حرمت والے مہینے فضائل و احکام

ظفر احمد خان ندوی ، سعودی عرب

اللہ رب العزت نے جس طرح بعض چیزوں کو بعض پر فضیلت دی ہے، اسی طرح سال کے بارہ مہینوں میں سے چار مہینوں کو حرمت والے قرار دیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے ’’بے شک اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جس دن سے اللہ نے زمین اور آسمان پیدا کیے، ان میں سے چار عزت والے ہیں، یہی سیدھا دین ہے، سو ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو، اور تم سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔(التوبہ:36)۔ حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالی نے چار مہینوں کو حرمت و احترام کے ساتھ خاص کر رکھا ہے، ان کی حرمت کو بڑھا دیا ہے، ان میں گناہ کےکام کو بڑا جرم اور نیکی کے کام کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے، اس آیت مبارکہ سے اس مہینہ کا دوسرا اہم کام یہ معلوم ہوا کہ مسلمان آپسی اتفاق و اتحاد پر توجہ دیں اور جس طرح دیگر قومیں ان کے خلاف متحد ہیں انہیں بھی چاہیے کہ ان کے مقابلہ کے لیے متحد ہوجائیں۔ آیت مبارکہ کے آخری حصے میں ایک اور بڑے اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی گئی کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے خوف اور تقویٰ کو لازم پکڑیں کیونکہ تقویٰ وہ اہم نیکی ہے جس کی وجہ سے بندے کو اللہ کی مدد اور اس کی معیت حاصل ہوتی ہے۔
حرمت والے مہینے:
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمانہ اپنی اصل حالت پر گھوم کر آ گیا ہے؛ اس دن کی طرح جب اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا. دیکھو! سال کے بارہ مہینے ہوتے ہیں: چار ان میں سے حرمت والے مہینے ہیں. تین لگا تار ہیں: ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور چوتھا رجب۔ پھر آپ نے دریافت فرمایا یہ کون سادن ہے؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو بہتر علم ہے. اس پر آپ خاموش ہو گئے. ہم نے سمجھا شاید آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے. لیکن آپ نے فرمایا: کیا یہ یوم النحر(قربانی کا دن) نہیں ہے؟ ہم بولے کیوں نہیں. پھر دریافت فرمایا اور یہ مہینہ کون سا ہے؟ ہم بولے کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ بہتر علم ہے۔ پھر آپ خاموش ہو گئے. ہم نے سمجھا شاید آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ نے فرمایا: کیا یہ بلد حرام (مکہ) نہیں ہے؟ ہم بولے کیوں نہیں (یہ مکہ ہی ہے) پھر آپ نے دریافت فرمایا اور یہ دن کون سا ہے؟ ہم بولے کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ بہتر علم ہے، پھر آپ خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا شاید اس کا آپ اس کے مشہور نام کے سوا کوئی اور نام رکھیں گے، اس کے بعد آپ نے فرمایا: پس تمہارا خون اور تمہارا مال، محمد (راوی حدیث) نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا، اور تمہاری عزت تم پر اسی طرح حرام ہے جس طرح اس دن کی، تمہارے اس شہر اور تمہارے اس مہینے میں حرمت ہے اور تم بہت جلد اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔ خبردار! میرے بعد تم گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ ہاں اور جو یہاں موجود ہیں وہ ان لوگوں کو پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں، ہو سکتا ہے کہ جسے وہ پہنچائیں ان میں سے کوئی ایسا بھی ہو جو یہاں بعض سننے والوں سے زیادہ اس کو یاد رکھ سکتا ہو۔ محمد بن سیرین جب اس حدیث کا ذکر کرتے تو فرماتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، پھر آپ نے فرمایا کہ تو کیا میں نے پہنچا دیا؟ پھر آپ نے دو مرتبہ یہ جملہ ارشاد فرمایا۔
ان مہینوں کی عظمت و برتری اسلام کے آغاز سے پہلے بھی تھی اور اسلام سے پہلے دوسری آسمانی مذاہب میں تسلیم کی گئی تھی، یہاں تک کہ مکہ کے مشرکین کفر و شرک کی حالت میں بھی ان مہینوں کی عظمت و فضیلت کے قائل تھے۔ اسلام کے آغاز تک ان مہینوں میں جہاد و قتال بھی منع تھا اور ساتھ ہی ان مہینوں میں عبادات و اتحاد کی خاص فضیلت رکھی گئی تھی۔ اور اب بھی ان مہینوں میں عبادت کی فضیلت برقرار ہے۔ لہٰذا جو شخص ان مہینوں میں عبادت و اطاعت کرتا ہے وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں خاص فضیلت و اہمیت کی شان رکھتی ہے.
