بے روزگاری کا آتش فشاں:عوام ، حکمرانوں کی مزید سردمہری کے متحمل نہیں

بہار اور گجرات کےتناظر میں بیروزگاری و اجرت کا جائزہ

ڈاکٹر سلیم خان،ممبئی

 

بہار کے انتخابی نتائج نے ان سارے لوگوں کو مایوس کیا جو ہندوستان کا سب سے کم عمر وزیر اعلیٰ دیکھنے کے خواب بُن رہے تھے۔ پچھلے پندرہ سالوں سے یہ ہو رہا ہے کہ نتیش کمار جس کے ساتھ جاتے ہیں وہ انتخاب جیت جاتا ہے۔ اس بار بھی یہی ہوا مگر خود نتیش کمار چلے گئے۔ ان کی جماعت جو پچھلے انتخاب میں پہلے سے دوسرے نمبر پر سرکی تھی وہ اب تیسرے پر پہنچ گئی اور انھوں نے اپنی سبکدوشی کا اعلان بھی کردیا۔ اس طرح گویا تیجسوی نے اپنی ناکامی کے باوجود بہار کی سیاست میں ایک اہم باب کو بند کردیا۔ اس انتخاب کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ باوجود کوشش کے وزیر اعظم اس کو جذباتی موضوعات کی نذر نہیں کرسکے اور اس میں پڑھائی، کمائی دوائی اور سنیچائی کے عنوانات چھا گئے۔ ان چاروں میں سب سے زیادہ زور بیروزگاری پر تھا اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر یہ چمتکار کیسے رونما ہوا اور کیا وجہ ہے کہ اس بار کوئی 10 لاکھ تو کوئی 19 لاکھ ملازمتوں کا وعدہ کر رہا تھا؟
ہندوستانی انتخابات میں جہاں جذباتی نعروں پر الیکشن بازی کی جاتی تھی اس بنیادی مسئلہ پر انتخاب کا ہونا خوش آئند بات ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر بہار میں بیروزگاری کو اس قدر اہمیت کیوں کر حاصل ہو گئی؟ اور کیا یہ ملک کے دیگر صوبوں جیسے گجرات وغیرہ میں بھی انتخابات کا مرکزی موضوع بن سکتا ہے؟ ان سوالات کا جواب ہمیں ان جائزوں میں نہیں ملے گا جو ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پر کیے جاتے رہے۔ ایک ایسے دور میں جبکہ قومی ذرائع ابلاغ چند استثناء کے ساتھ پوری طرح حکومت کی مٹھی میں ہیں وہیں سوشل میڈیا کا زمینی حقائق سے عوام کو روشناس کرانے کی ذمہ داری ادا کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن جن چند لوگوں کے نقطہ نظر کو موبائل کیمرے میں فلمبند کرنے سے عوام کی مکمل نمائندگی نہیں ہوتی۔ کیمرے کے سامنے بولنے والے لوگوں کا مشاہدہ محدود ہوتا ہے اس لیے مجموعی صورتحال کا پتہ لگانے کے لیے کچھ سرکاری و غیر سرکاری تحقیقاتی رپورٹس کے اعداد وشمار کو دیکھنا ضروری ہے۔
ریزرو بنک آف انڈیا ہر سال ایک سالانہ ہینڈ بک شائع کرتا ہے۔ اس میں مختلف معاشی موضوعات کے حوالے سے تازہ اعداد وشمار اور اس کا گزشتہ سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ یہ دستاویز ہنوز سرکاری خرد برد سے محفوظ ہے اس لیے یہ کافی معاون و مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ پچھلے ہفتہ ریزرو بنک آف انڈیا نے اسے شائع کیاتھا، یہ چونکہ ایک بہت ضخیم کتاب ہے اس لیے فی الحال اس میں شامل صرف بیروزگاری والے جدول پیش نظر ہیں۔ ملک کی ساری ریاستوں کا موازنہ لکھنے اور پڑھنے دونوں کے لیے دقت طلب ہوسکتا ہے اس لیے آسانی کی خاطر بہار جہاں انتخابات جاری ہیں اور گجرات کو منتخب کیا گیا ہے۔ عام طور پر بہار کے سارے مسائل کو بلا کسی ثبوت کے لالو پرساد یادو سے جوڑ دیا جاتا ہے اور ساری خوبیاں بلا جواز نتیش کمار کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہیں لیکن یہ اعداد وشمار اس خیال کی نفی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
