خودکشی:زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے!

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

ڈاکٹر سلیم خان، ممبئی

 

ہندوستان کے اندر کورونا وائرس سے پہلی موت 12؍ مارچ کو ہوئی تھی اس طرح پچھلے 7ماہ میں جملہ ایک لاکھ 11ہزار لوگ اس وبا کے سبب لقمۂ اجل بن گئے۔ ان اموات کو روکنے کے لیے زمین و آسمان کو ایک کردیا گیا جب کہ جرائم کا ریکارڈ رکھنے والے سرکاری ادارے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق ملک میں گزشتہ برس تقریباً ایک لاکھ 39ہزار 123افراد نے مختلف وجوہات کی بنا پر خودکشی کرلی۔ این سی آر بی کی طرف سے جاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اوسطاً 381افراد نے روزانہ یا ہر چارمنٹ میں ایک شخص نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ہے۔ 2014 سے وطن عزیز میں ’اچھے دن‘ آچکے ہیں اس کے باوجود خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ 2019کی یہ تعداد پچھلے سال کے مقابلے 3.4فیصد زیادہ ہے۔ ابھی حال میں ایوان صدر کے اندر 38سالہ تیج بہادر تھاپا نامی فوجی نے خود کو پنکھے سے لٹکا کر خودکشی کرلی۔ یہ تشویشناک سانحہ تھا پولیس نے اس کی تفتیش بھی کی مگر چونکہ وہ سشانت سنگھ راجپوت کی طرح مشہور آدمی نہیں تھا اور سرکار دربار کو اس کی موت سے کوئی سیاسی فائدہ اٹھانا بھی مقصود نہیں تھا اس لیے ذرائع ابلاغ نے اسے نظر انداز کردیا اور کسی کو پتہ ہی نہیں چلا کہ اس بے چارے کی خودکشی کا سبب کیا تھا اور نہ کسی نے جاننے کی زحمت گوارا کی۔
عالمی سطح پر دیکھیں تو دنیا میں ہر سال آٹھ لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں جبکہ کورونا وائرس پچھلے 10ماہ میں 11لاکھ لوگوں کی موت کا سبب بن چکا ہے۔ یہ فرق بہت بڑا نہیں ہے۔ عالمی سطح پر ہندوستان کی آبادی 17.5فیصد ہے اور پوری دنیا سے موازنہ کیا جائے تو سالانہ خود کشی کے معاملہ میں ہندوستان کا حصہ 17فیصد بنتا ہے۔ اس سے پتہ سے چلتا ہے کہ ملک کی آبادی کے لحاظ سے خودکشی کا اوسط برابر ہے لیکن مودی جی کو ووٹ دینے والے نوجوانوں میں یہ شرح بزرگوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ عالمی پیمانے پر 15سے 29برس کے درمیان کے نوجوانوں میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد ہندوستان سب سے زیادہ ہے۔ وزیراعظم ہر معاملے میں ہندوستان کو پہلے نمبر پر لا کر وشوا گرو (عالمی رہنما) بنانا چاہتے ہیں لیکن اپنے پہلے چار سالوں میں انھوں نے اپنے جوانوں کو خودکشی کی دوڑ میں سب سے آگے پہنچا دیا۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ مودی جی نے 2014کی انتخابی مہم میں نوجوانوں کی جانب خاص توجہ دی تھی۔ بڑے ارمانوں سے ایک روشن مستقبل کی امید میں نئی نسل نے انھیں منتخب کیا تھا لیکن جب بے روزگاری نے پچھلے 45سالوں کا ریکارڈ توڑ دیا تو ظاہر ہے اس سے یہی طبقہ سب سے زیادہ متاثر اور مایوسی کا شکار ہوا ہے۔
