وقف جائیدادوں پر محکمہ آثارِ قدیمہ کے قبضے

156 جائیدادوں کی فہرست میں36 مساجداور16قبر ستان شامل۔بازیابی کی کوششیں لاحاصل

افروز عالم ساحل

 

ملک میں جہاں ایک طرف ہماری حکومت وقف جائیدادوں سے غیر قانونی و ناجائز قبضوں کو ہٹانے کی بات کر رہی ہے، وہیں خود دارالحکومت دلی کی سرکاری ایجنسیاں قبضوں کے اس ناجائز کھیل میں دن رات مصروف ہیں۔ ان میں سے بیشتر املاک کی قیمت لاکھوں کروڑ روپے ہے کیونکہ وہ مرکزی دلی کے کناٹ پلیس جیسے اہم مقامات پر واقع ہیں۔

تازہ واقعہ دارالحکومت دہلی کے نظام الدین علاقے کا ہے۔ دلی وقف بورڈ کے سیکشن آفیسر حافظ محفوظ محمد کے مطابق گزشتہ 13 اکتوبر کو یہاں نیو ہورائزن پبلک اسکول کی عقب میں خالی پڑے وقف بورڈ کے پلاٹ پر محکمہ آثار قدیمہ نے چونا وغیرہ ڈال کر باؤنڈری تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جس کی اطلاع ملتے ہی وقف بورڈ کی ایک ٹیم وہاں پہنچ کر پلاٹ کی انٹری اور پلاٹ کے بیچوں بیچ وقف بورڈ کا بورڈ لگا دیا۔

غور طلب رہے کہ حکومت دلی کے گزٹ 3 مارچ 1994 کےسروے نمبر نمبر 533 کے مطابق یہ پلاٹ گزٹ نوٹیفائڈ وقف پراپرٹی ہے، جو برسوں سے خالی پڑی ہے۔ اس پلاٹ کا کل رقبہ پانچ بیگہ سے زائد ہے، اس کا کچھ حصہ نیو ہورائزن اسکول کے احاطہ کے اندر بھی موجود ہے جب کہ باقی پلاٹ خالی پڑا ہے۔

حافظ محفوظ محمد کہتے ہیں کہ ہمیں اطلاع ملی تھی کہ محکمہ آثار قدیمہ نے غلط ارادے سے پلاٹ کے چاروں جانب چونے کے پاؤڈر سے نشاندہی کرائی ہے اور عنقریب پلاٹ پر چہار دیواری تعمیر کر کے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہم نے وقف بورڈ کے آفیسروں پر مشتمل ایک ٹیم کو فوراً موقع پر معائنہ کے لیے روانہ کیا اور ٹیم نے اس شکایت کو صحیح پایا۔ یہ ٹیم سات افراد پر مشتمل تھی جس میں جونیئر انجینئر عثمان بخاری، محمد فرہاد، محمد عزیر خان، شاہ زیب حسن، شعیب، شاہد کمال اور خرم کے نام شامل ہیں۔

اس کام کے بعد اب دلی وقف بورڈ کے حوصلے بلند ہیں۔ دلی وقف بورڈ کے سیکشن آفیسر کا کہنا ہے کہ وقف کی زمینوں پر کسی حال قبضہ نہیں ہونے دیا جائے گا اور ایسی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ ماضی میں بھی اس طرح کی کوششیں ہوتی رہی ہیں تاہم بروقت کارروائی کے ذریعے انھیں ناکام بنا دیا گیا ہے۔ حافظ محفوظ محمد نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر اوقاف کی زمینوں پر دلی میں کہیں قبضہ کی کوشش ہوتی دیکھیں تو اس سے فوراً دلی وقف بورڈ کے دفتر کو مطلع کریں تاکہ بروقت کارروائی سے ایسی کوششوں کو ناکام کیا بنایا سکے۔

محکمہ آثار قدیمہ کے ناجائز قبضے میں وقف کی جائیدادیں

وقف کی جائیدادوں پر محکمہ آثار قدیمہ کے ناجائز قبضوں کی یہ پہلی کہانی نہیں ہے۔ گزشتہ سال دلی وقف بورڈ خود راقم الحروف کو حق اطلاعات ایکٹ (آرٹی آئی) کے تحت بتا چکا ہے کہ دلی میں 156 وقف جائیدادوں پر محکمہ آثار قدیمہ کا غیر قانونی قبضہ ہے۔ راقم الحروف کے پاس ان 156 وقف جائیدادوں کی فہرست بھی موجود ہے۔

