چین کی مہلک اشتعال انگیزیاں: پھر بھی جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے

اے رحمان

ہند چین سرحدی تنازعے کو پر امن طریقے سے حل کرنے کی پچھلے پینتالیس سال سے چلی آ رہی کوششوں پر اُس وقت پانی پھر گیا جب ۱۵ جون کو لدّاخ کے پہاڑوں میں واقع ایک خوبصورت وادی ’ گلوان ‘ میں جانبین کے سپاہیوں کے درمیان ایک دست بدست جھڑپ ہو گئی جس کے نتیجے میں ایک کرنل سمیت ہمارے تقریباً بیس جوان شہید ہوئے۔اس قسم کی دُو بدو دستی جھڑپیں پہلے بھی دو مرتبہ سکّم اور پانگونگ جھیل پر مئی کے مہینے میں ہوئی تھیں لیکن اُس وقت معاملہ معمولی اور شدید چوٹوں تک محدود رہا تھا۔اس مرتبہ ہمارے سپاہی بے خبری میں مارے گئے کیونکہ چینی گشتی دستہ منصوبہ بندی کر کے خطرناک نوکیلے پتھّروں اور ایسے مضبوط ڈنڈوں سے لیس تھا جن پر خار دار تار لپیٹ کر مہلک بنا لیا گیا تھا۔(دراصل ایک پرانے معاہدے کی رو سے حقیقی حدّ ِ فاصل یعنی لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر گشت کرنے والے سپاہی آتشیں ہتھیار وں سے مسلّح نہیں ہو سکتے نہ ہی ایک خاص حد کے اندرگولی چلا ئی جا سکتی ہے) بعض ہندوستانی جوانوں کو ضرب پہنچا کر قریب بہتی ہوئی ایک ندی میں دھکیل دیا گیا اور نقطۂ انجماد سے بھی نیچے کی ٹھنڈ سے ان کی جان گئی۔دراصل یہ ’حقیقی ‘کہی جانے والی لائن یا سرحد متفقّہ طور پر متنازعہ ہے اور اس تنازعے کے مستقل حل کے لیے دونوں جانب سے پچھلے پچاس سال میں کوئی سنجیدہ فیصلہ کن کوشش نہیں کی گئی۔بس یہ طے کر لیا گیا تھا کہ مسٔلے کو بات چیت اور پر امن طریقے سے ہی حل کیا جائے گا۔موجودہ صورتِ حال کے پیدا ہونے کا سبب یہ ہے کہ اپریل میں سرحد کے قریب جنگی مشقیں کرتے کرتے (جنگی مشق کو شاید بہانہ بنایا گیا تھا)مئی کے پہلے ہفتے میں چینی فوجیوں نے سرحد عبور کر کے چالیس سے ساٹھ کلو میٹرہندوستانی علاقے پر قبضہ کر لیا جو نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ فریقین کے درمیان ہوئے اب تک کے تمام معاہدوں کی کھُلی خلاف ورزی ہے۔ اور جس طور چیینیوں نے یہاں گھس کر تنبو ڈیرہ گاڑ لیا، خندقیں کھود لیں اور بھاری فوجی ساز و سامان نصب کر لیا اس کو دیکھتے ہوئے دنیا بھر کے فوجی ماہرین کی رائے ہے کہ یہ کوئی عمومی قسم کی وقتاً فوقتاً ہونے والی در اندازی نہیںبلکہ چین کے دور رس جنگی عزائم کی ایک جھلک ہے۔یہ بھی صاف عیاں ہے کہ جس علاقے پر یہ غاصبانہ قبضہ کیا گیا ہے اسے خود چین نے ہندوستانی علاقہ تسلیم کیا ہوا تھا،تاہم اب ہندوستانی احتجاج کے جواب میں وہ نہایت خود سرانہ جواب دیتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ ’’ زمینی حقائق ہندوستان نے تبدیل کئے ہیں ‘‘۔ابھی تک ’زمینی حقائق‘ کی توضیح نہیں کی گئی ہے لیکن اغلب ہے کہ ہندوستان کے ذریعے اترّا کھنڈ میں لِپولیکھ کے درّے تک بنائی گئی ایک سڑک (لپو لیکھ درّہ چینی سرحد کے قریب ہے اور وہاں سے گذرنے والی یہ سڑک جنگی حکمتِ عملی کے زاویے سے اہمیت رکھتی ہے) چین کے حلق سے نہیں اتر رہی اور اس سلسلے میں نیپال کو اکسایا گیا جس نے یقیناً چین کے برتے پر ہندوستان کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کافی سے زیادہ ہندوستانی علاقہ اپنے تازہ ترین نقشے میں نیپالی قرار دے دیا۔اور حالانکہ ابھی اس سڑک کا قریباً چار کلو میٹر اختتامی حصّہ تعمیر ہونا باقی ہے مگر موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر وہاں کام روک دیا گیا ہے۔چین کی اس مجرمانہ سرکشی سے پیدا شدہ موجودہ صورتِ حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بیشتر دفاعی ماہرین کی رائے میں سفارتی مذاکرات یا عسکری قوّت کے استعمال سے مسٔلہ حل ہونا مشکل نظر آتا ہے۔بد قسمتی دیکھیئے کہ یہ صورتِ حال اس وقت سامنے آئی ہے جب ساری دنیا کورونا وائرس کی قہر مانیوں کا شکار ہے اور ہمارے یہاں تو اس وبا کے حالات روز بروز بد تر ہوتے جا رہے ہیں۔