خود کشی کے یہ اعداد و شمار معاشرے کے اندر اس برائی کے پھیلاؤ پر بھرپور روشنی ڈالتے ہیں۔ این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق دیہات کے مقابلے میں اس کا اثر شہروں میں زیادہ ہے یعنی سال 2019میں جہاں ایک طرف خودکشی کی مجموعی شرح دیہات میں 10.4فیصد تھی تو اس کے مقابلے میں شہروں میں یہ 13.9فیصد رہی۔ یہ حقیقت اظہرمن الشمس ہے کہ شہروں میں دیہات کی بہ نسبت زیادہ آسودگی ہے۔ اس کے باوجود خودکشی کا شہروں میں ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اس کا تعلق خوش حالی کے بجائے آرزو مندی یا بے جا توقعات سے ہے۔ یہ جب مایوسی میں بدل جائے تو انسان کو انتہائی اقدام کے لیے مجبور کرسکتی ہے۔ خودکشی کرنے والوں میں سب سے زیادہ 32.4فیصد لوگوں نے ازدواجی زندگی کے علاوہ دیگر خاندانی مسائل کی وجہ سے خودکشی کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج بھی ہندوستان میں خاندانی نظام اس قدر مضبوط ہے کہ وہ زیادہ تعداد میں لوگوں کو خودکشی پر مجبور کرتا ہے۔ میاں بیوی کی ناچاقی کے لطیفے تو خوب بنتے ہیں مگر اس کی وجہ سے خودکشی کرنے والے کل تعداد کا صرف 5.5 فیصد ہیں۔
خاندانی تنازعات کے جملہ 37.9فیصد کے بعد خودکشی کا دوسرا سب سے بڑا سبب بیماری ہے جو کل تعداد کا 17.1فیصد ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے صحت عامہ کا نظام اس قدر فرسودہ ہے کہ بیمار لوگ ایک حد کے بعد زندہ رہنے پر خودکشی کو ترجیح دیتے ہیں۔ عام طور پر خواتین کو جسمانی کے علاوہ نفسیاتی طور پر بھی کمزور سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ بڑی آسانی سے رونے لگتی ہیں لیکن یہ رپورتاژ اس خیال کی نفی کرتی ہے۔ خودکشی کرنے والوں میں دو تہائی سے زیادہ یعنی 70.2 فیصد مرد اور صرف 29.8فیصد خواتین ہیں۔ ویسے خودکشی کرنے والے مردوں میں 68.4فیصد اور خواتین میں 62.5فیصد کا شادی شدہ ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ غیر شادی شدہ مرد و خواتین اس انتہائی اقدام کی جانب نسبتاً کم راغب ہوتے ہیں گو کہ یہ فرق بہت زیادہ نہیں ہے۔ کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن نے یومیہ مزدورں کے جس مسئلے کو ابھار کر پیش کیا تھا خودکشی کی رپورٹ بھی اس تصدیق کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ اپنے آپ کو غریب کا بیٹا کہہ کر محلوں میں رہنے والے وزیر اعظم کی مدت کار میں ان کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے۔ ہر سال دو کروڑ نئے روزگار اور کسانوں کی آمدنی کے دوگنا کرنے کا وعدہ اگر پورا ہو گیا ہوتا تو یہ حالت نہیں ہوتی لیکن بقول داغ دہلوی؎
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
این سی آر بی کے مطابق 2019 میں خودکشی کرنے والوں کے اندر سب سے بڑی تعداد یومیہ مزدوروں کی تھی۔ عام طور پر کسانوں کے اندر خودکشی پر بہت گفتگو ہوتی ہے لیکن کھیت میں کام کرنے والے مزدوروں کے علاوہ دیگر محنت کشوں میں سے 32563 یومیہ مزدوروں نے پچھلے سال خودکشی کرلی۔ سال 2014 کے بعد سے دیکھیں تو خودکشی کرنے والے یومیہ مزدوروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ نظر آتا ہے۔ 2014 میں یہ طبقہ خودکشی کرنے والوں میں صرف 12 فیصد تھا جو 2015 میں بڑھ کر 17.8 فیصد ہوگیا۔ اس کے بعد 2016 میں یہ تعداد 19.2 فیصد پر پہنچ گئی۔ 2017 میں 22.4 فیصد ہوئی اور 2018 میں 23.4 فیصد ہوگئی۔ تاہم اگر تعداد کے لحاظ سے دیکھا جائے تو 2014 کے مقابلے میں خودکشی کرنے والے یومیہ مزدورں کی تعداد 15735 سے بڑھ کر 2019 میں 32563 ہوگئی۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ ان مفلسوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے نیز، سب کا ساتھ سب کا وکاس اور اس پر وشواس کا اضافہ محض ایک فریب ہے۔ اس حقیقتِ عملی اظہار لاک ڈاؤن کے ابتدا میں ہوا۔
