دستور کے محافظ کی غیر دستوری زبان

گورنر مہاراشٹر بھگت سنگھ کوشیاری کا ادھو ٹھاکرے کو خط

نہال صغیر،ممبئی

 

ہندوستان میں جمہوری نظام نافذ ہے اور ایک دستور کے تحت حکومت کام کرتی ہے۔عوامی نمائندے منتخب ہونے کے بعد اسی دستور کے تحت کام کرنے کا حلف اٹھاتے ہیں مگر ان میں سے اکثر کئی بار غیر دستوری قدم اٹھاتے ہیں اور انھیں اس کا احساس نہیں ہوتا ہے کہ وہ اٹھائے گئے حلف کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ موجودہ بی جے پی حکومت کا وزیر زیادہ تر دستور کے خلاف بیان بازی کرتا ہے نیز کئی مرتبہ دستور کے خلاف کام بھی کرتا ہے حد تو یہ ہے کہ وہ دستور کو روند کر ایک فرقہ کے خلاف قانون بھی بناتا ہے اور اسے انقلابی قدم قرار دیتا ہے۔ مہاراشٹر میں غیر بی جے پی حکومت ہے اس لیے اکثر یہاں گورنر اور وزیر اعلیٰ میں زبانی جنگ چھڑی رہتی ہے۔کوشیاری بھی اتنے ہوشیار ہیں کہ وہ جب کہ مہاراشٹر سویا رہتا ہے اس وقت مرکز کے اشارے پر ایسے شخص اور پارٹی کی حکومت بنوا دیتے ہیں جس کو اکثریت حاصل نہیں ہوتی۔ بہر حال 13 اکتوبر کو گورنر مہاراشٹر اور وزیر اعلیٰ میں کافی گرما گرمی رہی۔ گورنر نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو ایک خط لکھا جس میں مندر کھلوانے کا مطالبہ تھا۔ ہندوتوا کے حوالے سے ایسی باتیں کیں جو غیر دستوری ہونے کے ساتھ ساتھ گورنر جیسے آئینی عہدہ کے وقار کے خلاف بھی تھیں۔ گورنر کی آئینی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ریاستی حکومت کی نگرانی کرے کہ وہ دستور کے مطابق اپنے فرائض ادا کر رہی ہے یا نہیں مگر یہاں تو دستور کے محافظ نے ہی غیر دستوری حرکت کر دی۔ انھوں نے وزیر اعلیٰ کو یاد دلایا کہ آپ ہندوتوا کے علمبردار تھے اور ایودھیا سمیت کئی منادر گئے۔ انھوں نے لکھا کہ منادر اب تک بند ہیں، آپ سیکولر کب سے ہوگئے۔ بی جے پی کو بھی مندر کھلوانے کی بڑی جلدی ہے جب کہ ریاست میں کورونا وائرس کی خطرناکی بدستور باقی ہے۔ گورنر کے مذکورہ غیر دستوری بیان پر ابو عاصم اعظمی نے بجا طور پر کہا کہ ’’دستوری عہدہ کی قدر و منزلت خاک میں ملا کر ہندوتوا کے ایجنڈے پر کام کرنے والے گورنر کو صدر جمہوریہ ہند فوراً عہدہ سے برطرف کریں کیونکہ وہ ایک مخصوص پارٹی کی زبان بول رہے ہیں جو اس عہدہ کی توہین ہے۔ اس کرسی پر تو صرف دستور کی بات ہونی چاہیے لیکن ایک گورنر ریاست کے وزیر اعلیٰ کو ان کا ہندوتوا یاد دلاتا ہے‘‘۔ اگرچہ ابو عاصم اعظمی کا مطالبہ درست ہے مگر گورنر کے خلاف کارروائی کون کرے؟ صدر جمہوریہ خود اسی نظریہ کے حامل ہیں جب کہ وہ پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور انھیں اسی دستور ہند نے عزت و وقار دیا ہے ورنہ ان کی ذات کے افراد کے ساتھ اب تک یہاں کیا ہوتا رہا اور اب بھی اتر پردیش میں کیا ہو رہا ہے اس سے پوری دنیا واقف ہے۔مہاراشٹر میں سبھی مذہبی مقامات بند ہیں مگر گورنر کی سطحی سوچ دیکھیے کہ وہ چیف منسٹر کو لکھ رہے ہیں ’’مجھے حیرانی ہے کہ آپ مندر کا کھولنا ٹالتے کیوں جارہے ہیں۔ کیا ایسا کوئی آسمانی حکم آپ کو ملا ہے یا پھر آپ اچانک سیکولر ہوگئے ہیں، جس سے آپ کو کبھی نفرت تھی؟‘‘۔ اس پر ادھو ٹھاکرے نے لکھا ’’میں ہندوتوا کو مانتا ہوں مجھے آپ سے ہندوتوا کے لیے سرٹیفکٹ نہیں چاہیے‘‘۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ جہاں گورنر کے خط میں طفلانہ سوچ حاوی ہے تو وہیں ادھو ٹھاکرے کے جواب میں ایک سنجیدہ لیڈر کی سوچ نظر آتی ہے۔ جبکہ ادھو ٹھاکرے اس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جو ذرا ذرا سی بات میں توڑ پھوڑ میں یقین رکھتی تھی۔ مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں میں ایسے کئی واقعات اس کے شاہد ہیں مگر جب سے مہاراشٹر میں کانگریس این سی پی کے ساتھ مل کر حکومت سنبھالی ہے تب سے شیو سینا میں بالغ نظری کا فروغ ہوا ہے، اب اس کے لیڈر جب بولتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ واقعی یہ ایک سو تیس کروڑ ہندوستانیوں کے لیڈر کا بیان ہے۔ مندر کھولنے کے مطالبے پر گورنر کوشیاری اور ادھو ٹھاکرے کے درمیان لفظی جنگ میں ہی دیکھ لیں ۔ ادھو ٹھاکرے نے گورنر کو لکھا ’’جو لوگ ہماری ریاست کا مقابلہ پاکستان کے قبضہ والے پی او کے سے کرتے ہیں ان کا استقبال کرنا میرے ہندوتو میں فِٹ نہیں بیٹھتا۔ صرف مندر کھولنے سے ہی کیا ہندوتوا ثابت ہوگا‘‘ واضح ہو کہ اس سے قبل بھی شیو سینا کی جانب سے جو بیانات آئے ہیں ان سے بی جے پی کی سطحیت اور سینا کی سنجیدگی ظاہر ہوتی تھی جیسے رام مندر کے سنگ بنیاد پر بھی سنجے راوت نے طنز کیا تھا کہ رام مندر کی تعمیر سے کیا کورونا ختم ہو جائے گا؟ بی جے پی اور اس کے لیڈر بیہودہ بیانوں کے لیے ویسے بھی کافی مشہور ہیں لیکن کسی ریاستی گورنر کی جانب سے اس قسم کا بیان آئے گا یا وہ ایسی سطحی سوچ کا ہوگا یہ ہمارے وہم و گمان بھی نہیں تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ کچھ لوگوں نے گورنر مہاراشٹر کو دستور ہند کی کاپی بھیجی ہے کہ وہ دوبارہ اس کا مطالعہ کرلیں تاکہ ایسی بچکانہ اور غیر دستوری گفتگو سے پرہیز کریں۔ اس سے صرف ان کا یہ پر وقار عہدہ ہی نہیں ملک کی نیک نامی بھی متاثر ہوتی ہے۔
مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کا وزیر اعلیٰ مہاراشٹر ادھو ٹھاکرے کو خط آئینی اتھارٹی کا چونکا دینے والا اور غیر آئینی خط ہے۔ عبادت گاہوں کو بتدریج اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے ساتھ کھولنے کی خواہش سبھی رکھتے ہیں۔ تاہم، ہندوتوا سے اس کا تعلق انتہائی قابل مذمت ہے۔ سیکولر ریاست کے گورنر کو اس طرح کی سوچ زیب نہیں دیتی۔ ملک کا ایک آئین ہے جو سیکولر ہے اور جس کا گورنر نے حلف لیا ہے۔ امید ہے کہ گورنر ایسی غیر آئینی زبان استعمال کرنے سے آئندہ پرہیز کریں گے جو ان کے عہدہ کے منافی ہے۔ گورنر مہاراشٹر کوشیاری نے خود اپنے حدود کا خیال نہیں رکھا، عہدے کے وقار کا خیال رکھنا بھی ان کی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ کسی بھی ذمہ دار عہدہ کے لیے ایک قانون و دستور کے تحت ایک دائرہ کار متعین ہوتا ہے اسے اسی انہی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوتا ہے، وہ عام آدمی کی طرح آزاد نہیں ہوسکتا کہ کچھ بھی کرے یا کچھ بھی بولے۔ اس کی باتوں کی اہمیت ہوتی ہے۔ اس لیے عام طور پر اعلیٰ قانونی و دستوری عہدہ پر متمکن افراد بہت کم بولتے ہیں اور جب بولتے ہیں تو ایک ایک لفظ کو پوری طرح سمجھ کر ادا کرتے ہیں تاکہ کوئی اس سے غلط مطلب اخذ نہ کرلے۔ ملک میں گورنروں کا عہدہ ہمیشہ سے تنازعہ کا شکار رہا ہے خواہ وہ کانگریس کی ہی حکومت کیوں نہ رہی ہو۔ ریاست کی حکومتوں اور گورنر کے درمیان تعلقات اسی وقت خوشگوار رہتے ہیں جب مرکز میں بھی اسی پارٹی کا اقتدار ہو بصورت دیگر ان کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے ہی کشیدہ رہے ہیں۔ بہر حال موجودہ حکومت کے صرف وزرا اور ان کے دیگر ذمہ دار ہی بدزبان نہیں ہیں بلکہ اب اس فہرست میں گورنروں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ اب گورنر آئینی ذمہ داری بھول کر مرکز کے لیے جاسوسی، اور ریاست کی منتخب حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشیں کرنے کا کام کرتے ہیں اور جو یہ کام نہیں کرتے انھیں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ ہم کسی خاص پار کی نشاندہی نہیں کریں گے۔ آپ خود ہی ریاستوں سے آنے والی خبروں پر غور کریں تو یہ واضح ہوجائے گا کہ گورنروں کے تعلق سے جو دستوری اور قانونی ذمہ داری سمجھائی جاتی ہے وہ ہاتھی کے دکھانے والے دانت ہیں اور جو کچھ وہ حقیقت میں کرتے ہیں وہ کھانے کے ہیں اس لیے ظاہر پر جانے کی بجائے حقیقت حال پر نظر رکھیں۔
گورنر مہاراشٹر کی غیر دستوری بات پر سیاسی طوفان اٹھنا چاہیے تھا مگر ہر طرف موت کا سا سکوت نظر آرہا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کا رویہ ایسا ہے جیسے وہ پوری طرح مفلوج ہوں۔
محض وزیر اعلیٰ کی جانب سے اس کا مثبت جواب دے دینا یا شرد پوار کی جانب سے وزیر اعظم کو خط لکھ دینا کیا ظاہر کرتا ہے؟ یہ خاموشی یا سکوت یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب ہندوستان میں بڑے سے بڑا معاملہ ہو جائے مگر کوئی آواز نہیں اٹھے گی۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں اول خوف دوئم درپردہ ہندوتوا سے دیرینہ لگاؤ۔ خوف کا ماحول کتنا ہے وہ ہم کئی بار مشاہدہ کر چکے ہیں اور اب بھی وقفہ وقفہ سے اس تعلق سے کوئی نہ کوئی بات سامنے آجاتی ہے اور یہاں کی سیکولر پارٹیوں اور سیاستدانوں کا ہندوتوا یا برہمنیت سے لگاؤ بھی ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ سیکولر پارٹیوں میں اہم عہدوں پر رہنے والے اور سینئر لیڈروں نے اکثر اس سے اپنے گہرے تعلق کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کے ممبئی کے ایک لیڈر نے واضح الفاظ میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر تعمیر کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔ ایک اور کانگریسی لیڈر جو عرصہ سے خود کو سیکولرزم کے لبادہ میں لپیٹے ہوئے تھے ان کی بیوی نے ان کے سامنے کہا تھا کہ ہم راجناتھ بھیا سے مل کر پوچھیں گے کہ وہ کب رام مندر تعمیر کا کام شروع کر رہے ہیں۔اسی لیے کسی سیکولر لیڈر اور پارٹی کی زبان کوشیاری کی غیر آئینی زبان پر نہیں کھلی۔ یہ لوگ اپنے نظریہ میں ایمان دار ہوتے تو اپنے کارکنان کو سڑکوں پر لے آتے اور عوام کو اس حقیقت سے آگاہ کرتے کہ گورنر کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے لیکن افسوس کہ ایسا کچھ نہیں ہوا محض ایئر کنڈیشنڈ دفاتر یا پارٹی آفس سے بیان دے دینے سے کوئی سیکولر اور جمہوری سوچ کا حامل نہیں ہو جاتا اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔ بس دو ایک لیڈروں اور ابو عاصم اعظمی سمیت کچھ صحافیوں نے اس پر اپنے اعتراض وارد کیے۔ گورنر کے ذریعہ کسی منتخب وزیر اعلیٰ کو اس طرح طنز کا شکار بنانے پر خاموشی کے باوجود یہ لوگ جب ہمارے سامنے آئیں گے تو وہ جمہوریت اور سیکولرزم کی بات کریں گے جسے انھوں نے اپنے سامنے دفن ہوتے ہوئے خاموشی سے دیکھا ہے۔ یہ بات کہنے کی نہیں ہے کہ کسی معاملہ پر خاموش رہنا بھی اس کی حمایت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی پارٹیاں اپنی پرانی منافقت سے باز نہیں آئیں گی ہمیں خود ہی یہ سب کچھ سمجھنا ہوگا اور اپنے مستقبل کی فکر ہمیں خود کرنی ہوگی۔ مسلمانوں کو یہ بات ذہن نشیں کرلینی چاہیے کہ تبدیلی یا کسی انقلاب کے لیے دھوپ اور دھول کی فکر کیے بغیر متحرک ہونا پڑے گا چہرے اور جسم جب تک غبار آلود نہ ہوںتبدیلی ممکن نہیں۔
***

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 25 اکتوبر تا 3 نومبر، 2020