ہر گھر عيد گاه اور عيد گاہیں ویران

عماره رضوان – نئى دہلى

رمضان کا مبارک مہينہ دنيا کے بيشتر ممالک ميں اختتام پذیر ہوا، اور وہاں پر آج عيد منائى جارہى ہے۔ بيشتر ملکوں ميں لاک ڈاؤن کے ساتھ کرفيو بھى لاگو ہے، لہذا ہر گھر عملى طور پر عيدگاہ ميں تبديل ہوگيا ہے، اور ہر گھر سے تکبير و تہليل کى بلند صدائیں سنى جاسکتى ہيں۔ گھر کے افراد نماز دوگانہ بھى ادا کر رہے ہیں۔ ہمارے ابّو کے ايک دوست رياض، سعودى عرب ميں رہتے ہيں۔ ان کے بقول رياض ميں سوئياں کھانے اور کھلانے پر پابندى عائد کردى گئى ہے۔ جس دن سے وہاں پر عيد کى چھٹى کا اعلان ہوا ہے، اسى دن سے کرفيو لاگوہے۔ ہر کوئى اپنى ڈش خود تيار کرے، اور گھر والوں کے ساتھ ہنسى خوشى کھائے۔ ہنسى خوشى کے ساتھ کھانا شرط ہے، کيونکہ يہ عيد کا دن ہے۔

اب سے پہلے عيد کى نماز يا تو کھلے ميدان ميں ادا کى جاتى تھى يا پھر گاؤں اور قصبوں کى مساجد ميں۔ مگر مساجد تو پہلے ہی نوحہ کناں تھیں کہ ان کے آباد کرنے والے محروم کردیے گئے تھے نماز پنچگانہ سے، جمعہ کے خطبات ونماز سے، تلاوت کى حلاوت سے، تراويح کى روح پرور فضا سے، اور سال ميں ايک بار اعتکاف کرنے والے معتکفين سے۔ مساجد کو عيد گاہ نہ بنائے جانے پر زیادہ شکوہ نہيں ہے، کيونکہ وہ ان پابنديوں کى پہلے سے عادى ہو چکى ہيں، مگر عيدگاہوں کى فریاد سے دل شکستہ ہیں ہے، ان کى گريہ وزارى بھى بجا ہے کہ انھیں تو سال ميں صرف دوبار موقع ملتا ہے کہ اللہ کے نيک بندے اس کے احاطے ميں سجدہ شکر بجا لائيں اور اپنى خوشيوں کا اظہار کريں اور اسى بہانے اس کے احاطے کى بھى ذرا خاطر تواضع ہو جائے۔ ورنہ سال بھر تو کوئى ان کی طرف رخ بھى نہيں کرتا۔ اس احاطے ميں تو سب شير وشکر ہوکر گلے ملتے تھے، آخر کس کو يہ ادا ناپسند ٹھہرى جس نے ان روح پر مناظر پر ہى پابندى لگادى۔

ہمارے ملک کا بہت بڑا الميہ ہے کہ اس ملک کے رگ وپے ميں جو مذہبيت جاری و ساری ہے اسے کھرچ کھرچ کر نکالنے کى کوشش کى جارہى ہے۔ شراب کے ٹھيکے، جو تما م برائيوں کى جڑ ہے، دھڑلّے سے کھلے ہوئے ہيں تاکہ ان غريب اور پس ماندہ لوگو ں کو اپنى غربت و پس ماندگى کا ذرّہ برابر احساس نہ ہو، اور وہ اپنى حالت ميں بدمست رہيں، کيوں کہ اگر وہ ہوش ميں رہے تو اپنے حقوق کى مانگ کرنے لگيں گے، اور اگر ہوش کے ساتھ شعور کا ملاپ ہوگيا تو وہ بھى کسى پُر امن مظاہرے کا حصّہ بن جائيں گے، جس سے ہمارى حکومت سب سے زیادہ خوف زدہ رہتى ہے۔

آخر جب سماجى دورى اختيار کرتے ہوئے سارے کام انجام دیے جاسکتے ہيں، تو ہمارى عبادت گاہوں ہی پر قدغن کيوں؟ کيا مسجدوں اور عيدگاہوں ميں ہمارى عبادتيں، چرچ، گرودواروں اور مندروں ميں ديگر قوم کى عبادتيں حکومتى ہدايات کو ملحوظ رکھ کر انجام نہيں دى جاسکتيں؟ اس وقت تو زیادہ ضرورت ہے کہ لوگ اپنے اپنے ماننے والے رب کے حضور روئيں، گڑگڑائيں اور اپنے گناہوں کى معافى مانگيں۔ معلوم نہيں ہمارے وزير اعظم مودى جى کو يہ بات کب سمجھ ميں آئے، مگر چچا سام ڈونالڈ ٹرمپ کو يہ بات تقريباً ايک لاکھ جانيں گنوانے کے بعد سمجھ ميں آگئى ہے، انہوں نے کہا ہے کہ ’’اب ہم عبادت گاہوں کو مزيد بندنہيں کرسکتے، يہ وقت، دعا کا ہے، اب اوپر والے ہی کا سہارا ہے۔‘‘