خودکشی کے طریقۂ کار پر ایک نظر ڈال لینا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ خودکشی کے شہنشاہ ایس ایس آر یعنی سشانت سنگھ راجپوت نے اپنے گلے میں پھندا لگایا۔ ملک میں یہی خودکشی کے لیے سب زیادہ مقبول و معروف طریقہ ہے یعنی 2019 میں 53.6 فیصد لوگوں نے اسی تکلیف دہ طرح سے جان گنوانے کو پسند کیا۔ اس کے بعد 25.8 فیصد لوگ ایسے تھے جنہوں نے آسانی کے ساتھ زہر کھا کر مرنے کو ترجیح دی۔ خودکشی کرنے والوں میں 5.2 فیصد نے پانی میں ڈوب کر مرنا پسند کیا اور 3.8 فیصد ایسے بھی تھے جنہوں نے خودسوزی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ خودکشی کی وجوہات میں سے ایک شہروں میں منشیات کا استعمال بھی ہے اور سشانت بھی شہری نوجوانوں میں سے ایک تھا جو شادی کے بغیر ازدواجی الجھنوں کا شکار ہوگیا تھا۔ اس تناظر میں وہ ایک عام خودکشی کی واردات تھی لیکن اس بات کا بتنگڑ بنا دیا گیا۔
سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی تو ایک سہل سانحہ تھا لیکن اس پر رچی جانے والی سیاسی سازش کے کئی پہلو ہیں۔ اس میں سب سے پہلے تو مہاراشٹر کی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی گئی اور یہ الزام لگایا گیا کہ وہ قتل کی پردہ پوشی کرکے مجرموں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سوشانت کے والد کے کے سنگھ نے ممبئی کے بجائے پٹنہ میں ایف آئی آر داخل کرکے اسے ایک بین الریاستی تنازع بنا دیا۔ مہاراشٹر کی پولیس نے بہاری افسران کی آمد کو اپنی توہین گردانتے ہوئے انھیں قرنطینہ میں بھیج کر اپنے پیر پر کلہاڑی مارلی اور مخالفین کو موقع دے دیا۔ اس کے بعد سی بی آئی تفتیش میں یہ محسوس کرلینے کے بعد کہ اس میں سے کچھ نہیں نکلے گا انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ (ای ڈی) کو حرکت میں لایا گیا اور آخر میں نارکوٹک کنٹرول بیورو(این سی بی) کو بھی میدان میں اتار دیا گیا۔ ان تینوں کے علاوہ میڈیا اس معاملے کو دن رات اچھال رہا تھا اور ان سب کے پیچھے مرکزی حکومت کار فرما تھی۔
سوشانت کی خودکشی کے ذریعہ جب مہاراشٹر کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی تو اسے بہار کا انتخابی موضوع بنانے کی مذموم کوشش کی گئی۔ بی جے پی نے یہ پوسٹر نکال دیا کہ ’’نہ بھولیں گے اور نہ بھولنے دیں گے‘‘ بہار میں چونکہ بی جے پی اقتدار میں حصے دار ہے اس لیے یہ یاد رکھنے کا معاملہ نہیں تھا بلکہ اپنی خراب کارکردگی کو بھلانے کی کوشش تھی۔ بی جے پی چاہتی تھی کہ پچھلے تین سالوں میں اس کی نا اہلی کو بھول کر لوگ صرف سوشانت کی یاد میں اسے پھر سے کامیاب کر دیں کیونکہ اس کی خودکشی کا پردہ فاش کرنے والے تینوں ادارے مرکز کی بی جے پی سرکار کے تحت کام کر رہے تھے۔ اس معاملے میں رنگ و روغن ڈالنے کے لیے پہلے ریا چکرورتی کو گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا اور پھر منشیات کے الزام میں ان ساری اداکاراؤں کو پریشان کیا گیا جنہوں نے جے این یو میں یا سی اے اے کی تحریک میں حکومت کی مخالفت کی تھی۔ ان من گھڑت کہانیوں سے قطع نظر سشانت سنگھ کی خودکشی پر ثروت حسین کا یہ شعر یاد آتا ہے؎
موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروتؔ
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خودکشی کے بارے میں
