بہار کے انتخابی نتائج

ذات پات ہنوز ایک اہم عنصر

نہال صغیر ، ممبئی

 

بہار انتخابی نتائج نے سارے ایگزٹ پولس اور قیاس آرائیوں کی حقیقت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ہاں اتنی سی بات درست ثابت ہوئی ہے کہ مقابلہ سخت ہے۔ موجودہ نتائج پر بعض افراد نے یہ کہا کہ اس بار ذات پات کی سیاست نہیں چلی، یہ بات پوری طرح درست نہیں ہے۔ یہ باتیں بی جے پی کی جانب سے پھیلائی جارہی ہیں جس کے بھرم میں کچھ مسلمان بھی مبتلا ہو رہے ہیں۔ہمیشہ کی طرح اس الیکشن میں بھی بہار ذات پات کی سیاست سے پاک نہیں رہا اور ووٹنگ بھی اسی بنیاد پر ہوئی۔ موجودہ سیاسی ماحول میں اس سے پاک ہوا بھی نہیں جاسکتا۔ ذات پات کی سیاست کے سرخیل ملائم سنگھ اور لالو پرشاد کبھی نہیں چاہیں گے کہ اس کاخاتمہ ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آر ایس ایس اور منو وادیوں کی ہر سازش سے باخبر ہیں، ہر چند کہ دونوں سرگرم سیاست میں ناکام ہوتے نظر آرہے ہیں لیکن ان کے اثرات سے ذات پات کی سیاست کبھی باہر نہیں نکل پائے گی۔ بعض اطراف سے یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ آر جے ڈی یا کانگریس کے امیدواروں کو ہندوؤں نے ووٹ نہیں دیا اسے بھی سچ ماننے کی گنجائش کم ہی ہے۔ ساری سیاسی پارٹیاں اسی ذات سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو ٹکٹ دیتی ہیں جس کے ووٹروں کی تعداد زیادہ یا پھر فیصلہ کن ہو۔ ایسا کئی بار ہوا ہے کہ مخالف نظریے کا امیدوار محض اس لیے فتحیاب ہوا کہ اس کی ذات کی آبادی زیادہ تھی۔ موجودہ الیکشن میں بھی ایسا ہی ہوا۔ جیسے مسلم حلقوں میں سیاسی پارٹیاں صرف مسلم امیدوار ہی اتارتی ہیں اسی طرح ہندوؤں کی مختلف ذاتوں کے تعلق سے بھی ان کی پالیسی یہی ہے۔ ہندوستان میں چونکہ سیاست ایک شطرنجی کھیل سا بن گیا ہے اس لیے کئی بار سیاسی پارٹیاں اس طرح کی کوشش بھی کرتی ہیں جیسا کہ نتیش کمار کی پارٹی کے خلاف بی جے پی نے ایل جے پی کے چراغ پاسوان کو باغی بنا کر میدان میں اتارا اور یوں نتیش 71 سیٹوں سے 43 سیٹوں پر آگئے۔ یہ ذات پات کی سیاست یا پسماندہ طبقے کی سیاسی قوت ختم کرنے کی ایک منصوبہ بندی ہے ۔
ہم یہاں سیٹوں کی شکست و فتح کے فرق کے اعداد وشمار کو پیش کرنے کے بجائے کچھ سیٹوں پر ووٹوں کا تناسب پیش کرکے یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ کئی باتیں غلط ہیں جن میں ایک یہ کہ یادوؤں نے مسلم امیدواروں یا آر جے ڈی کے امیدواروں کو نظر انداز کردیا ۔ میرا اسمبلی حلقہ پاتے پور ہے، آر جے ڈی کا امیدوار شیو چندر رام کو 60670 ووٹ ملے اور بی جے پی کے امیدوار کو 86509 ووٹ ملے۔ یہاں یہ کہنے کی گنجائش بالکل بھی نہیں ہے کہ آر جے ڈی کے امیدوار کو پسماندہ طبقات نے ووٹ نہیں دیا۔ اسی طرح کیوٹی سے آر جے ڈی کے امیدوار عبد الباری صدیقی کو 71053 ووٹ ملے اور وہ بی جے پی کے امید وار سے پانچ ہزار ووٹوں سے ہار گئے۔ یہاں یہ کہنا کہ یادوؤں یا دیگر پسماندہ طبقہ نے صدیقی کو ووٹ نہیں دیا غلط ہے۔ کیوٹی سے دس ہزار سے زائد ووٹ آزاد امیدواروں نے حاصل کیے اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی پارٹیوں اور نوٹا نے بھی اسی کے آس پاس ووٹ حاصل کیے۔ جالے سے مشکور عثمانی بی جے پی کے امیدوار سے 21 ہزار سے کچھ زائد ووٹوں سے ہار گئے۔ ان دونوں جگہوں پر مسلم آبادی تیس فیصد سے زیادہ ہے۔ جالے میں بھی آزاد امیدوار، نوٹا اور چھوٹی پارٹیوں نے دس ہزار سے زائد ووٹ لیے۔ کچھ ہزار پسماندہ ہندوؤں نے بی جے پی کو ووٹ دیا ہوگا مگر یہ کہنا کہ پوری تعداد مسلمانوں کے خلاف بی جے پی کے ساتھ ہوگئی غلط ہے۔ ان دونوں جگہوں پر مسلم امیدواروں نے دو تین ہزار سے زائد ووٹ حاصل نہیں کیے۔ اس لیے یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ مسلم ووٹوں کی تقسیم ہوئی ہے اور ہندو ووٹ پوری طرح متحد ہوگیا ہے۔ مگر کچھ بھی غور کیے بغیر کچھ ایسی باتیں کی جاتی ہیں جس سے پالیسی بنانے یا حکمت عملی طے کرنے میں دشواری ہوسکتی ہے جبکہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ مسلمان سر جوڑ کر بیٹھیں اور سیاسی لائحہ عمل ترتیب دیں۔ اگر وہ متحد ہوگئے تو وہ یہاں کے حالات کا رخ اب بھی تبدیل کر سکتے ہیں بس معاملہ یہ ہے کہ وہ عملاً کچھ کریں صرف باتیں نہ کریں۔
موجودہ الیکشن میں کانگریس نے شاید یہ سوچا تھا کہ اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کا ووٹ اس کو ملے گا مگر ایک عرصہ ہوا جب اعلیٰ ذات جس کی آبادی تقریبا 15 فیصد ہے ووٹر کی حیثیت سے بی جے پی کے لیے مختص ہو چکا ہے اب کانگریس کو سوائے مسلمانوں کے ووٹوں کے کسی سے امید نہیں ہے اسی لیے وہ ستر میں سے صرف انیس سیٹ ہی حاصل کر پائی۔ اس کے باوجود کانگریس مسلم سیاسی لیڈر شپ کو آگے بڑھنے سے روکتی رہی ہے اور آج بھی وہ اپنی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
این ڈی اے کو واضح اکثریت مل جانے اور بی جے پی کی دوسری سب سے بڑی پارٹی بننے میں ان کے لیے جو باتیں مفید رہی ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ ساٹھ سال یا اس سے اوپر کے پسماندہ طبقات کے ووٹروں نے مودی یا کنول کو ووٹ دیا۔ ایک ضعیف خاتون سے ہم نے پوچھا کہ اس نے کس کو ووٹ دیا تو پہلے تو وہ ٹال گئی لیکن بعد میں دوسرے طور سے سوال کرنے سے اس نے قبول کیا کہ اس نے کنول چھاپ یا مودی کو ووٹ دیا ہے۔ اس کی وجہ ضعیفی پنشن کے طور پر کچھ سو روپے یا لاک ڈاؤن میں اناج کا ملنا جسے مودی اور بی جے پی نے بڑی آسانی سے اپنا کارنامہ قرار دے لیا اور حزب اختلاف اس کو رد کرنے میں ناکام رہا۔ یہی نہیں کہ صرف ایک بوڑھی کا معاملہ یہ تھا ہم نے کئی ضعیف لوگوں سے معلوم کیا تو سبھی کے تقریبا اسی طرح کے خیالات رہے۔ ان کے سامنے ہندوستان پاکستان یا ہندو مسلمان وغیرہ کا کوئی معاملہ نہیں تھا۔ بی جے پی کی مرکزی لیڈر شپ نے ضرور فرقہ وارانہ منافرت والے بیانات دیے یا پاکستان کا معاملہ اٹھایا مگر زمینی سطح اور مقامی طور پر اس نے جو کچھ کام کیے ہیں اس کو پیش کیا جسے کم پڑھے لکھے لوگوں نے آسانی سے قبول کرلیا جس کی مثال اوپر پیش کی گئی ہے۔ فرقہ پرستانہ ذہنیت بھکت قسم کے نوجوانوں یا عمر دراز ووٹروں میں پائی جاتی ہے اور انھوں نے اس کا اظہار کیا مگر انھوں نے بھی اپنے اعلیٰ قیادت کی کسی خفیہ پیغام پر محنت کی اور وہ وہی تھا جس میں ترقیاتی کاموں یا امدادی اسکیموں کا ذکر ہے۔ اس لیے روایتی الزام تراشی سے مسلمان یا سیکولر پارٹیاں خود کو بچائیں اور ٹی وی یا اخبارات کے علاوہ زمینی سچائی کو بھی دیکھیں کہ وہاں کیا چل رہا ہے۔ جیسا کہ این ڈی ٹی وی کے اینکر نے کانگریس لیڈر شپ کے بارے میں کہا کہ وہ سفید اور شکن سے پاک کپڑے زیب تک کرکے دفتر میں ٹکٹ فروخت کرنے کا کام کرتے ہیں، زمینی سطح پر کانگریس کا کام صفر ہے۔