تازہ ترین مہلک جھڑپ اور اپنے فوجیوں کی شہادت کی خبر سنتے ہی ہندوستانی عوام کا غم و غصّہ پھوٹ پڑا اور جذبۂ حب الوطنی سے مملو ان کی روایتی جذباتیت نے کار فرما ہو کر چین سے جنگ کرنے کا تقاضہ کر ڈالا۔اور اس وقت کیفیت یہ ہے کہ بچّہ بچّہ بڑی امّید بھری نظروں سے وزیرِ اعظم کی طرف دیکھ رہا ہے کہ کب اشارہ ہواور ہماری افواج خاطر خواہ سبق سکھانے کے لیے چین پر ٹوٹ پڑیں۔الیکٹرونک میڈیا بھی حسب ِ مقدور اس جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کر رہا ہے۔لیکن اب لاکھوں کروڑ کا یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ حالات میں چین سے کسی بھی سطح کی جنگ کرنا د انشمندی ہو گی؟ جوش کہتا ہے کہ ہاں پر عقل کہتی ہے نہیں ! عقل کی اس نہی کی حمایت میں بڑے اہم نکات ہیں : (۱)چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے جبکہ ہندوستان پانچویں نمبر پر ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے تیس سال میں ہندوستان دنیا کی ایک بڑی قوّت بن کر ابھرا ہے لیکن پچھلے چھ سال کی اقتصادی پالیسیوں نے ہماری معیشت کو تقریباً بربادی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے اور رہی سہی کسر کورونا کی وبا نے پوری کر دی جبکہ چین نے (جانی نقصان سے قطع نظر) کورونا وبا کے دوران بھی وبائی ’علاج‘ کے لوازمات فروخت کر کے بے پناہ مالی فائدہ حاصل کیا ہے ۔ اس وقت چین کی گھریلو پیداوار ہندوستان سے پانچ گنا زائد ہے جبکہ ہندوستان میں بیروزگاری خطرناک حد کو پہنچ گئی ہے اور روز افزوں ہے (۲) چین کی موجودہ فوجی طاقت ہندوستان سے کہیں زیادہ ہے۔ان کا سالِ رواں کا دفاعی بجٹ دو سو ساٹھ ارب ڈالر ہے اور ہمارا محض اکہتّر ارب ڈالر۔(۳) چین نے یہ جو کچھ بھی کیا ہے اس کے لیے پہلے سے ہی پوری تیّاری کر لی تھی۔جنگی حکمت ِ عملی کے زاویئے سے چین کی پوزیشن ہم سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ایک طرف چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC ) منصوبے کے تحت جو سڑک بنی ہے وہ چین میں کاشغر سے شروع ہو کر پاکستانی مقبوضہ کشمیر ،اسلا آباد، لاہور اور کراچی سے گذرتی ہوئی گوادر بندر گاہ تک پہنچتی ہے تو دوسری طرف بحرِ اوقیانوس کے ’ساؤتھ چائنا سی ‘کہے جانے والے سمندروں پر چین اپنی مکمّل جنگی بالا تری قائم کر چکا ہے اور امریکہ لاکھ کوشش پر بھی اس کو نہیں روک سکا۔ہماری طویل ترین سرحد چین سے ہی ملتی ہے۔نیپال کو اُکسا کر اس سرحد پر بھی کشیدگی پیدا کر دی گئی ہے۔پاکستان تو ہمارا روایتی دشمن ہے ہی اور وہاں بھی نہ صرف عمران خان کی حکومت متزلزل ہے بلکہ ہندوستان کے خلاف چین کی اس حرکت سے خوش ہو کر پاکستانی فوج بھی بغلیں بجا رہی ہے اور کسی بھی سنگین صورتِ حال میں ہمارے خلاف چین کے ساتھ مل کر اپنی من مانی کرے گی۔یہی نہیں چین نے تو اب کھلّم کھلّا کہہ دیا ہے کہ کسی بھی فوجی ٹکراؤ کی صورت میں ہندوستان کو پاکستان اور نیپال کا ’دباؤ‘ بھی جھیلنا ہو گا۔گویا ہم چاروں طرف سے گھر گئے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کے بلند بانگ دوستی کے دعووں کے باوجود امریکہ سے کسی بھی قسم کی مدد کی امّید کرنا حماقت ہو گی کیونکہ ایک تو ٹرمپ ویسے ہی ناقابل ِ بھروسہ شخصیت کے طور پر بدنام ہے،دوسرے امریکہ میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں اور اس بار ٹرمپ کا دوبارہ صدر منتخب ہونا مشکل نظر آتا ہے۔لیکن صدر کوئی بھی ہو امریکی کانگریس اور سینیٹ چین کے خلاف کسی مدد کی حمایت نہیں کرے گی کیونکہ امریکی عوام چین سے الجھنے کے حق میں نہیں ہیں،خصوصاً موجودہ دگر گوں حالات میں۔دوسری بڑی طاقتیں بھی ہندوستان اور چین کے جھگڑے کو ’’ سرحدوں سے متعلّق باہمی تنازعہ‘‘ کہہ کر صرف تماشہ دیکھیں گی اور حالات زیادہ خراب ہو جانے پر دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لے آئیں گی۔لیکن اس وقت تک جتنا نقصان ہو چکا ہو گا اس کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ان حالات میں دانشمندی تو یہی ہو گی کہ ایک مضبوط اخلاقی موقف اختیار کر کے چین کی غنڈہ گردی اور مجرمانہ عزائم کے آگے جھکے بغیر اپنے سیاسی حلیفوں کی مدد سے ہر سطح کی بات چیت اور قانونی ذرائع اختیار کر کے اس مسٔلے کا مستقل حل نکالا جائے تا کہ ایک پرانے محاورے کے مصداق ہم ’ گھی بھی کھا لیں اور پگڑی بھی رہ جائے‘۔

مضمون نگار سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ موصوف مختلف سماجی اور ادبی کازوں سے وابستہ ہیں۔ آپ موقر ادارے عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئرمین بھی ہیں۔