ان افسانوں کو طول دینے کے لیے وائی پلس سیکیورٹی فراہم کرکے کنگنا رناوت کو میدان میں اتارا گیا لیکن بہت جلد سرکار دربار کو احساس ہوگیا کہ کنگنا کی بد زبانی فائدہ سے زیادہ نقصان کرنے لگی ہے تو اسے خاموش کر دیا گیا۔ کنگنا اور سوشانت ٹیلی ویژن پر بڑے شہروں کے لوگوں کی تفریح کا سامان کرتے رہے لیکن بہار کے عام لوگوں کی دلچسپی اس میں کم ہوتی چلی گئی تو معاملے کو لپیٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ساری ایجنسیاں چونکہ حکومت کے اشارے پر کام کرتی ہیں اس لیے یہ دو ماہ تک تعمیر ہونے والی عمارت دو دن کے اندر دھڑام سے زمین بوس کردی گئی۔ پہلے پوسٹ مارٹم کی روشنی میں ایمس نے خودکشی کی تصدیق کی اور اسی کے ساتھ بنک اکاؤنٹس کی فورنسک رپورٹ آئی تو پتہ چلا سوشانت نے اپنی 70 کروڑ کی دولت میں سے صرف 55 لاکھ ریا پر خرچ کیے تھے جو ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ این سی بی نے بھی اعلان کردیا کہ گواہوں کے مطابق ریا سے رابطے میں آنے سے پہلے سوشانت منشیات کا عادی تھا اس لیے ریا چکرورتی کی چند شرائط کے ساتھ ضمانت ہو گئی اور اب ایجنسیوں نے سوشانت کو خودکشی پر مجبور کرنے کی وجوہات پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ اس طرح سشانت سنگھ کی خودکشی کا بلبلہ سطح آب پر آکر پھوٹ گیا اور سارا معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا۔ اس میں شک نہیں کہ حکومت سوشانت کی خودکشی کو بہار کے انتخاب میں نہیں بھنا سکی لیکن اس کے سبب کورونا وائرس سے نمٹنے میں سرکاری نا اہلی پر پردہ ضرور پڑ گیا اور عوامی مشکلات کو سلجھانے میں حکومت کی ناکامی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ وہ بھی ایک بہت بڑا فائدہ تھا۔
سشانت سنگھ کی خودکشی کا معاملہ ابھی پوری طرح ٹھنڈا بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک اور خودکشی کی واردات ذرائع ابلاغ میں آئی۔ یہ سابق سی بی آئی ڈائریکٹر اشونی کمار کا سانحہ تھا۔ اشونی کمار نے اپنی رہائش گاہ پر بالکل سشانت سنگھ راجپوت کی مانند پھندا لگا کر خود کو ہلاک کر لیا۔ شملہ کے براک ہاسٹ میں اپنے گھر کے اندر ان کی لاش لٹکی ہوئی ملی۔ سی بی آئی کے سربراہ کی حیثیت سے سبکدوش ہونے والے اشونی کمار ناگالینڈ کے گورنر بھی تھے۔ پولیس کو جائے وقوع سے ایک خودکشی نوٹ ملا جس میں لکھا ہوا ہے کہ ”زندگی سے تنگ آ کر اگلے سفر پر نکل رہا ہوں“ سابق آئی پی ایس افسر کی خودکشی نے ہر کسی کو حیران و ششدر کردیا ہے۔ اس خودکشی کے واقعہ کی جانچ شملہ کے ایس پی موہت چاؤلہ کی قیادت میں پولیس ٹیم کے حوالے کردی گئی ہے۔
یہ عجیب معاملہ ہے کہ سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی پر زمین آسمان ایک کر دینے والے میڈیا نے سابق سی بی آئی ڈائرکٹر کی خودکشی کو یکسر نظر انداز کردیا۔ اشونی کمار نے یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا؟ کن لوگوں نے اس پر مجبور کیا اس کا پتہ لگایا جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہ کرنے کی دو وجوہات ہیں۔ اول تو یہ کہ وہ کانگریس کے اسی طرح قریبی تھے جیسے موجودہ سی بی آئی چیف رشی کمار شکلا بی جے پی سے ہیں اور دوسرے امیت شاہ کو جیل بھیجنے کا سہرا انھیں کے سر تھا۔ اس لیے اگر اس کی کھوج بین کی جاتی تو شک کی سوئی وزیر داخلہ کی جانب بھی مڑ سکتی تھی۔ وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والا ادارہ سی بی آئی ایسی جرأت کیوں کر کرسکتا ہے؟ اس لیے ان کی موت پر صدر مملکت اور سونیا گاندھی کے علاوہ کسی بی جے پی رہنما نے تعزیت بھی نہیں کی۔ اشونی کمار کے معاملہ کو جس طرح انفرادی مایوسی کا سبب بنا کر سلجھا دیا گیا وہی ممبئی کی پولیس سشانت کی خودکشی پر تحقیقات کر رہی تھی لیکن جہاں ایک طرف ہماچل پولیس کے موقف کو پس وپیش کے بغیر قبول کرلیا گیا وہیں سشانت کی خودکشی پر مذموم سیاست کی گئی۔ سشانت سنگھ راجپوت اور اشونی کمار جیسے آسودہ حال لوگوں کی خودکشی پر عارف شفیق کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
