ہاتھرس سانحہ:دلت سماج کی نظر سے

’’اعلیٰ ذات کے صرف چار افراد نے نہیں،سارے سسٹم نے عصمت ریزی کی‘‘

ابھے کمار،دلی

 

ہاتھرس اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کے خلاف پورے بھارت میں احتجاج ہو رہا ہے۔ مقتول دلت لڑکی کے خاندان والوں کا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں اس پورے معاملے کی جانچ کرائی جائے۔ 19 سالہ دلت لڑکی کے خاندان والے یہ نہیں چاہتے کہ تفتیش کی ذمہ داری سی بی آئی کے سپرد کی جائے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ دلت سماج کا اعتماد پولیس، انتظامیہ اور ریاستی حکومت کے تئیں کافی کم یا ختم ہو گیا ہے؟ دلت سماج اپنے خواتین کے اوپر ہونے والے حملوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟ دلت یا پھر دیگر محروم طبقات کی خواتین ہی کیوں سب سے زیادہ جنسی تشدد کا شکار ہوئی ہیں؟ آخر کیوں ان کے خلاف عصمت ریزی کی وارداتیں رکنے کا نام نہیں لے رہی ہیں؟
ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے کے لیے راقم الحروف نے دلت سماج سے تعلق رکھنے والی چند خواتین سے بات کی۔ ڈر اور خوف کا عالم یہ ہے کہ بہت ساری خواتین اپنا نام اخبار میں ظاہر کرنے سے بھی کترا رہی تھی۔ جس طرح سے اتر پردیش کی بی جے پی سرکار نے پولیس کو آگے کر کے عوام کی آواز دبانے کی کوشش کی وہ تاناشاہی سے کم نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہیں تو اتر پریش کی یوگی سرکار پولیس کے بل پر چل رہی ہے۔ اسی وجہ سے بہت ساری دلت لڑکیاں اس پورے معاملہ پر اپنی بات تو رکھنا چاہتی ہیں مگر وہ یہ نہیں چاہتیں کہ ان کا نام، ٹھکانہ، پیشہ یا تصویر اخبار میں شائع کیا جائے۔ اس مضمون میں ہم چار دلت خواتین کی رائے شامل کر رہے ہیں، جنہوں نے پورے معاملے کو امبیڈکاری نظریہ سے دیکھا ہے۔ اتر پریش کے اُناو ضلع کی ایک دلت طالبہ نے جو دلی میں واقع ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہی ہیں، اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ان کو اس بات کا دُکھ ہے کہ ’’نربھیا کیس میں تمام کمیونیٹی کے لوگ سڑک پر نکل آئے تھے، مگر اب وہی معاملہ ایک دلت لڑکی کے ساتھ پیش آیا ہے تو صرف نچلے طبقے کے لوگ اور کچھ دانشور ہی آواز بلند کر رہے ہیں۔‘‘
اناو کی اس طالبہ کا کہنا یہ ہے کہ ’’ذات کی وجہ سے دلت کے ساتھ برابری کا سلوک نہیں کیا جاتا ہے۔ اگر غیر دلت خاتون، خاص کر اعلیٰ ذات پر حملہ ہوتا ہے تو اس کی مذمت سب کرتے ہیں اور میڈیا اور سیاست میں یہ ایک بڑا ایشو بن کر ابھرتا ہے مگر جب وہی ستم کسی دلت کے اوپر ڈھایا جاتا ہے تو اس پر لوگ کُھل کر نہیں بولتے‘‘۔
