اسامہ،اوباما اور انتخابی ڈراما؟

الیکشن سے قبل ٹرمپ نے القاعدہ سربراہ کی موت پر شبہات تازہ کر دیے

مسعود ابدالی

 

صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور طرزِ عمل سے سخت اختلاف کے باوجود یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ وہ بہت جرأت کے ساتھ ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جس کا کسی امریکی سیاستدان سے تصور بھی محال ہے۔ یہ اس اعتبار سے مزید حیران کن ہے کہ امریکی صدر خود کو بہت فخر سے ایک قوم پرست امریکی کہتے ہیں اور ’سب سے پہلے امریکہ‘ ان کی سیاست کا امتیازی نشان ہے۔ قوم پرست سیاستدان عام طور سے کوئی ایسی بات نہیں کرتے جس سے امریکی فوج و سی آئی اے کی صلاحیت یا بطور ادارہ ان کی ساکھ پر حرف آتا ہو۔

لیکن صدر اس باب میں خاصے بیباک ہیں۔ انھوں نے حکومت میں آتے ہی کہا کہ حملے کے لیے عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار یا WMD کی موجودگی صدر بش کا تراشہ ہوا سفید جھوٹ تھا۔ اس کے نتیجے میں امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر پھونک دیے گئے اور ہزاروں امریکی سپاہیوں کے ساتھ لاکھوں بے گناہ عراقی مارے گئے۔ چند ماہ پہلے جب امریکی فوج کے سابق سربراہ جنرل کولن پاول نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں صدر ٹرمپ کو ’جھوٹا‘ قرار دیا تو امریکی صدر آپے سے باہر ہوگئے اور فرمایا ’مجھے جھوٹا وہ کہہ رہا ہے جس کے جھوٹ نے ایک ملک کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا‘۔ افغانستان کے بارے میں امریکی جرنیلوں کے ایک اجلاس میں موصوف مبینہ طور پر کہہ چکے ہیں کہ طالبان کو شکست دینا امریکی فوج کے بس کی بات نہیں، بہتر یہی ہے کہ عزت کے ساتھ فوج کو واپس بلا لیا جائے۔ نیٹو اتحاد کو وہ ’مہمل‘ کہہ چکے۔اب اسامہ بن لادن کے امریکی چھاپہ مار دستے کے ہاتھوں مبینہ قتل کے حوالے سے ان کی ایک ٹویٹ نے ملک کے ’محب وطن اور قوم پرست‘ حلقوں کو سخت مشتعل کردیا ہے۔ متنازعہ ٹویٹ سے پہلے ایبٹ آباد آپریشن کا سرسری تذکرہ بے محل نہ ہوگا۔ اس واقعہ کی جو تفصیل امریکی حکومت نے جاری کی تھی اس کے مطابق 2 مئی 2011 کی شب امریکہ کا ایک چھاپہ مار دستہ دو ہیلی کاپٹر وں میں ایبٹ آباد کے علاقے بلال ٹاون کے ایک مکان کی چھت پر اترا۔ اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ یہ ہیلی کاپٹر کہاں سے آئے تھے۔ امریکہ کے سراغرساں اداروں کا کہنا ہے کہ ان ہیلی کاپٹروں نے تربیلا کے قریب غازی سے اڑان بھری تھی، ایک اور اطلاع کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر جنوبی افغانستان سے آئے تھے جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ دونوں ہیلی کاپٹر ہندوستان سے روانہ کیے گئے تھے۔ ایک ہیلی کاپٹر حملے کے دوران تباہ ہوگیا تاہم آپریشن جاری رہا اور حملہ آور چھت سے اتر کر گھر کے اندر داخل ہوئے۔ ان کی نپی تلی کارروائی میں اسامہ بن لادن، ان کی یمنی اہلیہ اور ایک صاحبزادے سمیت چار افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ دو خواتین گرفتار کرلی گئیں۔ امریکی چھاپہ مار دستے کی اس کارروائی کے بعد لاشوں، زخمیوں اور قیدیوں کو بذریعہ ہیلی کاپٹر افغانستان میں واقع امریکی فوجی اڈے بگرام پہنچا دیا گیا جہاں فائل فوٹو سے لاش کی شناخت کے بعد جسدِ خاکی کو سمندر برد کر دیا گیا۔سرکاری اعلامیے کے مطابق بگرام میں ان کی لاش کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیا گیا۔ اسامہ کی لاش سمندر برد کرنے کے بارے میں بھی دو مختلف دلائل جاری کیے گئے ہیں۔ ایک بیان کے مطابق امریکیوں کو خدشہ تھا کہ اسامہ کا مزار ایک آستانہ اور روحانی مرکز بن جاتا چنانچہ ؏ نہ کہیں جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا کے خیال سے ان کی باقیات کو بحر عرب میں بہا دیا گیا۔ بعد میں جاری ہونے والی ایک وضاحت کے مطابق ان کی لاش کی حوالگی کے لیے ریاض سے رابطہ کیا گیا لیکن سعودی حکام نے اپنے شہری کی میت کو لینے سے انکار کردیا لہٰذا جلد از جلد تدفین کے اسلامی حکم کی تعمیل میں ان کی بحری تدفین کا فیصلہ کیا گیا۔
اس واقعے کے بارے میں ابتداء ہی سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا تھا۔ اس وقت خراب معاشی حالات کی بنا پر صدر اوباما کو نئی مدت کے انتخاب میں سخت مزاحمت کا سامنا تھا۔ اس پس منظر میں اسامہ کے قتل نے اوباما کو ہیرو بنا دیا چنانچہ ان کی مقبولیت کا گراف آسمان سے باتیں کرنے لگا اور تو اور خود ریپبلکن پارٹی پر ان کی مقبولیت سے ایسی دہشت طاری ہوئی کہ اس نے بجٹ پر اپنے زیادہ تر اعتراضات واپس لے لیے اور ان کے انتہائی قدامت پسند پارلیمانی گروپ ٹی پارٹی نے صدر اوباما کے ہیلتھ پلان المعروف أوباما کیئر میں مزید کٹوتی پر اصرار ترک کردیا۔اس واقعہ کے چند دن بعد انھوں نے نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ملبےکا دورہ کیا۔ امریکی الزام کے مطابق، ستمبر 2001میں اسامہ کے ساتھیوں نے چار مسافر بردار جہاز اغوا کرلیے۔ ان میں سے دو جہاز ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکرا دیے گئے جس کے نتیجے میں ٹریڈ سنٹر کے دونوں ٹاور منہدم ہو گئے اس مقام پر اب ایک چبوترہ قائم کیا گیا ہے جسے گراؤنڈ زیرو کہا جاتا ہے۔ گراؤنڈ زیرو پر صدر اوباما نے اس سانحے کے متاثرین و لواحقین سے خطاب کیا اور ایک بار پھر واشگاف الفاظ میں کہاکہ ہمارا دشمن وقتی طور پر چھپ تو سکتا ہے مگر ہم سے بچ نہیں سکتا۔ اس کے دوسرے دن امریکی فوج کے کمانڈر انچیف صاحب ریاست کنٹکی میں فورٹ کیمپ بیل کے فوجی اڈے گئے جہان انھوں نے ایبٹ آباد آپریشن میں حصہ لینے والے فوجیوں کی پیٹھ ٹھونکی اور شاباشی دی۔ہر جگہ صدر اوباما کا لہجہ غرور سے چور اور رویہ انتہائی جارحانہ تھا۔ سیاسی مبصرین نے قوم سے خطاب اور گراونڈ زیرو کے دورے اور کنٹکی میں فوجی دستے سے ملاقات کو ان کی انتخابی مہم کا حصہ قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ گراؤنڈ زیرو کی تقریب میں شرکت کے لیے سابق صدر بش اور کانگریس کے اسپیکر نے امریکی صدر کی دعوت مسترد کردی۔
