیدت پیش کرسکتے ہیں جب نیک صفت لوگ مل کر سچائی اور انصاف کی خاطر جدوجہد کریں اور ایک اچھے سماج کی تعمیر کریں۔ اس تقریب سے جن دیگر شخصیتوں نے خطاب کیا ان میں گیانی کرنیل سنگھ غریب، بھائی ہمت سنگھ، بابا کلوندر سنگھ کرالی والے ، ڈاکٹر محمد ارشاد ، عبدالغفار (سہادا والے) ، محمد اخلاق ، مولانا مجتبیٰ یزدانی، اور محمد شہزاد قابل ذکر ہیں۔
***

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 15 تا 21 نومبر، 2020