ذات پات نے عوام کو اس طرح سے بانٹ رکھا ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کو انسان نہیں سمجھتا ہے۔ تبھی تو گزشتہ دنوں ہاتھرس کے اعلیٰ ذات کے ہندوؤں نے ملزمین کی حمایت میں ’مہا پنچایت‘ بلائی۔ سب سے شرمناک بات یہ ہے کہ دلت لڑکی کو انصاف دلانے کے بجائے، بی جے پی کے لیڈران حملہ کرنے والوں کے ساتھ کھڑے نظر آ رہےہیں، جو ان کے ’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ‘ کے کھوکھلے نعروں کی پول کھول دیتا ہے۔مثال کے طور پر بی جے پی کے ایک مقامی سابق ایم ایل اے راجویر سنگھ کے گھرپر ایک بڑی پنچایت کا انعقاد کیا گیا اور سر عام یہ کہا کہ گینگ ریپ میں جیل بھیجے گئے سارے ملزمین بے گناہ ہیں (ہندوستان، 4 اکتوبر)
اُناو کی طالبہ کا یہ بھی الزام ہے کہ مقتول دلت لڑکی کا علاج صحیح طریقے سے نہیں کیا گیا، وہیں دوسری طرف اس کی لاش کو پولیس والوں نے رات کے اندھیرے میں خاموشی کے ساتھ جلا دیا۔ آخر کیوں لڑکی کو علاج مہیا کرانے میں حکومت اور انتظامیہ نے سستی دکھائی جبکہ اس کی لاش کو جلانے میں انہوں نے بجلی جیسی پھرتی دکھلائی؟ آخر مقتول دلت لڑکی کے خاندان والوں کو اس کی لاش کیوں نہیں سپرد کی گئی؟ کیا لاش کو جلا دینے کے پیچھے سارے ثبوت جلا دینے کا ارادہ تھا؟
ہاتھرس گینگ ریپ کیس کو دیکھ کر کوئی بھی کھلے ذہن کا انسان یہ بات بات صاف طور کہہ سکتا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے روز اول سے ہی لاپروائی برتی تھی اور دلت کی بیٹی کو انصاف نہ دینے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ چاہے معاملہ ایف آئی آر درج کرنےکا ہو، یا پھر اسے وقت پر اسپتال پہنچانے کا ہو یا پھر کیس میں الجھن پیدا کرنے کا ہو، اسے انصاف سے دور رکھنے کے لیے سب کچھ کیا گیا۔
اس دردناک کیس کی شروعات 14 ستمبر کے روز ہوئی، جب ہاتھرس کی ایک دلت لڑکی کو بھول گرہی گاؤں کے ایک کھیت میں اعلیٰ ذاتوں کے لڑکوں نے مبینہ طور پر عصمت دری کردی۔ باور یہ کیا جارہا ہے کہ دلت لڑکی اور اس کی ماں گھاس کاٹنے کے لیے کھیت میں گئی تھیں۔ مذکورہ کھیت اعلیٰ ذات والوں کی ملکیت ہے۔ لڑکی گھاس کاٹنے کے لیے اپنی ماں سے کچھ دور چلی گئی۔کچھ دیر بعد دلت لڑکی کی ماں کو اپنی بیٹی کی چیخ پکار سنائی دی۔ جب وہ دوڑ کر وہاں گئی تو پایا کہ ان کی بیٹی خون میں لت پت تھی اور اس کی زبان بھی کاٹ لی گئی تھی۔
بعد میں اس معاملہ کو مقامی پولیس تھانہ میں لے جایا گیا۔ دلت لڑکی نے بھی پولیس تھانہ پہنچ کر شکایت درج کرائی۔ بعد میں دلت لڑکی کو مقامی اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹر نے بتلایا کہ یہ معاملہ سنگین ہے۔ اس کے بعد دلت لڑکی کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جے این میڈکل کالج لے جایا گیا۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ دلت لڑکی کو علی گڑھ اسپتال میں شام کے وقت داخل کیا گیا جبکہ اس کے اوپر حملہ صبح کے وقت ہوا تھا۔ خیال رہے کہ جائے واردات، ہاتھرس سے علی گڑھ کی دوری صرٖف دو گھنٹوں کی ہے پھر بھی اتنی تاخیر کی گئی۔ شاید دلت لڑکی کو وقت پر اسپتال پہنچا دیا جاتا تو اس کی جان بچ سکتی تھی۔ انہیں سوالوں کے بارے میں اُناو کی طالبہ اشارہ کر رہی تھی کہ اس کا علاج ٹھیک سے نہیں ہوا۔