اس سے قبل بھی دلی وقف بورڈ نے راقم الحروف کو سال 2010 میں آر ٹی آئی کے تحت 158 وقف جائیدادوں کی فہرست دی تھی، جس کے بارے میں وقف بورڈ کا کہنا تھا کہ ان جائیدادوں پر محکمہ آثار قدیمہ نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ وہیں سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں 172 وقف جائیدادوں کی فہرست دی ہے۔ سچر کمیٹی کے مطابق یہ تمام جائیدادیں وقف بورڈ کی ہیں جن پر محکمہ آثار قدیمہ نے اپنا ناجائز قبضہ جما رکھا ہے۔
ہفت روزہ دعوت کی پورے تین دنوں کی کوشش کے بعد دلی وقف بورڈ کے سیکشن آفیسر حافظ محفوظ محمد سے اس سے متعلق بات ہو سکی۔ ہفت روزہ دعوت نے جب ان حقائق کو سامنے رکھ کر جب یہ سوال پوچھا کہ کیا محکمہ آثار قدیمہ نے دلی وقف بورڈ کو اپنی غیر قانونی قبضے والی 16وقف جائیدادیں لوٹا دی ہیں اور ابھی اس وقت کتنی وقف جائیدادوں پر محکمہ آثار قدیمہ کا غیر قانونی قبضہ ہے؟ تو حافظ محفوظ محمد نے کہا کہ آپ کے پاس جو جانکاری ہے، اسے ہی سچ مان لیجیے اس میں کوئی تبدیلی تو فی الحال نہیں ہوئی ہے۔

ہفت روزہ دعوت نے اس تعلق سے محکمہ آثار قدیمہ سے بھی اس کا موقف جاننے کی کوشش کی لیکن اس رپورٹ کے لکھے جانے تک کوئی بات نہیں ہو سکی۔ حالانکہ راقم الحروف نے چار سال پہلے وقف بورڈ کے قبرستانوں پر محکمہ آثار قدیمہ کے قبضے کے متعلق آثار قدیمہ کے سروے سیکشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بی آر منی سے بات چیت کی تھی، تب انھوں نے دلی وقف بورڈ کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے سوالیہ لہجے میں کہا تھا، ’کیا حکومت کبھی غیر قانونی قبضہ کرتی ہے؟‘ ان کا کہنا تھا کہ ’محکمہ آثار قدیمہ اسی تاریخی وراثت کو اپنی نگرانی میں لیتا ہے جن کی تاریخی اہمیت ہوتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ وقف بورڈ کے پاس کوئی ایسا ورثہ ہو جس کے ساتھ قبرستان بھی منسلک ہوں، ورنہ ہم کیوں قبرستان کو اپنی دیکھ بھال میں لیں گے؟‘

ہمایوں کا مقبرہ اور مسجد قوت الاسلام بھی وقف کی ملکیت

محکمہ آثار قدیمہ کے ذریعے غیر قانونی قبضے کی فہرست میں ملک کا مشہور ہمایوں کا مقبرہ بھی شامل ہے۔ دلی وقف بورڈ کے مطابق ہمایوں کا مقبرہ وقف کی جائیداد ہے اور محکمہ آثار قدیمہ نے اس پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ نے قطب مینار کے اندر مسجد قوت الاسلام کی ملکیت کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ یہ ہندوستان کی فتح کے بعد دہلی میں تعمیر کی جانے والی پہلی مسجد تھی۔ اس کی تعمیر کا آغاز 1190ء کی دہائی میں ہوا۔ 13 ویں صدی میں التمش کے دور حکومت میں اس میں توسیع کر کے اس کے حجم میں تین گنا اضافہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس میں مزید تین گنا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اور عظیم مینار تعمیر کیا گیا۔ اس کے بعد مشہور قطب مینار کی تعمیر کا آغاز 1199ء میں ہوا تھا۔