حرمت کا مطلب:
حرمت سے مراد کسی چیز کو محترم کر دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو محترم قرار دیا ہے انہیں شعائر اللہ بھی کہتے ہیں۔ حرمت والے ان چار مہینوں کی فضیلت سال بھر کے دوسرے مہینوں پر فوقیت رکھتی ہے سوائے رمضان کے کیوں کہ رمضان ماہ صیام بھی ہے اور نزول قرآن کا مہینہ بھی ہے۔ کسی چیز کے احترام کے آداب کا تعین بھی خود اللہ تعالی نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ چناں چہ نماز محترم ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ اس کے آداب اور شرائط کا خیال رکھا جائے اس کا برے الفاظ میں اور نفرت و تحقیر کے انداز کی بجائے بڑی محبت عزت اور دلی رغبت کے ساتھ اس کا اہتمام اور اس کا ذکر کیا جائے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ائے ایمان والو! اللہ کے شعائر کی بے حرمتی نہ کرو نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ پٹّے والے جانوروں کی اور نہ ہی ان لوگوں کو تنگ کرو جو بیت اللہ کی طرف اپنے رب کی رضا اور فضل کی تلاش میں جا رہے ہیں۔ اس آیت میں حج و عمرہ کے متعلق پانچ چیزوں کا نام لے کر ان کے حرمت قائم رکھنے کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔ شعائر اللہ، حرمت والے مہینے، قربانی کے وہ جانور جن کے گلے میں ایسی علامت لگادی گئی ہو جس سے معلوم ہوتا ہو کہ یہ جانور اللہ کے گھر کی طرف قربانی کے لیے بھیجے جا رہے ہیں جو حج اور عمرہ کی نیت سے بیت اللہ کا سفر کر رہے ہیں۔
ان مہینوں کو حرمت والے قرار دیے جانے کی وجہ:
جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ حرمت والے مہینے چار ہیں تین تو اس میں سے مسلسل ہیں اور ایک الگ ہے، تاکہ حج و عمرہ کے مناسک کو ادا کیا جا سکے۔ حج سے پہلے ایک مہینے یعنی ذی القعدہ کو اس لیے حرمت والا قرار دیا گیا تاکہ وہ اس مہینے میں جنگ و جدال سے باز رہیں۔ ذی الحجہ کو اس لیے حرمت والا مہینہ قرار دیا تاکہ وہ مناسک حج ادا کر سکیں اور اس کے بعد ماہ محرم کو اس لیے حرمت والا قرار دیا تاکہ امن و سکون سے اپنے اپنے علاقوں میں لوٹ جائیں۔ اور سال کے درمیان میں ماہ رجب کو اس لیے حرمت والا قرار دیا تاکہ جزیرۃ العرب کے دور دراز کے علاقوں میں سے آکر اگر کوئی عمره کرنا چاہے تو اس سے فارغ ہو کر اپنے وطن لوٹ جائے۔ ارشاد باری تعالی ہے "یہی سیدھا دین ہے” یعنی یہی شریعت مستقیم ہے کہ اللہ تعالٰی کے حکم کی اطاعت کی جائے اور اس کے مقرر کردہ حرمت والے مہینوں کی حرمت کا پاس و لحاظ کیا جائے اور اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے روز اول سے جو حدود و شرائط مقرر کی ہیں ان کی پابندی کی جائے۔ صاحب معارف القران لکھتے ہیں: ان مہینوں کو حرمت والا دو معنی کے اعتبار سے کہا گیا، ایک تو اس لیے کہ ان میں قتل وقتال حرام ہے، دوسرے اس لیے کہ یہ مہینے متبرک اور واجب الاحترام ہیں کہ ان میں عبادات کا ثواب (دیگر ایام کے بالمقابل) زیادہ ملتا ہے، ان میں سے پہلا حکم تو شریعتِ اسلام میں منسوخ ہوگیا، مگر دوسرا حکم احترام وادب اور ان میں عبادت گزاری کا (خصوصی) اہتمام، اسلام میں بھی باقی ہے۔
نیکیوں کے اجر اور گناہ کی سزا میں اضافہ:
محققین کے مطابق ان مہینوں میں گناہوں سے بطور خاص بچنا اور ترک معاصی کا اہتمام کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا مالک ہے اور اوقات و ایام بھی اس کی ملکیت ہیں۔ اس نے جس طرح بعض ایام کو یہ خاصیت بخشی ہے کہ ان میں نیکی کا اجر و ثواب بڑھا دیا جاتا ہے جیسے عشرہ ذی الحجہ، رمضان المبارک، یوم عاشور وغیرہ۔ اسی طرح اس کا فیصلہ ہے کہ بعض ایام میں گناہوں کے وبال اور شناعت کو بھی بڑھا دیا ہے۔ جس طرح بندے فضیلت والے ایام میں نیکیوں پر کمر بستہ ہوتے ہیں اور خوب محنت، رغبت اور تن دہی کے ساتھ انہیں کمانے کی فکر کرتے ہیں، اسی طرح انہیں تاکید کی گئی ہے کہ یہ چار مہینے ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں خاص عزت و حرمت والے ہیں ،ان میں اگر کوئی گناہ کیا جائے تو وہ سال کے دیگر ایام کی نسبت اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ بُرا شمار کیا جاتا ہے اور اس پر زیادہ ناراضگی کا خطرہ ہے لہٰذا ان میں خاص محنت کے ساتھ گناہوں سے بچا جائے۔ علامہ قرطبی رحمہ اللہ علیہ نے لکھا ہے:’’تم ان مہینوں میں گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم نہ کرو کیوں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جب ایک جہت سے کسی شئے کو عظیم بنا دیتا ہے تو اس کے لیے ایک حرمت ہو جاتی ہے اور جب وہ اُسے دو جہتوں سے یا کئی جہتوں سے عظیم بنا دے تو پھر اس کی حرمت بھی متعدد ہوتی ہے۔ پس اس میں بُرے عمل کے سبب سزا دو گنا کر دی جاتی ہے اور اسی طرح عمل صالح کے سبب ثواب بھی دو گنا کر دیا جاتا ہے کیوں کہ جس نے حرمت والے مہینے میں بلد حرام میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی تو اس کا ثواب اس آدمی کے ثواب کی مثل نہیں ہوگا جس نے حلال مہینے میں بلد حرام میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے حلال مہینے میں شہر حرام میں اس کی اطاعت کی تو اس کا ثواب بھی اس ثواب کا مثل نہیں ہوگا جس نے حلال مہینے میں بلد حلال میں اس کی اطاعت کی‘‘
تخصیص کی وجہ:
اب سوال یہ ہے کہ ظلم تو مطلقاً حرام ہے پھر یہاں پر ان چار مہنیوں کی تخصیص کی کیا وجہ ہے کہ ان مہینوں میں ظلم نہ کیا جائے؟ تو اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گناہ کرنا کسی وقت اور کسی مقام پر بھی حرام ہے مگر حرم شریف میں اس کا ارتکاب زیادہ سنگین اور دُہری سزا کا موجب ہے۔ اسی طرح عام گلی، بازار میں گناہ کرنے سے مسجد میں گناہ کرنا زیادہ سنگین جرم ہے۔ اس کی ایک مثال سورۃ بقرہ میں یوں آتی ہے: حج کے مہینے معلوم ہیں، پس جو کوئی ان مہینوں میں حج کا احرام باندھ لے پھر وہ نہ کوئی شہوانی بات کرے، نہ گناہ کا ارتکاب کرے اور نہ جھگڑا فساد کرے۔ یہاں بھی یہی بات ہے کہ جھگڑا فساد اور معصیت تو ہر وقت حرام ہے، پھر احرام کی حالت میں اسی کی تخصیص اس لیے کی گئی ہے کہ ان ایام میں گناہ کی سنگینی بڑھ جاتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، حضور! بڑا گناہ کونسا ہے؟ آپ نے فرمایا: بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیراؤ حالانکہ اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ عرض کیا اس کے بعد بڑا گناہ کونسا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: کہ تو اپنے پڑوسی کے گھر پر ڈاکہ ڈالے۔ تو اس کی سنگینی میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے کیوں کہ پڑوسی کا ایک دوسرے پر بڑا حق ہوتا ہے اگر ایک پڑوسی دوسرے کی غیر حاضری سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کی عزت کی حفاظت کی بجائے اسے برباد کرتا ہے تو عام حالات کی نسبت اس کے جرم کو نوعیت بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ حرمت والے مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔
ان مہینوں میں جنگ کی ممانعت:
امام ابن ابو حاتم نے حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو قائد مقرر کیا، جب وہ روانہ ہونے لگے تو وہ آپ کے فراق کی وجہ سے رونے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جگہ پر عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنه كو مقرر کردیا اور انہیں ایک دستاویز لکھ کر دیا اور فرمایا، اس دستاویز کو فلاں مقام پر پہنچنے سے پہلے نہ پڑھنا اور آپ نے یہ بھی فرمایا اپنے ساتھیوں میں سے كسی کو اپنے ساتھ جانے پر مجبور نہ کرنا، جب انہوں نے دستاویز کو پڑھا تو انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھنے لگے اور کہنے لگے کہ اللہ اور اس کے رسول کا فرمان سر آنکھوں پر، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں کو صورت حال سے آگاہ کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھ کر سنایا تو ان میں سے دو آدمی واپس آگئے اور باقی ان کے ساتھ رہ گئے۔ ابن الحضرمی سے ان کی ملاقات ہوئی تو اسے انہوں نے قتل کردیا اور انہیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ دن رجب کا ہے یا جمادی کا۔ مشرکوں نے مسلمانوں سے کہا کہ تم نے تو حرمت والے مہینے میں لڑائی کی ہے تو اس پر اللہ تعالی نے آیت نازل فرمائی "ائے نبی لوگ آپ سے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ ان میں لڑنا بہت بڑا گناہ ہے اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام میں جانے سے روکنا اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے اور فتنہ انگیزی خوں ریزی سے بھی بڑھ کر ہے”(البقرہ:217)۔ یعنی اگر تم نے حرمت والے مہینے میں لڑائی کی ہے تو انہوں نے تمہیں اللہ کے راستے سے روکا اور اس کے ساتھ کفر بھی کیا ہے، نیز انہوں نے تو تمہیں مسجد حرام سے روکا اور اس سے نکالا ہے حالانکہ تم تو مسجد حرام والے ہو اور یہ سب باتیں اس کے قتل سے بڑی ہے جسے تم نے قتل کیا ہے۔ یعنی یہ لوگ تو مسلمانوں کو اس قدر فتنہ انگیزی میں مبتلا کر دیتے تھے کی بعض ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف لوٹ جاتے تھے اور یہ بات اللہ تعالی کے ہاتھ قتل سے بھی بڑھ کر ہے لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے حتیٰ کہ اگر ان کے بس میں ہو تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں۔ یعنی یہ لوگ تو بہت خبیث اور بہت بڑی بات پر قائم ہیں، اس سے توبہ بھی نہیں کرتے اور نہ ہی اس کو ترک کرتے ہیں۔ اس لیے اگر مسلمانوں سے لا علمی میں غلطی ہوگئی تو اس پر واویلا مچانے کا کوئی مطلب نہیں۔ ساتھ ہی اللہ تعالٰی نے یہ بھی اجازت دے دی کہ اگر حرمت والے مہینوں میں کافر مسلمانوں پر حملہ کرنے میں پہل کریں تو مسلمان اپنا بھر پور دفاع کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے "حرمت والے مہینے حرمت والے مہینوں کے بدلے میں ہیں اور حرمت ادلے بدلے کے ہیں جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر اسی طرح کی زیادتی کرو جتنی زیادتی تم پر کی گئی ہے اللہ سے ڈرتے رہا کرو جان لو کہ اللہ تعالی متقیوں کے ساتھ ہے”(البقرہ:194) اس آیت میں مسلمانوں کو اللہ تعالٰی نے حکم دیا کے حرمت والے مہینوں کی حرمت کا خیال رکھیں رشتے کے کافر بھی حرمت کا خیال رکھیں کیونکہ یہ بے حرمتی بدلے ہیں میں ملحوظ رکھی جا سکتی ہیں اگر مقابل علمت کا خیال رکھتے ہوئے تم سے لڑائی پر آمادہ ہو جائے تو تمہیں بھی اپنا دفاع ضرور کرنا چاہیے اور اگر حرمت والے مہینوں كو سامنے رکھتے ہوئے جنگ بندی کردے تو تم بھی جنگ بندی کر دو۔ مختصریہ کی جنگ و جدال اور قتال ان مہینوں میں ہمیشہ کے لیے حرام ہے مگر جب کفار ان مہینوں میں حملے كی ابتدا کریں تو دفاع کے لیے مسلمانوں کو بھی قتال کی اجازت ہے۔ چناں چہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہر حرام میں اس وقت قتال نہ کرتے تھے جب تک كہ قتال کی ابتدا کفار کی طرف سے نہ ہو جائے۔