پھر علی گڑھ اسپتال میں داخل دلت لڑکی کی حالت خراب ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ 19 ستمبر کے روز اس نے اپنا بیان درج کرایا اور دوحملہ آوروں کا نام لیا، جن میں کوئی سندیپ بھی شامل ہے۔ اس بیان میں دلت لڑکی نے چھیڑچھاڑ کی بھی بات کہی تھی۔ اس بیان کی بنیاد پر پولیس نے دفعہ 307 اور 354 جو کہ جان سے مارنے کی کوشش اور چھیڑ چھاڑ سے متعلق ہے، کے تحت حملہ آوروں کے اوپر کیس درج کیا اور سندیپ کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ 21 اور 22 اکتوبر کو متاثرہ دلت لڑکی نے مجسٹریٹ کی سامنے سندیپ کے علاوہ 3 اورحملہ آوروں لوکُش، روی اور راموکا نام لیا۔ دلت لڑکی نے ان کے خلاف جنسی تشدد کا بھی الزام لگایا۔ غور طلب ہے کہ یہ متاثرہ لڑکی کا آخری بیان تھا۔ بعد میں پولیس نے گینگ ریپ کے ساتھ جان سے مارنے کا مقدمہ درج کیا مگر معاملہ کو پیچ میں الجھانے اور حملہ آوروں کو بچانے کی کوشش پولیس اور انتطامیہ کی طرف سے ہونی شروع ہوئی۔ مثال کے طور پر ہاتھرس کے ایس پی نے یہ بیان دیا کہ جنسی تشدد کے کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں وہیں دوسری طرف علی گڑھ کے جین این اسپتال کے ڈاکٹروں کی رپورٹ نے متاثرہ کے اوپر جسمانی حملے کے نشان ہونے کی بات قبول کی۔ مگر کیا اس کے ساتھ زبردستی عصمت دری کی گئی، اس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ صرف فارنسک ٹیسٹ سے ہی سامنے آسکتے ہیں۔ اس دوران تین دیگر ملزمین کو گرفتار کیا گیا۔ 28 تاریخ کو دلت لڑکی کی حالت بہت خراب ہونے لگی۔ پھر اسے دہلی کے صفدر جنگ اسپتال لے جایا گیا۔ اگلے روز یعنی 29 ستمبر کو دلت لڑکی کا انتقال ہوگیا (انڈیا ٹوڈے، 5اکتوبر)۔
صحافی مینا کوتوال ہاتھرس معاملے کو بڑی قریب سے دیکھ رہی ہیں اور اس کے اوپر جم کر لکھ اور بول بھی رہی ہیں۔ انہوں نے ہفت روزہ دعوت سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت دن سےچندر شیکھر راون کی قیادت والی ’بھیم آرمی‘ کے رابطہ میں رہی تھی۔ مینا کوتوال، جن کا تعلق راجستھان کے ایک دلت سماج سے ہے، کہتی ہیں کہ اگر ہاتھرس گینگ ریپ میں انصاف پانا ہے اور اس طرح کے آنے والے حملوں کو روکنا ہے تو لوگوں کو بڑی تعداد میں سامنے آنا ہوگا اور مل کر احتجاج کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سارے امبیڈکر نظریہ کے حامل تنظیموں کو ایک ساتھ آنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ اعلیٰ ذات کے وہ لوگ جو امبیڈکر کے نظریہ کو مانتے ہیں، ان کو بھی اس اتحاد میں شامل ہونا چاہیے۔