تاہم اس چشم کشا واقعہ کی شفافیت پر اس وقت بھی سوال اٹھے تھے۔ نیو جرسی سپیرئر کورٹ (ریاستی سپریم کورٹ) کے سابق جج اور فاکس ٹی وی کے معروف اینکر پرسن اور تجزیہ نگار اینڈریو نیپولیٹانو (Andrew Napolitano) نے اس پورے واقعے کو اوباما کا انتخابی ڈرامہ قرار دیا تھا۔ بریکنگ نیوز دیتے ہوئے جناب نیپولیٹانو نے کہا کہ ’’اسامہ بن لادن امریکی صدر کے انتقام کا نشانہ بن گئے، امریکی صحافیوں کو اس بات کا یقین نہیں کہ حکومتی اہلکار سچ بول رہے ہیں یا یہ اوباما کی ناکام صدارت کا سہارا دینے کی ایک بھونڈی کوشش ہے‘ انھوں نے ناظرین سے سوال کیا کہ کیا ان کو اسامہ کی موت کا یقین ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ثبوت کے طور پر تصویر، کوئی دستاویزیا کم ازکم ایک عینی شہادت کی ضرورت ہے صرف صدر کے الفاظ کافی نہیں کہ اس صدر کی زبان پر ہمیں پہلے ہی بھروسہ نہیں۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اسامہ کی ہلاکت کا دعویٰ ایسا ہی ہے جیسا اوباما کا یہ کہنا کہ وہ امریکہ میں پیدا ہوئے ہیں۔ واضح رہے صدر اوباما پر الزام ہے کہ ان کی پیدائش کینیا میں ہوئی تھی اور ہوائی میں ان کی پیدائش کی سند جعلی ہے۔ جسٹس نیپولیٹانو کا کہنا تھا کہ اگر صدر اوباما نے اسامہ کی موت کا ناقابل تردید ثبوت پیش نہ کیا تو ان پر جعل سازی کا مقدمہ قائم کیا جائےگا۔
مشہور قدامت پسند صحافی، فلمساز اور ابلاغیات کے ماہر الیکس جونز بھی انھیں لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے کھل کر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ صدر اوباما کی جانب سے اسامہ کی موت کے اعلان کے بعد ریڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ سب جھوٹ ہے اگر اسامہ مارا گیا تو اسکی لاش کدھر ہے؟ تدفین میں اس قدر عجلت کی کیا ضرورت تھی؟ جناب جونز نے انکشاف کیا کہ اسامہ نو سال پہلے ہی جان بحق ہوچکے ہیں، ان کی لاش کو امریکی فوج نے سرد خانے میں رکھا ہوا تھا اور یہ سارا ڈراما صدر کی انتخابی مہم کا حصہ ہے۔
جنگ مخالف رہنما مسز سنڈی شیہاں بھی صدر اوباما کے دعوے پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مسز شیہاں کا پچیس سالہ بیٹا عراق کی جنگ میں ہلاک ہوا تھا جس کے بعد سے انھوں نے اپنی پوری زندگی جنگ مخالف تحریک کے لیے وقف کردی۔ جب مسز شیہاں سے پوچھا گیا کہ ان کو صدر اوباما کے اعلان پر یقین کیوں نہیں تو انھوں نے بڑے اعتماد سے کہا کہ اوباما امریکہ کے بے شرم حکمرانوں کا تسلسل ہے۔ انھوں نے ڈی این اے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک مستند اور قابل اعتماد ڈی این اے میں کم ازکم تین دن لگتے ہیں آخر کس لیبارٹری سے یہ ٹسٹ چند گھنٹوں میں کرا لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈراما اوباما کی مشکوک برتھ سرٹیفیکیٹ سے توجہ ہٹانے کے لیے رچایا گیا ہے۔ کتنا عجیب سا لگتا ہے کہ اسامہ کی رہائش گاہ پر حملہ، اس کا قتل، ڈی این اے، تدفین اور اوباما کی نشری تقریر سب کچھ بائیس گھنٹے میں ہوگیا۔ سارے معاملات نمٹا لیے گئے۔