ان مہینوں میں روزوں کی فضیلت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا صبر یعنی رمضان کے مہینے کے روزے رکھو اور ہر مہینے میں ایک دن کا روزہ رکھ لیا کرو۔ ان صحابی نے عرض کیا کہ مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے لہٰذا میرے لیے اور اضافہ فرما دیجیے آپ نے فرمایا کہ ہر مہینے میں دو دن روزہ رکھ لیا کرو۔ پھر ان صحابی نے عرض کیا کہ میرے لیے اور اضافہ فرما دیجیے کیونکہ مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے آپ نے فرمایا کہ ہر مہینے میں تین دن کا روزہ رکھ لیا کرو۔ پھر ان صحابی نے عرض کیا کہ میرے لیے اور اضافہ فرما دیجیے تو آپ نے فرمایا اشہر حرم یعنی ذوالقعدہ ذوالحجہ محرم اور رجب کے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑو۔ آپ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائیں اور اپنی تین انگلیوں سے اشارہ فرمایا ان کو ساتھ ملا دیا پھر چھوڑ دیا یعنی کہ ان مہینوں میں تین دن روزہ رکھو پھر تین دن نا کرو اور اسی طرح کرتے رہو۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اور مہینوں میں روزوں کے لیے رمضان کے بعد افضل و عظمت والے مہینے ہیں یعنی ذو القعدہ ذی الحجہ محّرم اور رجب کے مہیینے۔ لہذا ان خرمت والے مہینوں میں جس قدر ممکن ہو روزے رکھنے چاہئیں۔
آخری بات: حرمت و عظمت والے ان چار مقدس مہینوں میں ہمیں نفلی نمازوں اور روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے لیکن اگر نہیں کر سکتے تو ذکر، استغفار، توبہ اور صدقہ بھی کرسکتے ہیں جو بالکل خاموشی سے ہو سکتی ہیں لیکن انسان کی روحانی صحت پر بہت خوش گوار اثر ڈالتی ہیں۔ صبح وشام کے فرض اذکار میں فرض نمازوں کے بعد چپکے سے استغفار بڑھا دیں۔ اس کے لیے مصلے پر بیٹھا رہنا ضروی نہیں چلتے پھرتے ہو سکتا ہے، اسی طرح ذکر اللہ کی عبادت عام کاموں کے دوران بھی ہو سکتی ہے۔ نئی دعائیں یاد کر لیں۔ نئی سورتیں حفظ کر لیں اس سے نماز میں تازہ لطف آئے گا، صدقے کے لیے بہت سے پیسے نہیں چاہئیں نہ ہی غریبوں کو ڈھونڈنے جانا ہے۔ صدقہ اپنوں پر سب سے پہلے ہوتا ہے۔ وہ لقمہ جو آدمی اپنے گھروالوں کو کھلاتا ہے وہ بھی صدقہ ہے، لوگوں سے مسکرا کر ملنا بھی صدقہ ہے، اپنے بھائی کی ضرورت پوری کر کے اس کو خوش کر دینا بھی صدقہ ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا بھی صدقہ ہے، لوگوں کی نیکی کی طرف بلانا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ اپنے بچوں اور گھر والوں کو برائی سے روکنا آپ پر فرض ہے ورنہ چھوٹی چھوٹی برائیاں بڑے عفریت بن کر گھروں کے سکون نگل جاتی ہیں۔ گھر میں حلال تفریح کو رواج دیں۔ ناچ گانے کی حرام تفریح کو نکال دیں، لوگوں کے حقوق آپ کے ذمے ہیں تو جلد دے دیں اس سے پہلے کہ موت ہم سے وہ اختیارات ہی چھین لے، ان مہینوں میں گناہوں سے بچنا بھی فرض ہے تو ہم ان گناہوں سے باہر نکلنے کی کوشش کر سکتے ہیں جن میں ہم برسوں سے پڑے ہیں اور وہ ہماری عادت بن چکے ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ ہماری آخرت خراب کر دیں ہمیں ان سے جان چھڑانی ہے۔ اس کا بہترین طریقہ توبہ ہے۔ اس بابرکت وقت میں ہم سب کو توبہ کر کے اللہ سے دین پر ثابت قدمی مانگ لینی چاہیے۔ واللہ الموفق والمستعان۔
مضمون نگار جامع النقر، رجال المع، ابہا، سعودی عرب میں امام ہیں۔
zafarkabeeri@gmail.com
***