156 وقف جائیدادوں کی اس فہرست میں کوٹلہ فیروز شاہ کے اندر جامع مسجد، لال قلعہ کے اندر موجود موتی مسجد، کناٹ پیلیس کے نزدیک ہیلی روڈ کی مسجد، دہلی گولف کلب کے کمپاؤنڈ میں موجود مقبرہ سید عابد، مقبرہ بیگم جان اور مسجد، پرانا قلعہ کے اندر موجود مسجد کوہنہ، صفدر جنگ مقبرہ کے اندر موجود مسجد اور مدرسہ، گرین پارک کی نیلی مسجد اور مخدوم مسجد، حوض خاص مسجد، لودھی روڈ مسجد، داؤد سرائے کی مسجد و مقبرہ جمالی کمالی، مہرولی میں مقیم درگاہ حضرت بختیار کاکی کے اندر موجود موتی مسجد جیسی کئی اہم مسجدوں و مقبروں پر دلی وقف بورڈ نے’’ محکمہ آثار قدیمہ کے غیر قانونی تجاوزات کے تحت‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

مسجدوں پر بھی غیر قانونی قبضہ جات

محکمہ آثار قدیمہ کے ذریعے 156 جائیدادوں پر غیر قانونی قبضے کی فہرست میں 38 مساجد کے نام بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم مساجد کے ناموں کو آپ اوپر پڑھ چکے ہیں۔

یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ دلی وقف بورڈ سے آر ٹی آئی کے ذریعے حاصل دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ کے علاوہ 114 وقف جائیداد دلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کے غیر قانونی قبضے میں ہے۔ اور غیر قانونی قبضے والی 114 وقف جائیدادوں کی اس فہرست میں 18 مساجد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دہلی میں ایسی 26 وقف املاک ہیں جن پر دیگر سرکاری اداروں کا ’غیر قانونی قبضہ‘ ہے۔ ’26ناجائز قبضوں‘ والی وقف جائیدادوں کی اس فہرست میں بھی 12 مساجد کے نام شامل ہیں۔

دستاویزات بتاتے ہیں کہ اولڈ روہتک روڈ پر واقع ریلوے اکاؤنٹ آفس کے قریب دلی وقف بورڈ کی ایک نیم والی مسجد تھی، جس پر ریلوے نے ’ناجائز قبضہ‘ کر کے مسجد کو ’شہید‘ کر دیا۔ وہیں مہرولی کے مدرسہ والی مسجد پر ایم سی ڈی کا ’ناجائز قبضہ‘ ہے۔

دستاویزات یہ بھی بتاتے ہیں کہ دلی کے لیڈی ہارڈنگ اسپتال میں دہلی وقف بورڈ کی ایک چھوٹی سی مسجد تھی جسے اسپتال انتظامیہ ’اسٹور روم‘کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

آگے کی کہانی اور بھی پریشان کن ہے۔ کیونکہ وقف بورڈ کے دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ دلی وقف بورڈ کی 373 جائیدادوں پر دلی کے ’دبنگ‘ مولویوں اور دیگر افراد کا’ناجائز قبضہ‘ ہے۔ ان ’ناجائز قبضوں‘ میں 138 مساجد کے نام شامل ہیں۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار دہلی وقف بورڈ سے آر ٹی آئی کے ذریعے حاصل ہوئے ہیں اور یہ دستاویز قریب چار سال پرانے ہیں۔ ایسے میں ان اعداد و شمار میں کمی یا اضافہ ہو سکتا ہے۔

قبرستان پر بھی محکمہ آثار قدیمہ کا قبضہ

آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ محکمہ آثار قدیمہ کے ذریعے 156 جائیدادوں پر غیر قانونی قبضے کی فہرست میں 16 قبرستان بھی شامل ہیں۔ اب سمجھنے والی بات یہ ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ کو قبرستان میں کیا خاص نظر آیا جو اس کی وراثت کو بچانے میں لگ گئی۔ سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ نے زیادہ تر مساجد میں عبادت کرنے کے حق پر پابندی لگا دی ہے نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے قبرستانوں کے استعمال پر بھی روک ہے کچھ سالوں سے مقبروں کی بے حرمتی کی خبریں بھی میڈیا میں مسلسل آتی رہی ہیں پھر محکمہ آثار قدیمہ کے ذریعے ان جائیدادوں کو اپنے قبضے میں لینے کا مقصد کیا ہے؟

