چھوٹے جھگڑوں کو فرقہ وارانہ رنگ دے کرسیاسی فائدہ حاصل کیا جارہاہے

آل انڈیا پیپلز فرنٹ کے قومی ترجمان ایس آر دارا پوری کی ’’ہفت روزہ دعوت‘‘سے بات چیت

’’اتر پردیش میں دلت بی جے پی سے الگ ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ایسے میں یوپی حکومت نے یہ حکمت عملی اپنائی ہے کہ ان کے چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر ان کو دلت اور مسلمانوں کا جھگڑا بنا کر آپس میں لڑایا جائے، تاکہ اس سے سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے‘‘۔یہ کہنا ہے کہ آل انڈیا پیپلز فرنٹ کے قومی ترجمان ایس آر دارا پوری کا، جنہیں پچھلے دنوں شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے کے ’جرم‘ میں یوپی حکومت نے جیل بھیج دیا تھا۔ وہ 18 دن تک لکھنو جیل میں رہے۔ واضح رہے کہ ایس آر داراپوری 1972 بیچ کے آئی پی ایس افسر رہے ہیں اور اترپردیش پولیس میں آئی جی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔
ہفت روزہ دعوت کے ساتھ خاص بات چیت میں آئی پی ایس ایس آر داراپوری کہتے ہیں کہ اتر پردیش میں یہاں کے مسلمانوں اور دلتوں کو ٹارگٹ کرنے کے لیے یوپی حکومت نے ایک نیا طریقہ اپنایا ہے۔ اب یہاں بڑے فساد کرانے کے بجائے چھوٹے چھوٹے حادثوں کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر اس سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دراصل حکومت اپنی ناکامیوں کی وجہ سے عوام سے ہر طرح سے الگ تھلگ ہوگئی تھی، اس لیے اب تفرقہ انگیز سیاست کے ذریعے سپورٹ بیس کو مضبوط بنانا چاہتی ہے۔ ان معاملوں میں چند افراد نامزد ہوتے ہیں، باقی کے 200-100 افراد کو نامعلوم لکھ دیا جاتا ہے۔ اب ان نامعلوم افراد کے نام پر ایک خاص طبقے کے لوگوں کو چن چن کر گرفتار کیا جا رہا ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو جیلوں میں ڈالا جارہا ہے۔ اتر پردیش کے اعظم گڑھ اور جونپور کے تازہ واقعات کا حوالہ دے کر وہ کہتے ہیں کہ اس میں کافی بڑی تعداد میں ایک ہی طبقے کے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اعظم گڑھ کے معاملے میں تو ایک ایسے شخص کو بھی نامزد کیا گیا ہے جو گزشتہ ایک سال سے سعودی عرب میں کام کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ 9 جون کی شام جونپور کے سرائے خواجہ پولیس اسٹیشن کے تحت بھدیٹھی گاؤں میں دلت اور مسلم بچوں کے مابین ایک تصادم کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا، جب وہ گاؤں کے مضافات میں اپنی بکریاں اور بھینسیں چرا رہے تھے۔ اس واقعہ میں دونوں اطراف کے کچھ افراد زخمی ہوگئے۔ پھر گاؤں کے پردھان (سربراہ) نے دونوں فریقوں کے مابین ایک سمجھوتہ کیا اور معاملہ وہیں پر ختم ہوگیا۔ تاہم رات کو آتشزدگی کا ایک واقعہ پیش آیا، جس میں دلتوں کی 10 جھونپڑیاں جل گئیں اور ایک یا دو بکریاں بھی دم توڑ گئیں۔ جبکہ مسلمانوں نے اس آتشزدگی میں اپنی شمولیت سے انکار کیا، لیکن دلتوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے یہ جرم کیا۔ اس کے بعد فساد بھڑک اٹھا۔ اس معاملے میں فسادات اور قتل کی کوشش کے ساتھ ساتھ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ اور ایس سی/ایس ٹی (مظالم کی روک تھام) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے انتظامیہ کو این ایس اے اور گینگسٹر ایکٹ کے تحت بھی ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس معاملے میں اب تک 37 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جو کہ تمام مسلمان ہیں۔ اعظم گڑھ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
