ہجرتِ معکوس اور حکومتِ ہند: کیا یہ ہے یہاں بندۂ مزدور کی اوقات؟

اے رحمان

اسکول کی ابتدائی تعلیم کے دنوں میں جن اسباق نے ذہن پر گہرا تاثر چھوڑا ان میںاردو کی چوتھی جماعت کے نصاب میں شامل ’’مزدور‘‘ کے عنوان سے ایک نظم تھی جو مخمّس کی صنف میں تھی اور ٹیپ کا بند تھا ’’مزدوری کر مزدوری کر‘‘۔مجھے یاد ہے اس وقت کے بچکانہ دماغ میں لفظ مزدور سن کر جو شبیہ ابھرتی تھی وہ یا تو ایک ایسے مفلس پھٹے حال شخص کی ہوتی تھی جو بید کی بڑی سی ٹوکری جسے جھلّی کہا جاتا تھا شانے سے لٹکائے سڑکوں پر بوجھ کی تلاش میں گھومتا رہتا تھا جسے منزلِ مقصود تک پہنچا کر وہ چند پیسے کما لے،یا مٹّی اور کیچڑ سے لت پت اس دوسرے مفلس پھٹے حال شخص کی جو اینٹ اور گارے سے ’چِنائی‘ کا کام کرتا نظر آتا تھا۔ظاہر ہے کہ مزدوری کے ان دونوں مظاہر میں کوئی دلکشی نہیں تھی لہذٰا ’’مزدوری کر مزدوری کر‘‘ نہایت مضحکہ خیز اور بھونڈی تلقین محسوس ہوئی۔لیکن جب تشریح کے ساتھ نظم سمجھائی گئی اور نظم کے مضمرات پر خود بھی غورکیا تو روز مرّہ زندگی میں مزدور کی ضرورت اور اہمیت دونوں واضح ہو گئیں۔مجھے شاعر کا نام تو یاد نہیں لیکن نظم کی ابتدا ان مصرعوں سے ہوتی تھی: مزدوری میں اک قوّت ہے۔۔مزدوری عین شرافت ہے۔۔۔مزدوری ہی میں عزّت ہے۔۔۔مزدور کی آج حکومت ہے۔۔مزدوری کر مزدوری کر۔نظم میں آگے چل کر مزدورکی اہمیت کو مدلّل طریقے سے یوں ثابت کیا گیا تھا۔’مزدور کا گر احسان نہ ہو۔۔۔۔منڈی بازار دوکان نہ ہو۔۔۔کچھ ساز نہ ہو سامان نہ ہو۔۔۔مزدور نہ ہو تو جہان نہ ہو۔‘ یہ دلائل ذہن پر گویا نقش ہو گئے اور بعد میں علّامہ اقبال کے ذریعے مزدور کے لیے وضع کردہ استعارہ ’’ دستِ دولت آفریں‘‘ ہی سب سے مناسب و موزوں لگا۔

ہندوستان کی غیر معمولی آبادی جہاں ایک جانب ملک کے لیے ایک بڑی زحمت رہی (بعض زاویوں سے اب بھی ہے) وہیں دوسری جانب ملک کی تعمیری، زرعی ،معاشی اور صنعتی ترقّی کے لیے رحمت بھی ثابت ہوئی،وہ اس طور کہ زراعت سے لے کر صنعت تک ہر میدان میں جسمانی مشقّت کا کام کرنے کے لیے نہایت کم اجرت پر مزدوروں کی فوج work force) ) ہمہ وقت موجود و مہیّا رہی جس کے بغیر معاشی ترقّی اور زندگی کی وہ آسائشیں ممکن نہیں تھیں جن سے آج ملک کا متوسّط اور اونچا طبقہ فیضیاب ہے۔تمام ترقّی یافتہ اور بیش تر ترقّی پذیر ممالک میں نہ صرف یہ کہ مزدوری بہت مہنگی ہے بلکہ مزدوروں کی تعداد نہایت قلیل ہے جس کے سبب وہ اپنی بنیادی ضروریات کے لیے چین،ہندوستان ،بنگلہ دیش،میکسکواور درجنوں چھوٹے چھوٹے ’غریب‘ ممالک کے دست نگر ہیں۔معاشرے میں مزدور کی یہ کلیدی حیثیت ہونے کے باوجود ہمارے یہاں ہر دور میں مزدوروں کا جو بے رحمانہ استحصال کیا گیا اس کی ایک مفصّل تاریخ رقم کی جا چکی ہے۔ آزادی کے بعد مزدور طبقے کو ہر ممکن استحصال سے بچانے کی غرض سے بے شمار قوانین بنائے گئے (ان میں سے چند قوانین میں رواں حالات کے تحت کچھ مزدور مخالف ترامیم بھی کر دی گئی ہیںمگر وہ الگ موضوع ہے)جن کے مکمّل اور موثّر نفاذ میں ہمیشہ بعض سیاسی عوامل اس طریقے سے حارج ہوئے کہ بندۂ مزدور کے حالات مجموعی طور پرتلخ ہی رہے۔لیکن اس وقت جو منظر نامہ سامنے ہے اور کورونا وبا کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے گھر واپس پہنچنے کی کوشش میں ’مہاجر‘ مزدوروں کے ساتھ جو المناک اور دلدوز واقعات و سانحات پیش آ رہے ہیںوہ نہ صرف فقید المثال ہیں بلکہ اکیسویں صدی کے ہندوستان میں جن کا تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔لاکھوں مزدوروں کے آگے بھوک اور پیچھے کورونا وائرس تھا لہذٰا کسی دیگر متبادل کی عدم موجودگی میں وہ پیدل ہی تنہا یا اپنے بال بچوں سمیت سینکڑوں اور ہزاروں میل دور واقع اپنے گھروں کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔بیشتر توز ادِ راہ سے بھی محروم اور راستے کے مسافر نوازوں کے رحم و کرم پر رہے۔ دھوپ، بارش ،بھوک اور تھکن سے لے کر پولیس کا ظلم،بیماری اور سڑک حادثوں تک تمام آفاتِ ارضی و سماوی ان پر قہر برساتی رہیں۔کہیں ریل گاڑی نے انھیں کچل دیا کہیں کسی کار یا ٹرک نے ،کہیں پولیس نے روک کر کوارنٹین کے مراکز میں قید کر دیا تو کہیں تھکن اور بیماری نے آ لیا اور نتیجہ ناگہاں اور ناگاہ موت۔ حاملہ عورتوں نے سڑک کے کنارے بے یارو مددگاری کی حالت میں بچے جنے اور انھیں اٹھا کر پھر سفر شروع کر دیا۔بعض اپنے بیمار اقربا کو کندھے پر لیے رینگتے نظر آئے۔اس عظیم سیلِ رواں کو روکنے سے معذور پولیس تو پیچھے ہٹ گئی لیکن اب ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور ٹرک ڈرایٔوروں کی بن آئی جنہوں نے ان افلاس اور مصیبت زدہ مسافروں کی جیب سے آخری پائی تک نکال لینے میں کوئی فرو گذاشت نہیں کی۔یہ سارا انسانی تماشہ ابھی جاری ہے اور نجانے کب تک رہے۔مگر یہ المیہ منتہائے الم تک اس وقت پہنچا جب وزیر ِ اعظم نے پرسوں رات ٹویٹر اوربعض ٹی وی چینلوں پر جلوہ افروز ہو کر بڑے طمطراق سے بیس لاکھ کروڑ کے راحتی ’پیکج‘ کا اعلان کرتے ہوئے ایک ’دیش بھکتانہ‘ وعظ نما تقریر فرمائی جس میں مزدوروں پر گذر رہی اس غیر انسانی بپتا کا ذکر تک نہیں تھا۔یہ وہی مزدور ہیں جن کے برتے پر موصوف نے ’ میک ان انڈیا ‘ کے بلند بانگ دعوے کئے تھے اور جن کے بغیر ملک کو ’ آتم نربھر ‘ یعنی خود کفیل بنانے کا تصوّر تک نہیں کیا جا سکتا۔ایسی سفّاک اور سنگدلانہ بے توجّہی اور بے حِسی کی مثال ماضی قریب میں تو ایک ہی ملتی ہے۔اور وہ ہے جوزف سٹالن جس نے ۱۹۳۲ سے ۱۹۳۳ تک کے ایک سالہ عرصے میں منصوبہ بند طریقے سے holodomor کے ذریعے سے ڈیڑھ کروڑ یوکرینین باشندوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ہولو ڈو مور یوکرین زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی ہیں بھوک مسلّط کر کے قتل کر دینا(اسے فاقہ زنی کہہ لیجیئے)یوکرین سویت روس کی ایک ریاست تھی (اب وہ ایک آزاد ملک ہے)جس نے آزادی کی تحریک چلا رکھی تھی۔