متاثرہ دلت لڑکی کی موت کے بعد اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مینا کوتوال کہتی ہیں کہ ’’ان (حملہ آوروں) کے ساتھ صرف چار اعلیٰ ذات کے لوگوں نے نہیں بلکہ کئی اعلیٰ ذات کے لوگوں اور حکام نے عصمت دری کی ہے۔ سسٹم نے گینگ ریپ کیا تھا۔ نچلی ذات میں جنم لینے کی قیمت چکانی پڑی‘‘۔ (’دی وائر‘، ہندی، یکم اکتوبر)۔ سسٹم پر کم ہوتے ہوئے اعتماد کی ایک بڑی وجہ یہ ہےکہ یہ نظام اعلیٰ ذات کے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جن کے دلوں میں دلتوں کے تئیں ہمدردی نہیں ہے تبھی تو مینا کوتوال کہتی ہیں کہ اب دلت خواتین کو برہمنی مرد بالادستی کے خلاف متحد ہو جانا چاہیے۔ وہ ایک کام جو پھولن دیوی نے کر دکھلایا تھا وہ کام ہر خاتون کو کرنا چاہیے اسے اب سسٹم سے کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ انہوں (پھولن دیوی) نے آخر میں تنگ آ کر فیصلہ کیا تھا کہ برہمنی اور ذات پات پر مبنی مرد بالا دستی کے حملوں کا واجب جواب دینا چاہیے۔
چنٹو کماری بہار میں واقع بکرم گنج (روہتاس) کے اے ایس کالچ میں سیاسیات کی پروفیسر ہیں۔ وہ بھی دلت سماج سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کی پی ایچ ڈی بھوجپور (بہار) کے محکوم طبقات کے کلچر سے وابستہ ہے۔ چنٹوں کماری بھی ہاتھرس کی عصمت دری کو جاگیر دارانہ برہمنی نظام سے جوڑ کر دیکھتی ہیں۔ انہوں نے یہ صاف طور سے کہا کہ یہ عصمت دری کوئی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کا معاملہ نہیں ہے جہاں کچھ مردوں نے عورتوں کو دیکھا اور ان کے ساتھ زور زبردستی کر لی ’’یہ معاملہ صرف ہاتھرس کا ہی نہیں ہے، بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں دلت خواتیں پر حملے ہو رہے ہیں۔ ان سب کے پیچھے جو بڑی وجہ ہے وہ ذات پات پر مبنی نظام ہے۔ یہ سب کچھ ایک جاگیردارنہ برہمنی سسٹم کی پیداوار ہے۔ دلت خواتین پر حملے اس لیے کیے جاتے ہیں تاکہ ان کو یہ بتلا دیا جائے کہ اگر انہوں نے ذات پات پر مبنی سماج کے خلاف جانے کی جرأت کی اور اپنے حقوق کے لیے ان کی مخالفت کی تو ان کے ساتھ ہر طرح کے ظلم روا رکھے جائیں گے۔ عصمت ریزی کے ذریعہ اعلیٰ ذات کے لوگ دلتوں کو بار بار یہ یاد دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنی حدود میں رہیں اور اعلیٰ ذاتوں کے ماتحت بنے رہیں تبھی تو عصمت دری کے بعد لڑکی کا باقاعدہ ویڈیو بنایا جاتا ہے اور اس کو پھیلایا جاتا ہے۔ عصمت دری کے بعد لڑکی کو مار کر اس کی لاش درخت پر اس لیے لٹکائی جاتی ہے تاکہ سارےدلت سماج کو یہ سبق دیا جا سکے کہ ان کی زندگی اعلیٰ ذاتوں کی خدمت کے لیے ہے۔ اس لیے عصمت دری کا معاملہ برہمنی نظام کا حصہ ہے اور اعلیٰ ذات کے لوگ حیوانیت انجام دے کر اپنی طاقت اور اپنی بالادستی کو دوسروں پر تھوپنا چاہتے ہیں‘‘۔ چنٹو کماری نے یہ بھی کہا کہ پولیس، انتظامیہ، حکومت اور ریاست ان سارے حملوں میں ملوث ہیں۔ ’’اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ معاملے پیش نہیں آتے اور اگر آتے بھی تو حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے۔ ہاتھرس کیس میں بھی یہ بات پھر سے ثابت ہوئی ہے کہ دلت خواتین کے اوپر ہو رہے حملوں میں سسٹم کی خاموش تائید شامل ہے‘‘۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس کا حل کیا ہے تو ان کا جواب تھا کہ اس طرح کی وارداتیں ایک دن میں ختم نہیں ہو سکتیں بلکہ اس کے لیے ایک لمبی لڑائی لڑنے کی ضرورت ہے۔