1993-94میں لالو پرساد یادو بہار کے وزیر اعلیٰ تھے۔ اس وقت بہار میں شہری مردوں کے اندر بیروزگاری کا تناسب 6.8 فیصد تھا۔1999-2000میں یہ بڑھ کر 7.3 پر پہنچ گیا لیکن جب انھوں نے اقتدار نتیش کمار کو سونپا تو یہ معاملہ 6.7 فیصد پر آ گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لالو جی کے راج میں بیروزگاری کے اندر جو اضافہ ہوا تھا وہ اس کو جاتے جاتے کم کر کے گئے۔ نتیش کمار نے 2000-2009تک اسے 6.3 فیصد تک اور 2011-2012میں 4.5 فیصد تک پہنچا دیا جو اچھی صورتحال تھی۔ غالباً اسی لیے انھیں 2015میں کامیابی بھی ملی لیکن 2017-2018کے آتے آتے حالات بگڑ گئے اور بیروزگاری کی سطح 9.2 تک جا پہنچی جو 2018-2019میں بڑھ کر 10.4فیصد ہوگئی۔ یہ کورونا سے پہلے کی بات ہے۔ کورونا میں جو لاکھوں مہاجر مزدور واپس ہوئے تو یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر گیا۔ بہار کے لوگ مختصر جتھوں میں روزگار کے لیے باہر جاتے تھے تو محسوس نہیں ہوتا تھا لیکن جب وباء کے سبب ایک ساتھ لوٹے تو یقیناً اس کو بہت زیادہ محسوس کیا گیا اور پھر جب انتخابات کا اعلان ہوا تو یہ مرکزی مسئلہ بن گیا۔ اب آئیے دیکھیں کہ اس دورانیے میں گجرات کے اندر کیا ہوا۔ 1993-1994میں جب گجرات کے آنجہانی کیشو بھائی پٹیل وزیر اعلیٰ تھے اس وقت شہر کے مردوں میں بیروزگاری کا تناسب 3 فیصد تھا۔1999-2000میں یہ گھٹ کر 2فیصد پر پہنچ گیا۔ اس طرح گویا جب نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا تو انھیں گجرات بہت اچھی حالت میں ملا تھا۔ ان کے دور میں گجرات کے اندر زبردست فسادات ہوئے اس کے سبب 2004-2005تک بیروزگاری 15 فیصد سے بڑھ کر 2.3 فیصد پر پہنچ گئی۔ نریندر مودی 2009-2010نے تک اسے 1.5فیصد تک اور 2011-2012میں 0.6تک پہنچانے کا کارنامہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے انجام دیا اور وہ مسلسل 3 انتخابات میں کامیاب ہوئے لیکن وزیر اعظم بن جانے کے بعد انھوں نے نوٹ بندی کر کے اور جی ایس ٹی لگا کر قومی معیشت کا ایسا بھٹاّ بٹھا دیا کہ اس سے گجرات بھی متاثر ہوا اور وہ 20 سال سے بھی زیادہ پیچھے چلا گیا۔ 2017-2018کے آتے آتے حالات ایسے بگڑے کہ بیروزگاری کی شرح 7 گنا بڑھ کر 4.3 تک جا پہنچی۔ اسی سال مودی اور شاہ کے تمام زور لگانے کے باوجود صوبائی انتخاب میں بی جے پی کی نشستیں 116 سے گھٹ کر 99 پر آگئیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے بیروزگاری کا موضوع انتخابی نتائج کو متاثر کرتا ہے۔ 2018-2019میں حالت سدھری تو ہے لیکن ابھی 1993-1994کے برابر نہیں آئی ہے یعنی 3.4فیصد پر ہے۔ کورونا نے اس میں جو اضافہ کیا ہے وہ الگ ہے۔
ان اعداد وشمار کا قومی اوسط سے بھی موازنہ دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ 1993-1994میں نرسمہا راؤ وزیر اعظم تھے اس وقت ملک کے اندر شہری مردوں میں بیروزگاری کا تناسب 4فیصد یعنی گجرات سے زیادہ اور بہار سے کم تھا۔ 1999-2000 میں مرکزی حکومت بدل گئی اور اٹل بہاری واجپائی نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھال لیا لیکن اس دوران قومی سطح پر بیروزگاری میں 12فیصد کا اضافہ ہوا اور وہ 4.5پر پہنچ گئی۔ 