اس وقت جب کہ امریکی عوام کے جذبات اپنے عروج پر تھے تو آپریشن کے کسی بھی پہلو پر شک کا اظہار قوم سے غداری سمجھا گیا چانچہ صدر کے مخالفین گَرد کے بیٹھنے کا انتظار کرنے لگے لیکن پھر انتخابی مہم کے شور میں معاملہ دب گیا۔ توقع کے مطابق صدر اوباما نے دوسری مدت کا انتخاب بھاری اکثریت سے جیت لیا اور معاملہ عوام کے ذہن سے اوجھل ہوگیا۔
ادھر منیا پولس (Minneapolis) پولیس تشدد کے بعد جہاں Black Lives Matter تحریک نے زور پکڑا وہیں سفید فام نسل پرست بھی خم ٹھونک کر صدر ٹرمپ کی پشت پر کھڑے ہو گئے جن میں سب سے سرگرم QAnon گروپ ہے۔ حال ہی میں فیس بک نے اس گروپ کے اشتہاروں پر پابندی لگا دی ہے۔ ’نظریہ سازش‘ کیوانان گروپ کا طرہ امتیاز ہے۔ اس گروہ کا خیال ہےکہ قحبہ گری کی نیت سے خواتین کی اسمگلنگ کرنے والے اور بچوں سے ناشائستہ تعلقات کے رسیا شیطان کے بندے یعنی Satan-worshiping pedophiles صدر ٹرمپ کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ کیوانان کے مطابق ہالی ووڈ کے اخلاق باختہ لبرل فلمساز اور میڈیا پر قابض بائیں بازو کے قلمکار مربوط و منظم انداز میں امریکہ کی مسیحی اقدار کو کھوکھلا کرنے میں مصروف ہیں۔
حال ہی میں کیوانان گروپ نے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ ’اسامہ بن لادن (شائد) اب بھی زندہ ہے اور صدر اوباما کی ہدایت پر امریکی فوج کے چھاپہ مار فوج سیل (Seal) کے دستے نے ایبٹ آباد میںجس شخص کو قتل کیا وہ اسامہ کا ہم شکل متبادل یا body double تھا۔ صدر ٹرمپ نے اسے نہ صرف retweet کیا بلکہ ساتھ ہی یہ تبصرہ بھی جڑ دیا کہ اوباما انتظامیہ نے ایرانی حکومت سے ساز باز کر کے بن لادن کو وہاں سے پاکستان بھجوایا تاکہ اسے نمائشی انداز میں آسانی سے قتل کیا جا سکے۔ امریکی صدر نے اس کے لیے Obama’s Trophy Kill کا لفظ استعمال کیا ہے۔
اس تبصرے کی بنا پر صدر ٹرمپ مخالفین کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ دلچسپ بات کہ قدامت پسندوں سے زیادہ ملک کا لبرل میڈیا صدر ٹرمپ کی اس جسارت پر سخت برہم ہے۔ کئی دنوں سے امریکی بحریہ کی سیل ٹیم کے رکن رابرٹ اونیل مختلف ٹیلی ویژن چینل پر صدر ٹرمپ کی مذمت کر رہے ہیں۔ جناب اونیل کا دعویٰ ہے کہ انھیں کی گولی سے اسامہ بن لادن مارے گئے تھے۔ جناب اونیل نے CNN پر بڑے فخر سے کہا کہ ’امریکی فوج کے دلاور اپنے بچوں کو خداحافظ کہہ کر صدر اوباما کے حکم پر اسامہ کو قتل کرنے گئے تھے۔ یہ بہروپ یا Stunt نہیں تھا‘۔ امریکی بحریہ کا یہ سابق سپاہی صدر ٹرمپ کا حامی ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس بیان سے اسے سخت صدمہ پہنچا ہے۔
دوسری طرف صدر ٹرمپ اپنی بات پر معذرت کو تیار نہیں۔ گزشتہ جمعرات کو جب مباحثے کے دوران ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ٹویٹر پر Retweet بہت عام ہے اور ری ٹویٹ کا مطلب مواد سے مکمل اتفاق ہر گز نہیں۔ مجھے وہ موضوع دلچسپ لگا چنانچہ میں نے وہ پیغام آگے بڑھا دیا۔ ساتھ ہی امریکی صدر یہ بھی کہہ گئے کہ ایبٹ آباد آپریشن پر اس سے پہلے بھی شکوک کا اظہار کیا گیا ہے اور اوباما کے حامی بے لاگ گفتگو سے ڈرتے کیوں ہیں؟