ایک اور بات جو اس الیکشن سے نکل کر سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ مایوسی کی کوئی بات نہیں اور مایوسی کی کوئی بات کیوں نہیں ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے آپ الیکشن کے نتائج کو دیکھ لیں کہ ہار جیت کا تناسب کتنا کم ہے۔ ایسا ہیجان انگیز معاملہ صرف کرکٹ کے کھیل میں ہوا کرتا تھا جب کچھ گیند اور چند رن کی بات ہوا کرتی ہے مگر موجودہ بہار کے الیکشن میں بھی یہی ہیجانی کیفیت دیکھنے کو ملی اور یقیناً امیدواروں کا بلڈ پریشر اوپر نیچے ہوا ہوگا اور بالآخر محض چند ووٹوں سے جن میں بارہ، چوبیس اور اور چونتیس کا ہندسہ شامل سے، ہار جیت ہوئی ہے۔ اس لیے جن لوگوں کو ہندوتوا کے عروج یا بی جے پی کی فتح سے خوف آتا ہے وہ یہ سمجھ لیں کہ حالات اب بھی قابو میں ہیں۔ اگر نام نہاد سیکولر پارٹیاں اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور صرف مسلمانوں سے ہی مطالبہ نہ کریں کہ وہ انھیں ووٹ دیں اور اویسی کو اپنی ہار کا ذمہ دار قرار نہ دیتے ہوئے اگر وہ موجودہ نتائج سے سبق حاصل کریں تو آئندہ الیکشن میں بی جے پی کو اس کے ہدف سے کافی پیچھے دھکیل سکتی ہیں۔
حزب اختلاف میں سوائے تیجسوی کے کوئی ایسا نظر نہیں آتا جس نے خود پر قابو رکھتے ہوئے خود کو بالغ نظر سیاست داں ثابت کیا ہو۔ اس نے مودی کے جنگل راج کا یو راج یا نتیش کے ذاتیات پر مبنی بیانات کا کوئی بھی سطحی جواب نہیں دیا۔ اس کے برعکس اس نے پڑھائی دوائی جیسے نعروں سے پورے الیکشن مہم کا رخ ہی موڑ دیا۔ اگر تیجسوی کی طرح کانگریس کی طرف سے بھی ایسی ہی کوشش ہوتی تو نتیجہ اس سے بھی بہتر ہوتا۔ میرے نزدیک یہ نتیجہ برا نہیں ہے، ہاں عظیم اتحاد کو اکثریت نہیں مل سکی مگر آر جے ڈی کے ووٹ فیصد میں اضافہ ہوا ہے اور این ڈی اے کی اکثریت کے باوجود بی جے پی کے ووٹ فیصد میں کمی آئی ہے اور یہ ذات پات کی بنیاد پر سیاست کے سبب ہی ممکن ہوسکا ہے اس لیے بہار میں ذات پات کی سیاست کے ختم ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ یہ تقسیم خود یہاں کی تہذیب و ثقافت کا حصہ ہے، سنگھ کے کارکنان اس کے خلاف بات تو کرتے ہیں مگر وہ منو سمرتی کو ختم کرنے پر راضی بھی نہیں۔ یہی بات پسماندہ طبقات کو سمجھانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بی جے پی کی جانب جانے سے پرہیز کریں۔

اگر نام نہاد سیکولر پارٹیاں اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور صرف مسلمانوں سے ہی مطالبہ نہ کریں کہ وہ انھیں ووٹ دیں اور اویسی کو اپنی ہار کا ذمہ دار قرار نہ دیتے ہوئے اگر وہ موجودہ نتائج سے سبق حاصل کریں تو آئندہ الیکشن میں بی جے پی کو اس کے ہدف سے کافی پیچھے دھکیل سکتی ہیں۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 15 تا 21 نومبر، 2020