ارنب گوسوامی نے بمبئی ہائی کورٹ کے عبوری ضمانت سے انکار کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا

پیر(9؍نومبر )کے روز ، ہائی کورٹ نے ارنب گوسوامی کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان سے علی باغ کے سیشن کورٹ سے مستقل ضمانت کے لیے رجوع کرنے کو کہاتھا۔
اس لیے ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر انچیف ارنب گوسوامی نے، خودکشی کے معاملے میں 2018 کے عبوری ضمانت میں ان کی عبوری ضمانت سے انکار کرسے متعلق بمبئی ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے منگل کے روز سپریم کورٹ سے رجوع کیا ، جس کے لیے انھیں 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔
بار اور بینچ کی رپوٹ کے مطابق ، شریک ملزم فیروز شیخ کے ایک رشتے دار پروین شیخ نے بھی ضمانت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
بار اور بینچ کے مطابق دریں اثنا ، علی باغ سیشن کورٹ منگل کے روز رائے آباد پولیس کی جانب سے دائر کردہ نظرثانی درخواست پر بھی سماعت کررہی تھی، جس میں گوسوامی کی کسٹڈی کا مطالبہ کیا گیا تھا، جو اس وقت تلوجا جیل میں بند ہیں ۔
گذشتہ ہفتے ، انھوں نے اپنی عبوری ضمانت کی درخواست کے ذریعے حراست سے فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا اور 4 نومبر کو ان کی گرفتاری کے قانونی جواز کو بھی چیلنج کیا تھا۔ انھوں نے زور دے کر کہا تھا کہ مہاراشٹر حکومت اور ریاست کی پولیس ان کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا مظاہرہ کررہی ہے۔
صحافی ارنب گوسوامی اور دو دیگر افراد – فیروز شیخ اور نتیش سردا پر الزام ہے کہ وہ انوے نائک نامی ایک انٹیرئر ڈیزائنر کے عوض رقم کی ادائیگی میں ناکام رہے ، جو کونکورڈ ڈیزائنز پرائیویٹ لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے۔ نائک اور اس کی والدہ کو ممبئی کے نزدیک واقع کاویر گاؤں میں اپنے گھر میں 2018 میں مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔ ایک خودکش نوٹ میں بتایا گیا تھا کہ گوسوامی ، شیخ اور سردا نے 5.4 کروڑ روپئے کے واجبات ادا نہیں کیے تھے۔