جیلوں میں اقلیتوں، دلتوں، قبائلیوں وپسماندہ طبقے کی بڑھتی تعداد کے سوال پر آئی پی ایس ایس آر داراپوری کہتے ہیں، یہ روایت پہلے سے ہی چلی آرہی ہے۔ لیکن جب سے بی جے پی کی حکومت اقتدار میں آئی ہے انہوں نے مسلمانوں کو خاص طور پر ٹارگیٹ کیا ہے اس کے بعد ان کے نشانے پر دلت رہے۔ کوئی بھی معاملہ ہو، چاہے کوئی بھی جرم کرے، سب سے زیادہ انہی طبقوں کے لوگوں کی گرفتاریاں کی جاتی ہیں، خاص طور پر ان دلتوں کو جو بی جے پی یا ان کی ہندتوا آئیڈیالوجی کے ساتھ نہیں ہیں اور ان کی مخالفت کرتی ہیں، ٹارگیٹ کیا جارہا ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ زیادہ تر کیسوں میں غریب طبقہ کے لوگوں کو پھنسایا جاتا ہے کیونکہ ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا اور یہ مقدمے بھی نہیں لڑ پاتے ہیں۔ ایسے میں سزا پانے والے قیدی بھی زیادہ تر یہی لوگ ہوتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ان طبقوں کے تئیں پولیس کے اندر فرقہ وارانہ اور ذات پات کا تعصب ہمیشہ سے رہا ہے۔ اور جب خود حکومت فرقہ وارانہ وذات پات کی سیاست کرتے ہوئے بنی ہو ایسے میں یہ تعصب تو مزید بڑھ جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا خود کا تجربہ ہے کہ تمام تر سخت قوانین کا سب سے زیادہ شکار اقلیت، دلت اور پسماندہ طبقے کے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ میں نے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں رہتے ہوئے ان چیزوں کو بڑی گہرائی سے دیکھا ہے کہ بہت سے معاملوں میں بے گناہ وبے قصور لوگوں کو ہی گرفتار کیا جاتا ہے۔
جب آپ سروس میں تھے تب کیا آپ نے پولیس کی ذہنیت کے خلاف آواز اٹھائی؟ اس پر ان کا کہنا ہے کہ میں جہاں بھی رہا، میں نے پولیس کو غلط کارروائی کرنے سے روکا۔
یہ پوچھنے پر کہ جب آپ کو شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے پر گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا تب آپ نے جیل میں کیا تجربہ کیا؟ اس سوال پر داراپوری کہتے ہیں کہ میری گرفتاری کی وجہ شہریت ترمیمی قانون نہیں بلکہ سیاسی تھی۔ میں کسی مظاہرے میں نہیں گیا تھا، مجھے تو حکومت نے نظربند کیا تھا۔ چونکہ میں دو بار لوک سبھا الیکشن لڑنے کے ساتھ ساتھ پی یو سی ایل کا نائب صدر ہوں، اور پی یو سی ایل نے سال 2018 میں اتر پردیش میں ہونے والے فرضی انکاؤنٹر کے معاملے میں ایک پیٹیشن بھی ڈالی ہے اس لیے مجھے ٹارگیٹ کیا گیا۔ جیل کے حالات کے بارے میں وہ مزید کہتے ہیں کہ جیل میں بہت برے حالات ہیں۔ لکھنؤ جیل میں میں نے زیادہ تر ان قیدیوں سے ملاقات کی جنہوں نے جرائم کیے تھے وہ تو کھل کر کہتے ہیں کہ ہاں ہم نے کرائم کیا ہے، لیکن اکثریت کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہیں۔ انہیں جھوٹے کیسوں میں پھنسایا گیا ہے۔ عدالت بھی پولیس کی کہانی پر یقین کرتی ہے، اس کا رویہ بھی ان کو جیل ہی میں رکھنے کا ہے۔
شہریت ترمیمی قانون مخالف مہم میں سرگرم اتر پردیش کے سماجی کارکنوں کے خلاف یوگی حکومت کے ذریعے جرمانہ وصولی کا کام پھر سے شروع ہو گیا ہے۔ اس میں اتر پردیش کے کئی سماجی کارکنوں کے نام سمیت ایس آر دارا پوری کا نام بھی شامل ہے۔اس نوٹس کے بعد یو پی کے سماجی و سیاسی کارکنوں میں کافی غصہ ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا کہ جب معاملہ عدالت میں ہے تو پھر اس نوٹس کا کیا مطلب ہے؟ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے خود تسلیم کیا تھا کہ CAA-NRC مخالف مظاہروں کے درمیان بھڑکے تشدد میں 6434637 روپیوں کا نقصان ہوا تھا، اور یہ نقصان کئی لوگوں کے ذریعہ کیا گیا تھا۔ لیکن اب یو پی کی تحصیل دار کے ذریعے بھیجی گئی نوٹس میں ہر فرد کو سات دن میں 6434637 روپیے جمع کرنے کو کہا گیا ہے۔ ایس آر دارا پوری کے ذریعے وصولی کارروائی کے خلاف ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ میں دائر پٹیشن نمبر 7899/2020 میں ریاست اتر پردیش حکومت کے ایڈیشنل مستقل ایڈووکیٹ نے 10 دن کی مہلت مانگی ہے، جس کے بعد عدالت نے جولائی کے دوسرے ہفتے میں مقدمہ لگایا ہے، یعنی یہ معاملہ اب عدالت میں زیر غور ہے۔
***


 

شہریت ترمیمی قانون مخالف مہم میں سرگرم اتر پردیش کے سماجی کارکنوں کے خلاف یوگی حکومت کے ذریعے جرمانہ وصولی کا کام پھر سے شروع ہو گیا ہے۔ اس میں اتر پردیش کے کئی سماجی کارکنوں کے نام سمیت ایس آر دارا پوری کا نام بھی شامل ہے۔اس نوٹس کے بعد یو پی کے سماجی و سیاسی کارکنوں میں کافی غصہ ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا کہ جب معاملہ عدالت میں ہے تو پھر اس نوٹس کا کیا مطلب ہے؟