غریب شہر تو فاقے سے مر گیا عارفؔ
امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی
اشونی کمار کی موت کے 4 دن بعد کشمیر کے ضلع کپوارہ میں تعینات سرحدی اسلحہ بردار دستے کے ایک جوان امیت کمار نے مبینہ طور پر گولی چلا کر خودکشی کر لی۔ خود کشی کا یہ واقعہ ولگام ہندوارہ میں واقع ایس ایس بی کیمپ میں 11؍ اکتوبر کی شب پیش آیا۔ جموں و کشمیر میں ہندوستانی فوج یا پیرا ملٹری فورسز کے اکتوبر میں محض 12 دنوں کے دوران پانچ اہلکاروں نے خود کو ہلاک کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ہے۔ پولیس نے مذکورہ معاملات میں کیس درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے لیکن اس میں نہ تو سرکار نے کوئی خاص دلچسپی لی اور نہ اس کے وفادار میڈیا نے توجہ دی۔ کیا ایک مختصر سے عرصے میں پانچ جوانوں کا خودکشی کرلینا سشانت سنگھ راجپوت سے کم اہمیت کا حامل ہے؟ ہرگز نہیں! لیکن اس پر مباحثہ کرنے سے حکومت کا سیاسی فائد ہ نہیں بلکہ نقصان کا اندیشہ تھا اس لیے آنکھیں موند لی گئیں۔ یہ جوان اگر کسی دھماکے میں ہلاک ہو جاتے تو میڈیا میں قیامت برپا ہوجاتی۔ کشمیر میں دفعہ 370 کو ختم کرتے وقت ایوان پارلیمان میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے جو بلند بانگ دعویٰ کیا تھا اور ذرائع ابلاغ نے اس کا جس طرح جشن منایا تھا اس کے تناظر میں دیانت داری کا تقاضہ ہے کہ امیت کمار کی موت کا ماتم منایا جائے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سخت ڈیوٹی، اپنے عزیز و اقارب سے دوری اور گھریلو و ذاتی پریشانیاں ہیں۔ حکومت کی جانب سے سیکورٹی اہلکاروں کے لیے یوگا اور دیگر نفسیاتی ورزشوں کو لازمی قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود جموں و کشمیر میں جوانوں کی خودکشی کے واقعات میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سال 2010 سے2019 تک ملک میں 1113 فوجی اہلکاروں کی خودکشی کے واقعات درج کیے گئے ہیں۔ وزیر مملکت برائے دفاعی امور شریپد نائیک نے گزشتہ برس دسمبر میں ایوانِ زیریں کے اندر بتایا تھا کہ خودکشی کرنے والوں میں بری فوج کے891، فضائیہ کے182؍ اور بحری فوج کے40 ؍اہلکار شامل تھے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ ان میں سب سے زیادہ معاملات جموں و کشمیر میں درج ہوئے ہوں گے اس لیے کہ اکثر وہیں سے ایسی خبریں آتی ہیں۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ملک کی حکومت، ذرائع ابلاغ اور عوام کو سشانت سنگھ راجپوت جیسے اداکار کی خودکشی کو زیادہ سنجیدگی سے لینا چاہیے یا اپنے فوجی جوانوں کے لیے فکرمند ہونا چاہیے؟ حزن و ملال کے شکار ان فوجیوں کی حالت زار عادل منصوری کے اس شعر کی مصداق ہے کہ ؎
کوئی خودکشی کی طرف چل دیا
اداسی کی محنت ٹھکانے لگی
***

این سی آر بی کی طرف سے جاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اوسطاً 381افراد نے روزانہ یا ہر چارمنٹ میں ایک شخص نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ہے

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 25 اکتوبر تا 3 نومبر، 2020