2004-2005 کے آتے آتے اس پر خاصہ کام ہوا اور وہ 3.8فیصد پر پہنچ گئی۔ یہ 16فیصد کی بہتری تھی لیکن وہ انتخاب پر اثر انداز نہیں ہوئی اور منموہن وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوگئے ان کی کوششوں سے 2009-2010تک اسے 2.8 فیصد پر لایا گیا یعنی تقریباً 30 فیصد کی کمی ہوئی۔ 2011-2012میں یہ 3 فیصد پر پہنچی یعنی معمولی اضافہ ہوا۔ نریندر مودی نے اس کو خوب بھنایا اور دو کروڈ ملازمتوں کا کھوکھلا نعرہ لگا کر انتخاب جیت گئے۔
وزیر اعظم بن جانے کے بعد نریندر مودی نے قومی معیشت کا ستیہ ناس کردیا اس لیے 2017-2018کے آتے آتے حالات ایسے بگڑے کہ بیروزگاری کی شرح 2 گنا سے بڑھ کر 7.1تک جا پہنچی۔ یہ گزشتہ 45 سالوں میں سب سے اونچی شرح تھی۔ 2018-2019میں بھی یہ حالت نہیں سدھری اور وزیر اعظم کے لیے دوبارہ انتخاب میں کامیابی مشکل ہوگئی۔ اس زمانے رافیل کا ہنگامہ چل رہا تھا چوکیدار چور ہے کے نعرے لگ رہے تھے اس لیے مجبوراً پلوامہ اور ائیر اسٹرائیک کی مدد لے کر انتخابی جنگ لڑی گئی اور مودی جی پھر سے کامیاب ہو گئے لیکن اس بار بہار میں یہ قوم پرستی کا جعلی نعرہ نہیں چل پایا اس لیے بی جے پی کو دقت پیش آگئی۔ تیجسوی یادو نے بیروزگاری کے مسئلہ کو اس قدر زوردار انداز میں اچھال دیا کہ بی جے پی کو بھی مجبوراً رام مندر، کشمیر اور پاکستان کو چھوڑ کر 19 لاکھ روزگار کا وعدہ کرنا پڑا لیکن چونکہ وہ ماضی میں دو کروڈ ملازمتوں کا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہی ہے اس لیے عوام کو اس پر اعتماد کرنا مشکل ہوگیا۔ اس کے باوجود بی جے پی کے وفادار رائے دہندگان نے اسے کامیاب کیا۔
یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ ہندوستان کے دیہی علاقوں میں بیروزگاری کی شرح شہروں کے مقابلے میں ہمیشہ کم رہی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ دیہات کا بیروزگار شہر میں آجاتا ہے۔ اس لیے 1993-1994میں قومی سطح پر دیہات کی بیروزگاری صرف 1.4 فیصد تھی بہار میں یہ تناسب 1.9اور گجرات میں 1.3فیصد تھا یعنی کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ نتیش کمار نے جب اقتدار سنبھالا تب بھی بہار کے دیہات میں بیروزگاری 1.8 فیصد اور گجرات میں اس کے نصف سے بھی کم 0.8فیصد تھی۔ 2011-2012کے آتے آتے جہاں گجرات کے دیہات کی بیروزگاری نصف ہوکر 0.4 فیصد پر پہنچی تو بہار میں یہ ڈیڑھ گنا بڑھ کر 2.7 پر چلی گئی۔ اس کے پانچ سال بعد مودی راج میں تو دیہات کی معاشی حالت ایسی تباہ برباد ہوئی کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ 2017-2018میں قومی سطح کا اوسط 3 گنا سے بڑھ کر 5.8 فیصد پر چلا گیا ۔ گجرات کے اندر بھی یہ 5.5 پر جا پہنچا اور بہار میں تو 7.2 فیصد پر چلا گیا۔ اس کے ایک سال بعد قومی سطح پر اور گجرات کے اندر تو اس میں کمی دیکھنے کو ملی مگر بہار میں یہ مزید ڈیڑھ گنا بڑھ کر 10.6 فیصد پر پہنچ گئی۔