ہمارى حکومت جو کرنا چاہتى ہے پورے شرحِ صدر کے ساتھ کرتى ہے، پورى قوت کے ساتھ کرتى ہے، ڈنڈے کے زور پر کرتى ہے، مگر ہمارے قائدين کچھ زیادہ ہى اطاعت گزار واقع ہوئے ہيں، وہ حکومتى فرمان آنے سے پہلے ہى اپنے ليٹر پيڈ اور مہر کو تيار کرليتے ہيں کہ کس طرح سے پورى قوم کو گھروں ميں قيد رہنے کے گُر سکھائے جائيں۔ اور عيد کى نماز کے جتنے ممکن طريقے ہوں وہ بتادیے جائيں، ہمارى ايک سہيلى نے ازراہ مذاق کہا کہ ايک فتوى ايسا بھى آنا چاہیے جو ابھى تک نہيں آيا ہے کہ نماز عيد الفطردراصل شکرانہ کى نماز ہے، اور شکر کا اصل مقام دل ہے۔ موجودہ حالات ميں ہم سب کو کورونا پر صبر اور عيد کى آمد پر شکر دل ہى دل ميں ادا کرنا چاہیے۔ اور يہ بات ان لوگوں کے لیے زیادہ قابل عمل ہے جو ممبئى جيسے گھنی آبادی والے شہروں کے باشندے ہيں، جہاں لوگ فليٹ اور ولاز کے بجائے چھوٹى چھوٹى کھوليوں ميں رہتے ہيں۔ اگر وہ گھر ميں نماز ادا کريں تو رکوع وسجود تو کرسکتے ہيں مگر قيام نہيں۔

انڈونشيا اور مليشيا جيسے مسلم ممالک ميں لوگوں نے عيدگاہ ميں سماجى دورى کا خيال کرتے ہوئے عيد کى نماز ادا کى ہے، اسى طرح تھائى لينڈ کے دار الحکومت بينکاک کى ايک تصوير سوشل ميڈيا پر گردش کررہى ہے جس ميں لوگ ايک ميٹر کے فاصلے کو برقرار رکھتے ہوئے نمازعيد ادا کرتے ہوئے ديکھے جا سکتے ہيں۔

شہروں کى بات سمجھ ميں آتى ہے کہ يہاں پر کرونا نے وبائى مرض کى شکل اختيار کرلى ہے، اندیشہ ہے کہ اگر اجتماعى طور پر نماز ادا کرنے کى اجازت دى جائے تو بيمارى پھيلنے کا امکان ہے، مگر ان گاوؤں ميں جہاں کورونا کا ايک بھى مريض نہيں، يہ پابندى کيوں؟ جہاں عبادت کے علاوہ ہرکا م کى اجازت ہے، شادى بياہ ہو يا کوئى اورتقريب ہر ايک کے لیے اجازت ہے اور جو ہمارے منتخب نمائندے ہيں چاہے وہ پارليمنٹ کے ممبر ہوں يا اسمبلى کے، وہ تو اس ’پچاس‘ والى پابندى سے خود کو اوپر سمجھتے ہيں، تبھى تو ان کى ہر محفل گل زار رہتى ہے۔

بہرحال ہميں خوشى ہے کہ ملت کے اندر جمود ٹوٹا ہے، اجتہاد کے دروازے کھلے ہيں، اسى لیے تو اتنے سارے فتوے سوشل ميڈيا پر گردش ميں ہيں۔ مگر ايک بات سمجھ ميں آئى کہ ہمارے ملک ميں رؤيت ہلال کى کتنى کميٹياں ہيں؟ اور جتنى بھى ہوں، ہيں تو سب کی سب ’مرکزى رؤيت ہلال کميٹى‘، اس سے اچھا تو ہمارا پڑوسى ملک ہے جہاں رؤيت ہلال کى تصديق کے دو ہى ادارے ہيں۔ ايک کى سرپرستى مفتى منيب الرحمن فرماتے ہيں اور دوسرے کی فؤاد چودھرى۔


مضمون نگار جامعہ مليہ اسلاميہ سينئر سيکنڈرى اسکول ميں بارہويں کى طالبہ ہيں۔
ammarahrizwanjmi@gmail.com