ایک کہانی یہ بھی

بستی نظام الدین کے جس اسکول کے عقب میں محکمہ آثار قدیمہ نے قبضہ کرنے کی کوشش کی، اس وقف زمین کا کچھ حصہ اس اسکول کے احاطہ میں بھی موجود ہے۔ اس اسکول کا نام نیو ہورائزن اسکول ہے۔ راقم الحروف کو دلی وقف بورڈ سے آر ٹی آئی کے ذریعے ملی جانکاری کے مطابق اس اسکول کی چھ بیگہ زمین وقف بورڈ کی ہے اور اس زمین کا کرایہ صرف ایک روپیہ ہے۔

جب اس سلسلے میں ہفت روزہ دعوت نے دلی وقف بورڈ کے سیکشن آفیسر حافظ محفوظ محمد سے سوال کیا تو انھوں نے بتایا کہ سال 2014 تک ایک روپیہ کرایہ تھا، اور اس رقم کو بھی یہ اسکول ادا نہیں کر رہی تھی۔ پھر اسی سال 2014 میں یہ کرایہ بڑھا کر ایک ہزار روپے سالانہ رکھا گیا، لیکن یہ اسکول اب تک یہ کرایہ بھی ادا نہیں کر سکا ہے۔ واضح ہو کہ اس اسکول کی لیز مارچ 2015 میں ختم ہوگئی ہے، یعنی اب یہ اسکول بھی وقف پر ناجائز قبضہ جمائےبیٹھا ہے۔

غور طلب رہے کہ دلی وقف بورڈ کے سابق چیئرمین امانت اللہ خان سال 2016 میں ہی واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وقف بورڈ کی اراضی پر بنائے گئے اسکول یا تو سرکل ریٹ کی بنیاد پر وقف بورڈ کو کرایہ دیں یا پھر وہ اپنے اسکولوں میں 25 فیصد غریب بچوں کو مفت تعلیم دیں، ورنہ وقف اراضی خالی کردیں۔ اگر اسکول اپنی عمارتیں خالی کر دیں تو اس صورت میں وقف بورڈ خود ہی اسکول چلائے گا۔

امید ہے کہ جیسے ہی دلی وقف بورڈ کو اپنا چیئرمین ملے گا، اس سمت میں کچھ مثبت عمل ہوگا۔ کیونکہ پھر سے چیئرمین کا یہ عہدہ امانت اللہ خان ہی سنبھالنے والے ہیں۔ انھیں پھر دلی وقف بورڈ کا ممبر منتخب کر لیا گیا ہے، جس کا باضابطہ اعلان اور سرٹیفکیٹ گزشتہ 8 ستمبر کو دیا گیا۔ لیکن حکومت کی جانب سے آڈٹ کے عمل میں تاخیر کی وجہ سے ان کے ممبر بننے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا تھا۔ اب 19 اکتوبر کو دلی وقف بورڈ کے سات ممبران ڈیویژنل کمشنر آفس میں ایک نئے چیئرمین کا انتخاب کریں گے۔ جس میں امانت اللہ خان کے تیسری بار چیئرمین بننے کے قوی امکان ہیں۔ امانت اللہ خان پہلی مرتبہ 2016 میں دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین بنے تھے۔ اس وقت ان کا دورانیہ صرف 6 ماہ تھا۔ وہ دوسری مرتبہ 2018 میں وقف بورڈ کے چیئرمین بنے جس کی میعاد فروری 2020 تک رہی۔

وقف بورڈ نے قطب مینار کے اندر مسجد قوت الاسلام کی ملکیت کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ یہ ہندوستان کی فتح کے بعد دہلی میں تعمیر کی جانے والی پہلی مسجد تھی۔ اس کی تعمیر کا آغاز 1190ء کی دہائی میں ہوا۔ 13ویں صدی میں التمش کے دور حکومت میں اس میں توسیع کرکےاس کے حجم میں تین گنا اضافہ کیا گیا۔ بعد ازاں اس میں مزید تین گنا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اور عظیم مینار تعمیر کیا گیا۔ اس کے بعد مشہور قطب مینار کی تعمیر کا آغاز 1199ء میں ہوا تھا۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 25 اکتوبر تا 3 نومبر، 2020