رہنا رویندرن نے جے این یو سے بین الاقوامی امور میں پی ایچ ڈی کی ہے اور ابھی دلی یونیورسٹی میں پڑھا رہی ہیں۔ ان کا تعلق بھی کیرالا کے ایک دلت خاندان سے ہے۔ وہ بھی ہاتھرس کیس کو دیکھ کر کافی مایوس ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ برہمنی نظام کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ’’یہ معاملہ صرف خواتین کے اوپر حملے تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے بلکہ اس کے تار ’کاسٹ سسٹم‘ سے جڑے ہیں۔ اس لیے جب تک ریپ کے معاملوں کو ذات پات پر مبنی نظام سے جوڑ کر نہیں دیکھا جائےگا، تب تک اس طرح کی وارداتیں ختم نہیں ہوں گی‘‘۔بابا صاحب امبیڈکر نے بھی ذات پات پر مبنی سماج کو خواتین کے اوپر ہو رہے تشدد سے جوڑ کر دیکھا تھا۔ ان کا اہک اہم مضمون ’’دی رائز اینڈ فال آف دی ہندو وومن‘‘ ان کے کللیکٹیڈ والیوم 19 میں شامل کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں امبیڈکر لکھتے ہیں کہ برہمنی نظام میں خواتین کو تعلیم سے دور رکھا گیا ہے۔ یہی نہیں عورتوں کو ہندوؤں کی مذہبی کتاب وید پڑھنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ امبیڈکر نے منو دھرم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں خواتین کو برابری نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منو کے زمانے سے پہلے ہندو عورتوں کی حالت اتنی خراب نہیں تھی، مگر منو نے جو بدھ کے بعد پیدا ہوئے، عورتوں کے بارے میں بہت سارے غیر مساوی قانون بنا ڈالے اور ان کے بارے میں بہت ساری غلط فہمیاں پیدا کر دیں۔ مثال کے طور پر منوسمرتی کا حوالہ دیتے ہوئے امبیڈکر نے کہا کہ اس میں عورتوں کے بارے میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ وہ مردوں پر ڈورے ڈالتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ عورتوں کو غلام کی طرح ملکیت سے بھی محروم کر دیا گیا اور منو نے عورتوں کی پٹائی کو بھی جائز قرار دیا ہے۔ مطلب یہ کہ منو دھرم، ذات پات پر مبنی سماج اور خواتین کی بدحالی آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔
(ابھے کمار جے این یو سے پی ایچ ڈی ہیں۔ وہ اقلیتی حقوق اور سماجی انصاف سے
متعلق امور پر لکھتے ہیں۔)
debatingissues@gmail.com
***

عصمت دری کے بعد لڑکی کو مار کر اس کی لاش درخت پر اس لیے لٹکائی جاتی ہے تاکہ سارےدلت سماج کو یہ سبق دیا جا سکے کہ ان کی زندگی اعلیٰ ذاتوں کی خدمت کے لیے ہے۔ اس لیے عصمت دری کا معاملہ برہمنی نظام کا حصہ ہے اور اعلیٰ ذات کے لوگ حیوانیت انجام دے کر اپنی طاقت اور اپنی بالادستی کو دوسروں پر تھوپنا چاہتے ہیں۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 18-24 اکتوبر، 2020