این آئی اے نے ذاکر نائک پر بنگلہ دیش کے سیاست دان سے وابستہ ’’لَو جہاد‘‘ کیس میں الزام عائد کیا

نئی دہلی / چنئی: قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے اسلام پسند مبلغ ذاکر نائک اور پاکستان کے دو مبلغین کو ایک ہائی پروفائل ’’لَو جہاد‘‘کیس سے متعلق ایف آئی آر میں نام زد کیا ہے۔

اس ہائی پروفائل کیس میں چنئی کے ایک بزنس مین کی بیٹی اور بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاستدان کا بیٹا شامل ہیں۔

این آئی اے لندن میں ہندوستانی تاجر کی بیٹی اور بنگلہ دیش کے سیاستدان کے بیٹے کی شادی کی تحقیقات کررہی ہے۔ ذاکر نائک، جو ہندوستانی ایجنسیوں کو مطلوب ہیں، نیز امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد مبلغین اس کیس میں ملزم نام زد کیے گئے ہیں۔

اس لڑکی کے والد نے ابتدائی طور پر مئی میں چنئی سنٹرل کرائم برانچ میں شکایت درج کروائی تھی، جس میں اس نے الزام لگایا تھا کہ لندن میں تعلیم حاصل کرنے والی ان کی بیٹی کو بنیاد پرستی کا شکار بنیایا گیا ہے اور اسے زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔

یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ اس کی بیٹی کو لندن سے اغوا کیا گیا تھا اور کچھ بنگلہ دیشیوں کے ذریعے  اسے بنگلہ دیش لے جایا گیا۔

 

’’اس معاملے میں بیرونی ممالک کی تحقیقات  بھی شامل ہیں۔اور اسی وجہ سے یہ معاملہ قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کے سپرد کردیا گیا ہے۔‘‘  پولیس کے کمشنر مہیش کمار اگروال نے آئی این ایس کو بتایا۔ انھوں نے کہا کہ اس کیس کے بارے میں مزید تفصیلات بتانا ممکن نہیں ہے۔

این آئی اے کی ایف آئی آر میں ذاکر نائک کے علاوہ یاسر قاضی اور نعمان علی خان  کے نام شامل ہیں، دونوں امریکہ میں مقیم اسلامی مبلغ ہیں۔