اسامہ کے قتل کے بارے شک و شبہ کی بڑی وجہ ان کی سرکاری تصویر کا عدم اجرا ہے۔عجلت میں بحری تدفین کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کہ جب کوئی ملک ان کی لاش لینے پر تیار نہ تھا تو بین الاقوامی سمندر میں تدفین ہی اس کا حل تھا۔ امریکی کانگریس کے کچھ ارکان کو لاش کی تصاویر دکھائی گئیں لیکن اسے اشاعت عام کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔ تصویر کی جو تفصیلات سامنے آئیں ہیں اس کے مطابق اسامہ کے چہرے اور سر پر گولیوں کا نشان نہ تھا لیکن ان کی دونوں آنکھیں نکلی ہوئی تھیں۔اس کے علاوہ موصوف کے سرخ و سفید چہرے نے تصویر کو مزید مشتبہ بنا دیا۔ سی آئی اے کا کہنا ہے کہ2001سے اسامہ گردوں کی بیماری میں مبتلا تھے اور گزشتہ دس سال سے ان کا ہفتے میں تین دن ڈائلاسس ہو رہا تھا اور ڈائلاسس کرانے والے مریض کا چہرہ اس قدر شاداب نہیں ہوتا۔ غیر جانب دار ڈاکٹروں کے مطابق اس تصویر میں اسامہ کی عمر چالیس، پینتالیس سال نظر آرہی ہے جب کہ دو مئی 2011 کو اسامہ کی عمر چون برس اور دو ماہ تھی۔
اسامہ کی لاش صحافیوں کو نہ دکھانے کی بھی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔جولائی 2003میں جب ایک فوجی کارروائی میں صدام حسین کے دونوں بیٹے عدی اور قصی امریکی فوجوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے تو ان کی لاشوں کی صحافیوں کے سامنے نمائش سے پہلے چہروں سے زخم کے داغ مٹانے کے لیے باقاعدہ پلاسٹک سرجری کی گئی تاکہ شکل کی تصدیق ہو سکے یہی نہیں بلکہ قصی کے پیر کاٹ کر وہ اسٹیل راڈ بھی دکھائی گئی جو ایک سال پہلے ٹریفک کے ایک حادثے میں ان کی ٹانگ ٹوٹنے پر سرجری کے دوران ڈالی گئی تھی۔ اس کا مقصد ان دونوں بھائیوں کی ہلاکت کی ابلاغِ عامہ کے نمائندوں کے سامنے تصدیق تھا۔
تصویر دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی آنکھوں، پیشانی اور بائیں گال پر تیزاب سے جھلسنے کی علامات بڑی واضح تھیں۔ اسی کو بنیاد بناتے ہوئے امریکہ میں نظریہ سازش کے حامی کہہ رہے ہیں کہ اسامہ کو ایک برس پہلے جنوبی افغانستان میں کیمیکل ہتھیاروں کی مدد سے موت کے گھاٹ اتارا جا چکا تھا لیکن صدر اوباما ان کی کی موت کا اعلان ایک مناسب وقت پر کرنا چاہتے تھے۔ کیو انان کے خیال میں یہ کارروائی اوباما کا انتخابی ڈرامہ تھی۔
(مسعود ابدالی معروف کالم نویس ہیں جو مشرق وسطیٰ ، مسلم دنیا اور عالمی سیاست پر لکھتے رہے ہیں)
masood_abdali@hotmail.com
***

اسامہ کے قتل کے بارے شک و شبہ کی بڑی وجہ ان کی سرکاری تصویر کا عدم اجرا ہے۔عجلت میں بحری تدفین کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کہ جب کوئی ملک ان کی لاش لینے پر تیار نہ تھا تو بین الاقوامی سمندر میں تدفین ہی اس کا حل تھا۔ امریکی کانگریس کے کچھ ارکان کو لاش کی تصاویر دکھائی گئیں لیکن اسے اشاعت عام کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔ تصویر کی جو تفصیلات سامنے آئیں ہیں اس کے مطابق اسامہ کے چہرے اور سر پر گولیوں کا نشان نہ تھا لیکن ان کی دونوں آنکھیں نکلی ہوئی تھیں۔اس کے علاوہ موصوف کے سرخ و سفید چہرے نے تصویر کو مزید مشتبہ بنا دیا۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 25 اکتوبر تا 3 نومبر، 2020