اداریہ: آفت انسانی، آسمانی نہیں!

 

آفت انسانی، آسمانی نہیں!
مرا شہر لوگاں سوں معمور کر
رکھیا جیوں توں دریا میں من یا سمیع

سن۱۹۱۴ میں شایع شدہ جان لا (John Law) نے اپنی کتاب "ماڈرن حیدرآباد (دکن)” کے باب نو (۹) میں شہر حیدرآباد کو ۱۹۰۸ سال کے بدترین سیلاب کے بعد مزید چیلینجوں اور تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے نظام سرکار کی طویل المیعادی منصوبہ بندی کا ذکر کیا ہےکہ چھٹے نظام میر محبوب علی نے شہر کی تعمیرِ نو اور اس کے شہریوں کو آفات سے محفوظ رکھنے کے لیے نواب احمد علی یار جنگ اور سَر ایم وِسویسریا انجنیئر کی خدمات حاصل کیں۔ ان دونوں نے شہر کے بالائی حصہ میں چند میل دور دو آبی ذخائر تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی جو بارش کے اضافی پانی کو اوپر ہی روک سکیں۔ سن ١٩٠٨ میں حیدرآباد کی آبادی چار لاکھ تھی اور نظام میر محبوب علی خان بہادر کی دور اندیشی تھی کہ انھوں نے تین گنا سے زیادہ یعنی ١٣ لاکھ کی آبادی کے مستقبل کو ملحوظ رکھتے ہوئے حمایت ساگر ڈیم بنوایا جس کی لاگت مبلغ 56 لاکھ روپئے تھی اور مزید آب پاشی کے لیے مبلغ 45 لاکھ روپئے مختص کیے گئے تھے۔ اس کے بعد سنہ ١٩١٣ میں حیدرآباد کے مغرب میں ٢٠ کیلو میٹر پر عثمان ساگر ڈیم بنایا گیا جسے عرفِ عام میں ’گَنڈی پیٹ‘ تالاب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اسی سے مثل مشہور ہے کہ ’’جس نے ایک بار گنڈی پیٹ کا پانی پیا وہ حیدرآباد چھوڑ کر نہیں جاتا‘‘۔ اس طرح حیدرآباد دکن شہر کے بانی محمد قلی قطب شاہ نے ١٥٩١ میں شہر بساتے وقت جو دعا کی تھی کہ اس شہر کو چاروں سمتوں سے لوگوں کے ذریعہ (معمور) آباد رکھنا، وہ قبول ہوتی گئی۔ ۱۹۶۰ تک قدیم شہر حیدرآباد میں کم و بیش چھ سو سے زاید تالاب موجود تھے۔ سابق میں ایک اونچے تالاب سے دوسرے نچلی سطح پر واقع تالاب میں ایک دوسرے کے پانی کے بہاؤ کو پہنچانے اور بالآخر موسی ندی میں لے جانے کا ایک نظم تھا جو بڑھتی آبادیوں اور غیر منصوبہ بندی نے بگاڑ دیا۔ موجودہ قدیم شہر کے علاوہ اب حیدرآباد عُظمیٰ اور حیدرآباد میٹروپولیٹن ترقیاتی اتھاریٹی (HMDA)کی حدود کے اندر قریب تین ہزار تالابوں اور جھیلوں کا وجود بتایا جاتا ہے۔ اب جب کہ اکثر تالاب انسانی بستیوں کے لیے پاٹ دیے گیے تو بارش کا پانی اصلا اپنی راہ سے بہہ کر گذر رہا ہے البتہ مکانات اس کے آڑے آ رہے ہیں۔ اس میں بارش کو موردِ الزام ٹھہرانا کیوںکر جائز ہو سکتا ہے؟ ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والی مخلص سماجی کارکن ڈاکٹر لٰبنیٰ ثروت بتاتی ہیں کہ انھوں نے قدرت کو بے رحمی سے نوچنے والے افراد اور سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے خلاف پچھلے چھ برسوں میں شہر حیدرآباد کے علاوہ دلی، چینئی وغیرہ میں درپیش ماحولیات کے ایشوز پر نو عدد مفادِ عامّہ کی عرضداشتیں (پی آئی ایل) داخل کر رکھی ہیں۔ حکومتیں ان میں اٹھائے گئے نکات پر سنجیدگی سے کام کرنے کی بجائے متکبرانہ انداز اپناتی ہیں اور ترقیات اور انتخابی مفادات، ماحولیات کے عظیم تر مفاد پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ ہائی کورٹوں میں بھی اس طرح کے موضوعات کو اب اتنی سنجیدگی سے لیا نہیں جا رہا۔ ادھر نیتی آیوگ انتباہ دے چکا ہے کہ حیدرآباد رفتہ رفتہ ’خشک ضلع‘ بنتا جا رہا ہے یعنی دکن کے اس خطہ میں زیرِ زمین پانی کی مقدار ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے پیچھے یہاں کے آبی ذخائر کے اندر محکمہ آب پاشی، ریاستی ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے والی (Environmental Impact Assessment)اتھاریٹی سے لے کر مقامی بلدیہ، ریاستی نیتا اور منتخبہ نیز تقرر کردہ تمام سطح کے رہنماؤں کی بدعنوانی کارفرما ہے۔ ان سب کو جوابدہ ٹھہرانا لازم ہے۔ اس بار محکمہ موسمیات نے تیز بارش اور حمایت ساگر اور بالاپور کے پانی چھوڑے جانے کی پیشگی وارننگ جاری کی تھی۔ شہری اور ریاستی انتظامیہ تال میل کے ساتھ مزید چاق و چوبند ہو کر بہتر منصوبہ بندی کرتے تو پچاس کے قریب جو جانیں ضائع ہوئیں اور جو ۵ ہزار کروڑ مالی نقصانات کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے اس میں کافی کمی دیکھی جاتی۔
ممبئی، چینئی، دلی، پٹنہ، کولکاتا ہو یا کوئی اور شہر۔ ہر شہر کے ساتھ ہوتا آیا ہے کہ سیاستدانوں، سرکاری عہدیداروں اور زمین مافیا کی ملی بھگت سے ہر خالی جگہ پر قبضوں کی ہوڑ لگ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں یہاں کے متعدد تالاب اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ جن آبی ذخائر کو شہریوں کی پیاس بجھانے کے لیے اور ماحولیاتی توازن کی برقراری کے لیے محفوظ رکھنا تھا ان کی جگہ لالچ، خود غرضی، ووٹ بنک اور سب سے بڑھ کر ترقیاتی منصوبوں کے نام پر جس طرح لوٹ کھسوٹ کا بازار روا رکھا جاتا ہے اس سے بارش کے جیسا معمول کا قدرتی عمل بلکہ ’خدائی عمل‘ شہریوں کے لیے عذاب میں تبدیل ہوجاتاہے۔ لیکن اس سے پہنچنے والی تباہی اور جانی و مالی نقصانات خالصتا انسانی و حکمرانوں کے ہاتھوں انجام پانے والی سرگرمی ہے۔ حیدرآباد روڈ ترقیاتی کارپوریشن لمٹیڈ (HRDCL)نے بلدیاتی انتظامیہ و ترقیات کی وزارت (MAUD)کے تعاون سے ایک تالاب کے اندر سڑک بنوائی ہے۔ زمینات پر قبضے جب حکومتیں کرتی ہیں تو وہ ’ایکوائر کرنا’کہلاتا ہے اور جب شہری کسی زمین یا پلاٹ وغیرہ پر اپنا تصرف قائم کرتا ہے تو وہ ’(ناجایز) قبضہ‘ کہلاتا ہے۔ لیکن نتیجہ دونوں ہی صورتوں میں ایک نکلتا ہے کہ وہاں قانونی طریق پر ہو کہ غیرقانونی، ’حق تلفی‘ ہی ہوتی ہے۔ قدرت کی حق تلفی کرنے سے پیش آمدہ نتائج سے فرار ممکن نہیں ہوتا۔ ۱۱۷ سالہ ریکارڈ توڑ بارش کے دوران متعدد غمناک اور دلدوز مناظر اس شہر اور دنیا نے دیکھے۔ افسوس کہ سیاسی نمایندوں کے بیچ مخاصمت، چھینا جھپٹی اور بچاؤ اور راحتی کاموں کے دوران دیکھے گیے تصادم کے مناظر نے شرمندگی کی حد تک ہماری غیرتوں کو گرا دیا ہے۔ اقتدار اور حزب اختلاف کو شاید ہی کسی جمہوریت میں تال میل کے ساتھ کسی مصیبت کی گھڑی میں عوام پر فوکس کرتے ہویے کام کرتے دیکھا گیا ہو۔ مرکزی وزارتِ داخلہ کے تحت قومی اور ریاستی سطح پر آفت راحت فورس (این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف) ملک بھر میں قائم ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے اور ذمہ داری متعین کرنے کی ضرورت ہے کہ بارش کی پیش قیاسی کے باوجود ان کی کارکردگی میں کہاں کمی رہ گئی؟ مرکزی حکومت نے پہلے ہی ریاستوں کو جی ایس ٹی کا واجب الادا روک رکھا ہے اب کوویڈ کے پس منظر میں ان آفات سے سامنا کرنے والی ریاستوں کو یوں ’رام بھروسے‘ چھوڑنے سے عوام ہی تکلیف میں رہیں گے نہ کہ سیاست داں۔ مرکزی حکومت کے سو (۱۰۰) اسمارٹ شہر بنانے کے مشن کے تحت حیدرآباد شامل تو نہیں تھا لیکن موجودہ ٹی آر ایس حکومت ہی کیا سابقہ وزیر اعلی چندربابو نائڈو وغیرہ بھی اس کو ایک ’عالمی پیمانے کا شہر‘ بنانے کے بلند بنگ دعوے کرتے آئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے سی آر نے حیدرآباد کے گندے پانی کی نکاسی کے لیے ۶ ہزار ۸ سو کروڑ روپئے دینے کا فیصلہ لیا ہے۔ اب اگلے دو ماہ میں میونسپل انتخابات ہونے ہیں اور اس بجٹ کا بہت تھوڑا ہی حصہ خرچ ہو سکا ہے۔ نالوں، تالابوں اور ندی کنارے بسائی گئی بستیوں کو مستقلا محفوظ مقامات پر منتقل کرنے پر کوئی ٹھوس کاروائی ہونے کی امید نہیں کی جا سکتی۔ نہ کسی نیتا اور اس کی پارٹی میں اتنی جرأت ہے کہ وہ غیر قانونی تجاوزات سے ان علاقوں کو پاک کرا سکے۔تلنگانہ میں ٥ لاکھ مربع فٹ پر مشتمل نئی سیکریٹریٹ عمارت کرنے کے لیے چار سو کروڑ روپے اگست میں منظور کیے گئے ہیں۔ جبکہ عہد نظام کی عمارت ابھی قابلِ استعمال ہے۔بوجوہ سیاستدانوں کی ترجیحات میں بڑے بجٹ والے ترقیاتی پروجیکٹ ہی شامل ہوتے ہیں ۔مستقبل کی آبادی کے اضافے کے تخمینوں کے مطابق بلدیاتی سہولیات کی فراہمی حکمرانوں کا اولین فریضہ ہے۔ عوام ان ہی خدمات کو پانے کے لیے بالواسطہ یا بلا واسطہ ڈھیروں ٹیکسوں کی ادائیگی کرتے ہیں۔ لہٰذا تمام افسران اور عوامی نمائندوں کو عوام کے سامنے ہر حال میں جوابدہ بنایا جائے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اتنی بڑی تباہی اور قابلِ لحاظ (۱۳ /اکتوبر کی پہلی بارش میں ۵ ہزار کروڑ روپیوں کے) نقصانات کے باوجود کسی حکومت، وزیر کجاکہ کسی سرکاری کارندے کو کبھی اخلاقی ذمہداری قبول کرتے ہوئے استعفی پیش کرتے ہوئے دیکھا نہیں جاتا؟ جس لمحہ جوابدہی طے ہوگی اور کوتاہیوں پر سزا ملنا شروع ہوگی، انتظامیہ کا چاق چوبند ہونا لازمی ہے۔شہری اپنے نمائندوں کو ووٹ دیتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ دور اندیش اور فلاح و بہبود کا جذبہ رکھنے والے لوگ منتخب کریں جو ان کی جان و مال اور عزت و وقار کی زندگی کے لیے کام کرنے والے ایماندار، مخلص، بے غرض، غیر جانبدار اور ملک کے قانون کا پاس و لحاظ رکھنے والے ہوں گے نہ کہ غیر حقیقی اور جذباتی ایجنڈے کے ساتھ سیاست کرنے والےفسادی۔ اس زمین کو ہم نے وراثت میں نہیں پایا ہے بلکہ یہ ہمارے پاس آئندہ نسلوں کی امانت ہے۔ ماحولیات اور قناعت و کفایت شعاری کے تعلق سے محمد رسول اللہ کی نصیحت کے مطابق وضو کے لیے چاہے ندی کنارے کھڑے ہو تو بھی پانی میں فضول خرچی کی اجازت نہیں ہے۔ ترقی اور ماحولیات میں ایک بہتر توازن، قدرتی وسائل میں تصرف کرتے وقت بھی افراط و تفریط سے پرہیز بلکہ ہر سہولت کو ایک امانت کی نگاہ سے دیکھنے والا نظریہ ہی انسانی آبادی کو خوش حال رکھ سکتا ہے۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 25 اکتوبر تا 3 نومبر، 2020