یمن :دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران

علاقائی برتری کے لیے مسلط کردہ جنگ سے 1.2کروڑ بچوں کا مستقبل تاریک!

زعیم الدین احمد، حیدرآباد

 

یمن کا بحران اس وقت دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران بن چکا ہے، اس میں خاص طور پر یمنی بچوں کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔ 24ملین سے زائد افراد اس بحران کا شکار ہیں اور تقریباً80 فیصد آبادی کو اس وقت انسانی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے جن میں 12ملین سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔ مارچ 2015میں تنازعہ کے بڑھنے کے بعد سے ملک کی حالت انتہائی دھماکو ہو چکی ہے، خصوصاً وہاں کے بچوں کے لیے تو یہ ملک جہنم زار بنا ہوا ہے۔ یمن جزیرہ نما عرب کے جنوب مشرقی کنارے پر واقع ہے۔ بحیرہ احمر اور خلیج عدن اسے سعودی عرب اور عمان سے ملاتے ہیں۔ اسے مشرق وسطیٰ کا سب سے غریب ملک سمجھا جاتا ہے جہاں کی کل آبادی تقریباً 29 ملین افراد پر مشتمل ہے۔ خلافتِ عثمانی کے بعد اس ملک پر برطانوی نوآبادیات کی حکمرانی رہی۔ یہ ملک موجودہ خانہ جنگی سے پہلے 1960 میں بھی خانہ جنگی سے تباہ حال رہا ہے۔
بہارِعرب سے ہی یمن میں بھی حکومت کے خلاف بغاوت شروع ہوگئی تھی جس کی وجہ سے صدر علی عبداللہ صالح 2011میں اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھی۔ علی عبد اللہ صالح کے بعد ان کے نائب عبد ربہ منصور ہادی کو 2011میں اقتدار سونپ دیا گیا۔ اقوام متحدہ نے بات چیت کے لیے ایک قومی گروپ تشکیل دیا تاکہ ملک کے سیاسی نظام کو مدون کیا جاسکے۔ اس گروپ کے تحت ایک نیا وفاقی نظام ترتیب دینے پر رضا مندی ظاہر کی گئی۔ لیکن کشیدگی پھر اس وقت بھڑک اٹھی جب ملک کو چھ وفاقی حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اسی تجویز نے گروپ میں نیا تنازعہ پیدا کر دیا۔ منصور ہادی بحیثیت صدر اس تنازعہ کو حل نہ کر سکے۔ منصور ہادی کو اس کے علاوہ دیگر مسائل کا سامنا بھی تھا جیسے فوجی اہلکاروں کی سابق صدر سے مسلسل وفاداری، جنوب کی علیحدگی پسند تحریک، بیروزگاری، غذائی قلت نیز بد عنوانی وغیرہ۔
حوثی تحریک جسے انصار اللہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے یمن کی زیدی شیعوں پر مشتمل ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے علی عبد اللہ صالح کے خلاف برسر پیکار ہے اور حکومت سے مقابلہ کرتی رہی ہے، شمالی صوبہ صعدہ اور اس کے اطراف کے علاقوں پر اس کا مکمل کنٹرول ہے کیونکہ نئی حکومت عوام کی توقعات پر پوری نہیں اُتر رہی تھی تو حوثیوں نے نئی حکومت کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دیگر علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا شروع کر دیا۔ چونکہ عوام بھی حکومت سے مایوس تھی تو عام یمنیوں نے، جن میں سنی بھی شامل تھے حوثیوں کی حمایت کی اور 2014کے آواخر اور 2015کے اوائل میں باغیوں نے آہستہ آہستہ دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا۔
سعودی عرب کو حوثیوں کے آگے بڑھنے میں اپنے لیے خطرہ نظر آنے لگا تو اس نے اور آٹھ دیگر عرب ممالک جن میں زیادہ تر سنی تھے ہادی حکومت کو بحال کرنے اور ایرانی اثرورسوخ کو جزیرہ عرب میں ختم کرنے کے لیے فوجی کارروائی کرتے ہوئے فضائی حملے شروع کر دیے۔ اس اتحاد کو امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی بھر پور حمایت حاصل تھی اور نہ صرف حمایت حاصل تھی بلکہ وہ باضاطہ طور پر ان کو رسد بھی فراہم کر رہے تھے۔ جنگ کے آغاز پر سعودی حکام نے بڑے زعم میں اس بات کی پیش قیاسی کی تھی کہ ہم یہ جنگ محض چند ہفتوں میں جیت جائیں گے یا یہ کہ فوجی کارروائی چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی لیکن اس فوجی کارروائی کے چار سال پورے ہونے، ہزاروں جانیں گنوانے کے باوجود یہ جنگ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔
ستمبر 2019میں سعودی عرب کے مشرقی علاقے ابقیق اور خریص پر ہونے والے راکٹ حملہ نے مملکت کے تقریباً آدھے تیل کی پیداوار کو متاثر کر دیا ہے جو علاقہ عالمی سطح پر تیل کی پیداوار کا تقریباً 5فیصد حصہ ادا کرتا ہے۔ حوثیوں نے اس پر حملے کی ذمہ داری قبول کی لیکن سعودی عرب اور امریکہ نے اس حملے کا الزام ایران پر عائد کر دیا۔
سعودی اتحاد نے اس قدر شدید بمباری کی کہ التعزیہ، جو یمن کا ایک مشہور شہر ہے، مکمل طور پر تباہ و برباد ہو گیا۔ مسلسل چھ ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد متحارب گروہوں نے سویڈن میں جنگ بندی پر مذاکرات سے اتفاق کرلیا۔ اسٹاک ہوم میں ہونے والے معاہدے میں طے کیا گیا کہ فریقین وہاں اپنی افواج دوبارہ رکھیں گے اور ساتھ ہی آپس میں قیدیوں کے تبادلے کریں گے اور التعزیہ کی موجودہ صورت حال پر اس کے مسائل کو باہمی گفتگو کے ذریعہ حل کریں گے۔ جولائی 2019 میں متحدہ عرب امارات نے جو اس جنگ میں سعودی عرب کا کلیدی حلیف رہا ہے اور جسے یمن میں فضائی حملوں کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر شدید تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، یمن سے اپنی افواج کے انخلا کا اعلان کردیا۔ لیکن اگست میں سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ حکومتی دستوں، جنوب کی علیحدگی پسند تحریک اور سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے مابین پھر سے لڑائی شروع ہو گئی۔ اقوام متحدہ اس امید کا اظہار کرتا رہا تھا کہ یہ جنگ بندی معاہدہ ملک میں خانہ جنگی کے خاتمے کا ذریعہ بنے گا اور ایک نئے سیاسی تصفیہ کا راستہ کھول دے گا لیکن جنوری 2020میں متعدد محاذوں پر میزائل و فضائی حملوں سے حوثیوں اور اتحادی فورسز کے مابین جنگ میں اچانک اضافہ سے امن اور جنگ بندی کے معاہدوں پر پانی پھر گیا۔ اس جنگ نے پورے علاقے کو بد امنی کا شکار اور دھماکہ خیز بنا دیا ہے جہاں انسانی جانوں کی کوئی قیمت باقی نہیں رہی۔ مختصر یہ کہ اس وقت یمن دنیا کے بدترین انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ اس جنگ نے 3.65 ملین سے زیادہ افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔
یونیسف کی رپورٹ کے مطابق 10ملین بچوں تک صحت کی بنیادی سہولیات کی رسائی نہیں ہو پا رہی ہے جب کہ کوویڈ۔19کی وبا سے اس ملک کی صورت حال مزید ابتر ہوگئی ہے۔ آبادی کے نصف حصہ ہی کو طبی سہولیات مہیا ہیں۔ عوام تک صاف پانی اور غذا کی فراہمی نہیں ہو پا رہی ہے۔ یقیناً یمن اس وقت ہنگامی صورت حال سے دوچار ہے۔ بچوں پر بحران کے کس قدر بُرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ اس تنازعہ میں معصوم بچے یا تو مارے جارہے ہیں یا معذور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس ہنگامی اور دھماکہ خیز صورت حال میں بچوں کا نہ تو اسکولوں کو جانا ممکن ہے اور نہ ہی بیمار ہونے پر انھیں اسپتالوں میں کوئی علاج کی سہولتیں مل پا رہی ہیں۔
یونیسف کے مطابق کوویڈ19-نے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ کوویڈ19-سے پہلے تقریبا 2 ملین بچے اسکولی تعلیم سے محروم تھے اور اب جب کہ اس وبائی مرض کی وجہ سے ملک بھر کے سارے اسکول بند کر دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے تقریبا 7.8 ملین بچوں کے لیے تعلیم کا حصول نا ممکن ہو گیا ہے۔ جیسے جیسے کورونا وائرس پھیلتا جا رہا ہے اسی نسبت سے ان کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں ہزاروں بچے جان لیوا اور شدید غذائی قلت کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ تقریباً چار لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور اپنی زندگی کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان چار لاکھ بچوں میں ڈھائی ملین بچے ایسے ہیں جن کی عمریں پانچ سال سے بھی کم ہیں وہ بھی شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اگر یہی حالات رہے تو تعداد میں مزید اضافہ ہونے کے امکانات ہیں۔ حقیقت میں یمن تنازعہ ”بچوں کے لیے تو مثل جہنم بن چکا ہے“
