اسکالرشپ کی بروقت عدم دستیابی خودکشی کی وجہ

ایشوریہ ریڈی کی موت پر طلباء تنظیموں کا احتجاج

 

لیڈی سری رام کالج دلی کی ہونہار طالبہ 19 سالہ ایشوریہ ریڈی کی خودکشی کی وجہ سے ہوئی موت کے خلاف دلی میں طلبا تنظیموں نے پُر زور احتجاج کیا۔ طلبا نے اس خودکشی کو ادارہ جاتی قتل (Institutional Murder) قرار دیا۔ اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کی دلی اسٹیٹ کمیٹی کے طلبا نے ایک پریس کانفرنس منعقد کرتے ہوئے طلباء کو ملنے والی اسکالرشپ کی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس دوران کئی طلبا تنظیموں سے وابستہ قائدین نے بھی الزام عائد کیا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے طالبہ کے والد روزگار سے محروم ہوگئے تھے جس کی وجہ سے وہ دلی واپسی کی سکت نہیں رکھتی تھی جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے ماہ مارچ سے اسکالرشپ روک دی گئی اور لاک ڈاؤن میں ہاسٹل کے تخلیہ احکامات بھی جاری کیے گئے تھے جس سے وہ کافی پریشان ہوگئی تھی۔ انھوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر طالبہ کی کسی بھی طرح مدد نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
تلنگانہ کے ضلع رنگا ریڈی سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ نے جو دلی یونیورسٹی کے لیڈی سری رام کالج میں زیر تعلیم تھی، اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے درکار عوامل کی عدم دستیابی اور اپنے خاندان کی معاشی مشکلات سے مایوس ہوکر خود کشی کر لی۔ پولیس اور طالبہ کے والدین نے بتایا کہ آئی اے ایس بننے کی خواہش مند ایشوریہ ریڈی، 2 نومبر کو شاد نگرکے فرخ نگر میں واقع اپنے مکان کے کمرے میں پھانسی پر لٹکی ہوئی پائی گئی اسے فوری ہاسپٹل منتقل کیا گیا جہاں اسے مردہ قرار دیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ ریاضی کی بی ایس سی (آنرس) کی سال دوم کی طالبہ رواں سال مارچ میں ہی دلی سے واپس ہوئی تھی کیونکہ کوویڈ-19 کی وباء کی وجہ سے کالج انتظامیہ نے طلبہ کو ہاسٹل چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔ ایک اور ذرائع کے مطابق ہاسٹل کی فیس ادا نہ کرنے کی وجہ سے طالبہ کا ہاسٹل سے تخلیہ کروا دیا گیا تھا۔
پولیس کو انتہائی اقدام سے قبل طالبہ کی جانب سے تحریر کردہ ایک خود کشی نوٹ بھی دستیاب ہوا ہے جو ایشوریہ ریڈی نے ہی لکھا تھا جس میں کہا گیا کہ وہ اپنے تعلیمی اخراجات کے لیے اپنے والدین پر بوجھ بننے کی خواہاں نہیں ہے۔ طالبہ کے والد جی سرینواس ریڈی نے جو گاڑیوں کے میکانک ہیں، بتایا کہ ان کی بیٹی مالی مشکلات کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے سلسلے میں پریشان تھی۔ ایشوریہ ریڈی کو انٹرمیڈیٹ سال دوم میں اچھے نمبرات آئے تھے جس کی وجہ سے اسے لیڈی سری رام کالج دلی میں داخلہ ملا تھا۔ انھوں نے قرض حاصل کرتے ہوئے اپنی بیٹی کو اس کالج میں داخلہ دلوایا تھا۔ طالبہ کے رشتے داروں نے بتایا کہ آن لائن کلاسس میں شرکت کے لیے اس کے پاس اچھا لیپ ٹاپ حتیٰ کہ اسمارٹ فون تک نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ کافی تناؤ میں تھی۔
دلی کے لیڈی سری رام کالج کی طالبہ ایشوریہ ریڈی کی خودکشی نے ہمارے ملک کے تعلیمی نظام کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ اس خودکشی کے واقعہ سے تعلیمی نظام کے اندر پائی جانے والی دو طرح کی واضح خامیاں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔
پہلی خامی یہ کہ وقفہ وقفہ سے حکومتیں جو مستحق طلباء کے لیے بے شمار اسکالرشپس اور اسکیموں کا اعلان کرتی ہیں کیا واقعی وہ حقیقی اور ضرورت مند طلبا تک بروقت پہنچ پاتے ہیں یا اسکول اور کالجس کے انتظامیہ ان طلباء کو حکومتوں کی یہ سہولتیں فراہم کروانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں؟ کہنی اور کرنی میں کہاں فرق واقع ہو رہا ہے ایشوریہ ریڈی کی خودکشی نے ان بڑے بڑے دعوؤں پر سے حقیقت کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ دوسری خامی یہ کہ لاک ڈاؤن کی ابتدا میں آن لائن تعلیم حاصل کرنے پر جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا انہی میں سے ایک نے ہونہار طالبہ کی جان لے لی۔ ہمارے ملک میں ایشوریہ ریڈی اور اس طرح کے بے شمار طلبا درس و تدریس کے لیے ضروری جدید ٹیکنالوجی سے لیس بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ تو بہت دور کی بات ہے وہ عام حالات میں بھی اسکولی عمارتیں، فرنیچر، کتابیں اور ذرائع حمل و نقل سے بھی محروم ہیں۔ ہمارے ملک کے اربابِ اقتدار کے پاس مجسمے کھڑا کرنے اور عمارتیں بنوانے کے لیے تو خوب پیسہ ہے لیکن غریب اور مستحق طلبا کو دینے کے لیے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔
ملک کے تمام طلبا کا جاریہ تعلیمی سال کوویڈ-19 وبائی مرض کی لپیٹ میں ہے لیکن آٹھ مہینے گزر جانے کے بعد بھی نہ مرکزی حکومت نے کوئی ٹھوس لائحہ عمل جاری کیا ہے اور نہ ہی ریاستی حکومتوں نے آن لائن تعلیم حاصل کرنے والے بڑی جماعتوں کے غریب اور مستحق طلبا کی امداد کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔
اس کے علاوہ اسکالرشپ سسٹم میں پائے جانے والا ایک اور جھول ہے جس کی وجہ سے ایشوریہ ریڈی جیسے نہ جانے کتنے طلبا یونہی پریشان ہوتے ہیں۔ کالج ڈراپ آوٹ کے خدشے سے گریجویشن کے پہلے سال کی اسکالرشپ دوسرے سال میں دی جاتی ہے جس کی وجہ سے طلباکو پہلے سال کے اخراجات ادا کرنے کے لیے دوسرے ذرائع پر اکتفا کرنا پڑتا ہے لیکن جب لاک ڈاؤن کی وجہ سے آمدنی کے ذرائع بھی محدود ہوگئے تو طلبا اپنے معاشی مسائل کے حل کے لیے کریں تو آخر کیا کریں؟
***

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 15 تا 21 نومبر، 2020