یہ ایک غیر معمولہ اضافہ تھا پچھلے سال تک بہار کے دیہی علاقہ میں بیروزگاری کی شرح شہروں سے بدتر ہوچکی تھی اور کورونا نے اس کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ اس کا موازنہ اگر 15یا 25سال قدیم اعداد وشمار سے کیا جائے تو یہ 5گنا سے بھی زیادہ کا اضافہ ہے۔ اس تناظر میں دیکھیں تو بیروزگاری اب صرف شہروں کا نہیں بلکہ گاؤں گاؤں کا مسئلہ بن چکی ہے۔ کوئی نامہ نگار جب شہر سے نکل کر گاؤں میں بھی جاتا ہے تو اسے وہی گونج سنائی دیتی ہے ۔ این ڈی اے کے لیے فی الحال سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ لوگ اس مسئلے کے لیے نتیش کمار اور نریندر مودی دونوں کو مشترکہ ذمہ دار مان رہے ہیں۔ اس کی بھاری قیمت انھیں حالیہ صوبائی انتخاب میں چکانی پڑی اور بڑی مشکل سے نصف سے آگے بڑھ پائی لیکن آئندہ قومی انتخاب میں بھی اس کی دھمک سنائی دے گی اس لیے کہ پانی سر سے اونچا ہوچکا ہے۔ اب اس ملک کے بیروزگار نوجوان کو پاکستان اور چین کے نام سے ورغلانا نا ممکن ہوگیا ہے۔ غربت و افلاس کی ایک وجہ تو بیروزگاری ہوتی ہے لیکن دوسری کم آمدنی ہے۔ ریزرو بنک کی ہینڈ بک سے اگر شہروں میں تعمیراتی صنعت کے اندر روزآنہ کی مزدوری کا جائزہ لیا جائے تو ایسے حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں جن کا تصور محال ہے۔ یہ جدول بتاتے ہیں کہ 2014-2015میں بہار کا ایک مرد مزدور روزآنہ 227روپے کماتا تھا اور اس کی آمدنی میں ہر سال بتدریج اضافہ ہوتا رہا ہے اور وہ 2019-2020کے آتے آتے یہ اجرت 302پر پہنچ گئی۔ مہنگائی کے لحاظ سے یہ اضافہ خوش آئند ہے لیکن اگر اس کا موازنہ قومی اوسط سے کیا جائے تو یہ خاصہ کم ہے مثلاً 2014-2015میں مزدوری کا یہ قومی اوسط روزآنہ 275 روپے تھا۔ مہنگائی کے ساتھ اس میں بھی ہر سال بتدریج اضافہ دیکھنے کو ملا اور وہ 2019-2020تک وہ 341 پر پہنچ گئی۔ یعنی اب بھی بہار کے اندر مزدور دیگر صوبوں کی بہ نسبت یومیہ 39روپے کم کماتا ہے۔ یہ اعداد وشمار بھی بتاتے ہیں کہ آخر بہار کا مزدور اپنا صوبہ چھوڑ کر دوسری ریاستوں میں کیوں جاتا ہے؟ اس لیے کہ اسے وہاں پر زیادہ روپیہ ملتا ہے۔ یہاں پر چونکانے والی صورتحال آدرش گجرات کی ہے جہاں بڑے بڑے ٹاور تعمیر ہو رہے ہیں اور بڑی صنعتیں لگ رہی ہیں۔ 2014-2015میں گجرات کے اندر مزدوروں کی روزآنہ اجرت بہار سے بہتر مگر قومی اوسط سے 44 روپے کم 241 روپے تھی۔ یہ کوئی معمولی فرق نہیں ہے کہ جسے نظر انداز کر دیا جائے۔ اس کے بعد وہاں بھی آمدنی میں ہر سال اضافہ تو ہوا مگر قومی اوسط تو دور بہار سے بھی بہت کم تھا۔ مثلاً اگر 2020-2019 کے اعداد وشمار کا موازنہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اس سال قومی اوسط 341 یومیہ اجرت تھی جبکہ بہار میں یہ آمدنی 302 روپے تک پہنچ گئی تھی لیکن گجرات میں یہ صرف 269 پر تھی یعنی بہار سے 33 روپے کم اور قومی اوسط سے تو 74 روپے کم۔ یہ زبردست فرق اس بات کا غماز ہے کہ گجرات میں مجبور ہوکر آنے والوں مزدوروں کا زبردست استحصال ہو رہا ہے۔ اس سے بی جے پی کا استحصالی چہرہ بھی کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سورت میں ہیروں کے عالمی مال کا کام لاک ڈاؤن میں بھی بغیر احتیاط کے جاری و ساری تھا اور اس دوران مزدوروں کے سب سے زیادہ پرتشدد مظاہرے گجرات کے شہروں میں نظر آئے کیونکہ جب ان کا کام بند ہوا تو مالکوں نے ان سے نظرین پھیر لیں اور انھیں بھوکا مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔
شہروں سے نکل کر دیہی علاقوں کی جانب چلیں تب بھی اجرت کے معاملے میں یہ صورتحال بہت مختلف نہیں ہے۔ ریزرو بنک کی اس ہینڈ بک میں دیہات کے اندر کام کرنے والے زرعی مزدوروں کی آمدنی کا بھی موازنہ پیش کیا گیا ہے۔ 2015-2014 میں گجرات میں ایک عام زرعی مزدور کی اجرت صرف 160 روپے یومیہ تھی جبکہ وہ بہار میں 199 روپے یعنی وہ گجرات سے 39 روپیہ زیادہ کماتا تھا۔ یہ بہت بڑا فرق ہے یعنی تقریباً 25 فیصد جو مودی جی کے آدرش کو آئینہ دکھاتا ہے۔ اس زمانے میں قومی اوسط 225 روپے تھا۔ اس کے بعد ہر سطح پر اضافہ ہوا جو فطری ہے اس لیے اگر مہنگائی بڑھتی ہے تو اجرت بھی بڑھنی ہی چاہیے لیکن پھر بھی گجرات میں اجرت کا سالانہ اضافہ قومی اوسط اور بہار کی بہ نسبت بہت کم ہے۔ مثلاً اگر 2019-2020کے اعدادو شمار کا موازنہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اس سال قومی اوسط 287 یومیہ اجرت تھی جبکہ بہار میں یہ آمدنی 257 روپے تک پہنچ گئی تھی لیکن گجرات میں یہ صرف 208 تک پہنچ سکی تھی یعنی بہار سے 49 روپے کم جبکہ قومی اوسط سے 79 روپے کم۔ اس شرمناک صورتحال پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے۔ آدرش گجرات کی جعلی قوم پرستی (دیش بھکتی) میں اپنی قوم کے لوگوں کو مشکل کی گھڑی میں بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔
اس سفاکی کا مظاہرہ شہروں میں لاک ڈاون کے دوران بھی ہوا۔ شہروں اور دیہاتوں کی اجرت کے موازنہ سے یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ گاؤں میں لوگ کم کماتے ہیں۔ پہلے دیہات میں خرچ کم ہوتا تھا لیکن اب یہ حالت بدل گئی ہے کیونکہ گاؤں کا نوجوان بھی موبائل فون اور موٹر سائیکل کا استعمال کرتا ہے اور ان دونوں کا خرچ یکساں ہے اس لیے آمدنی کی کمی نوجوانوں کو شہروں کی جانب نقل مکانی کے لیے مجبور کرتی ہے نیز وہاں تعلیم وغیرہ کی سہولتیں بھی بہتر ہوتی ہیں۔ بہار کی بابت ایک چونکانے والی خبر یہ بھی ہے کہ اس صوبے میں جی ڈی پی کی شرح قومی سطح یعنی 10 فیصد سے زیادہ 11.1 فیصد ہے اس کے باوجود فی کس آمدنی قومی اوسط سے ایک تہائی سے بھی کم ہے۔ ملک میں اوسطاً ایک فرد کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ 35 ہزار روپے ہے اور بہار میں یہ صرف 43 ہزار 800 روپے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دولت کی تقسیم کا مسئلہ نہایت سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ ملک میں مٹھی بھر امیر لوگ امیر ترین ہوتے جا رہے ہیں اور غریب مزدوروں کو مفلسی کی اندھیری کھائی میں دھکیلا جارہا ہے۔ یہ سلسلہ اگر جاری رہتا ہے تو وہ دن دور نہیں جب ایک ایسا آتش فشاں پھٹ پڑے گا جو سرکار، دربار اور سرمایہ دار سب کو صفحہ ہستی سےمٹا دے گا۔
***

ملک میں اوسطاً ایک فرد کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ 35 ہزار روپے ہے اور بہار میں یہ صرف 43 ہزار 800 روپے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دولت کی تقسیم کا مسئلہ نہایت سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ ملک میں مٹھی بھر امیر لوگ امیر ترین ہوتے جا رہے ہیں اور غریب مزدوروں کو مفلسی کی اندھیری کھائی میں دھکیلا جارہا ہے۔ یہ سلسلہ اگر جاری رہتا ہے تو وہ دن دور نہیں جب ایک ایسا آتش فشاں پھٹ پڑے گا جو سرکار، دربار اور سرمایہ دار سب کو صفحہ ہستی سے مٹا دے گا۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 15 تا 21 نومبر، 2020