۱۹۳۲ میںجب سوویت روس خشک سالی کا شکار ہوا تو سٹالن کو منفرد النسل یوکرینیوں کی نسل کُشی کا موقع مل گیا۔اس نے ریاست کو محصور کر کے وہاں کے باشندوں کی نقل و حرکت پر مکمّل پابندی لگا دی اور اشیائے خوردنی کی سپلائی معطّل کردی۔نتیجتاً مذکورہ تعداد میں یوکرینین باشندے بھوک سے ہلاک ہو گئے۔(اس holodomor کو ہٹلر کی ہولو کاسٹ یعنی مرگ ِ انبوہ سے تشبیہ دی جاتی ہے )یہاں فرق بس اتنا ہے کہاچانک اور بغیر کسی وارننگ یا مہلت لاک ڈاؤن کے اعلان سے مزدوروں کے لیے ایک نہایت مشکل صورتِ حال پیدا کر کے انھیں حالات کے رحم و کرم پر ہی نہیں چھوڑ دیا گیا بلکہ کسی قسم کی مدد پہنچانا تو دور، ابتداً ان کے راستے اور وسائل مسدود کرنے کی کوشش کی گئی۔اور اب بھی حکومت کی جانب سے پرسانِ حال نہیں ہے۔لیکن اب اس مسٔلے کے ایک عملی پہلو اور نتیجے پر نظر جاتی ہے۔ہزاروں مزدوروں نے صورتِ حال اور سرکاری بے عملی سے متنفّر ہو کر اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے آبائی علاقوں اور بستیوں میں رہ کر بھوکا مرنا پسند کریں گے لیکن واپس ’کام‘ پر نہیں آئیں گے۔اگر ایسا ہوا اور ایک اندازے کے مطابق اگر اسّی فیصد مزدور واپس اپنے کام پر نہیں لوٹے تو ملک کو آتم نربھر بنانا تو کجا ،معیشت کو واپس پٹری پر لانے کے لالے پڑ جائیں گے۔عوام الناس پر ظلم میں ایک ’خود ریخت‘ (self-destruct ) عنصر ہوتا ہے۔ظلم جب حد سے گذرتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ وہ ایسے کہ ردّ ِ عمل ایسی خانہ جنگی اور بغاوت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جو تاج اچھال کر تخت گرا دیتی ہے جن مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ کورونا وبا کا قہر کم ہونے کے بجائے بڑھتا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ غریبوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔یہ مصیبت زدہ مزدور جب کسی نہ کسی طرح واپس پہنچ کر شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنی ناگفتہ بہ صورتِ حال اور اس کے اسباب کا جائزہ لیں گے تو یہ مظلوم مخلوق اس طرح سر اٹھائے گی کہ ارباب ِ حلّ و عقد سب سرکشی بھول جائیں گے۔کاش فرعونِ وقت عقل کے ناخن لے اور سیاست کے بجائے انسانیت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور راحت کا عمل شروع کر دیا جائے جو ویسے بھی حکومت کا فرضِ اوّلیں ہے۔

مضمون نگار سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ موصوف مختلف سماجی اور ادبی کازوں سے وابستہ ہیں۔ آپ موقر ادارے عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئرمین بھی ہیں۔