جولیٹ (یونیسف کے علاقائی چیف آف کمیونیکیشن) نے کہا کہ یمن میں ہر سال 30 ہزار بچے غذائی قلت کی وجہ سے موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں جانتا ہوں کہ یہ اعداد و شمار حقیقتِ حال کی پوری ترجمانی نہیں کرسکتے لیکن یہ ضرور بتاتے ہیں کہ وہاں صورت حال مجموعی حیثیت سے کیا ہے اور وہ کس قدر سنگین ہوگئی ہے۔ جب سے یمن میں جنگ شروع ہوئی ہے ہر سال 1.8 ملین بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو رہے ہیں اور ہر دن تقریباً چار لاکھ بچے شدید غذائی قلت کی وجہ سے مختلف بیماریوں سے دوچار ہوتے ہیں۔ جب کہ ان چار لاکھ بچوں میں سے چالیس فیصد الحدیدہ اور اطراف کے علاقوں کے ہیں جہاں جنگ برپا ہے۔ دوسری طرف جنگ نے بچوں میں صحت کے مسائل کو مزید ابتر بنا دیا ہے۔ جولیٹ نے کہا کہ میں ایک ایسی لڑکی سے ملا ہوں جو ڈفتھیریا سے متاثر تھی جس کی وجہ سے اس کا نصف جسم فالج زدہ ہو گیا تھا۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کا بر وقت علاج نہ ہو تو وہ جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔بدقسمتی سے اس لڑکی کی بھی بروقت ٹیکہ اندازی نہ ہونے کی وجہ سے وہ فالج زدہ ہوگئی اور اس کا آدھا جسم مفلوج ہوگیا۔ اس وقت یمن کی جنگ میں سب سے زیادہ متاثر علاقہ اس کا بندرگاہی شہر الحدیدہ ہے جس کے ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں، جب کہ پورے یمن میں آٹھ لاکھ افراد پہلے ہی افلاس و بھکمری کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یمن اس وقت دنیا کی جدید تاریخ کے سب سے بدترین ہیضے کا سامنا کر رہا ہے۔ اکتوبر 2016سے اب تک 2.2 ملین سے زیادہ افراد اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں تو وہیں اس وبا سےاب تک 3895اموات بھی ہوئی ہیں ۔
یمن کے تنازعہ کو شیعہ سنی تنازعہ نہیں کہا جاسکتا، سعودی عرب اور ایران کے مابین علاقائی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے یہ جنگ یمن پر مسلط کردی گئی ہے۔ یقیناً جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوسکتی۔ اس میں انسانی جانوں کے نقصان کے ساتھ ساتھ معاشی تباہی بھی بہت بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔ جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوتی بلکہ تباہی کہ تخمینے لگائے جاتے ہیں۔ ماہرین کا خیال یہی ہے کہ کسی بھی مسئلے کا حل بات چیت اور سفارت کاری ہی کے ذریعہ ممکن ہے اور یمن کے تنازعہ کا حل بھی اسی راستے سے نکالا جاسکتا ہے۔
***

اس وقت یمن کی جنگ میں سب سے زیادہ متاثر علاقہ اس کا بندرگاہی شہر الحدیدہ ہے جس کے ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں، جب کہ پورے یمن میں آٹھ لاکھ افراد پہلے ہی افلاس و بھکمری کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یمن اس وقت دنیا کی جدید تاریخ کے سب سے بدترین ہیضے کا سامنا کر رہا ہے۔ اکتوبر 2016 سے اب تک 2.2 ملین سے زیادہ افراد اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں تو وہیں اس وبا سےاب تک 3895 اموات بھی ہوئی ہیں ۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 25 اکتوبر تا 3 نومبر، 2020