اندھیری رات،طوفانی ہوا،ٹوٹی ہوئی کشتی: اور اس پر ناخدا غائب

اے رحمان

اب مکمل طور پر عالمِ نفسا نفسی ہے۔حکومت نے رواں عالمی وبا کا مسٔلہ حل کرنے کا ارادہ،اگر تھا بھی، تو اسے ترک کر دیا ہے۔کوئی کوشش تو اس سلسلے میں سرے سے کی ہی نہیں گئی ۔ملک میں وبا کے پھوٹ پڑنے سے اب تک کے تاریخی تسلسل (chronology )کا مختصر سا جائزہ لیا جائے تو بڑے تکلیف دہ حقائق سے پالا پڑتا ہے۔۔یہاں کورونا کا پہلا معاملہ تیس جنوری 2020 کوسامنے آیا تھا۔اتفّاق سے اُسی دن عالمی ادارۂ صحت نے کورونا بیماری کو’’ہنگامی صورتِ حال‘‘ سے تعبیر کیا تھا۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں اس وقت تک معاملہ گرم ہو چکا تھا لہذٰا ہندوستانی اخبارات میں کورونا کے پہلے مریض کی خبر نمایاں طور سے شائع ہوئی لیکن حکومت کی جانب سے کسی ردّ ِ عمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔فروری کے دوسرے ہفتے میں طبّی سائنس کے ریاضی دانوں اور ہندوستانی کاؤنسل برائے طبّی تحقیق (ICMR )کے ماہرین نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں تنبیہ کی کہ ملک میں کورونا بیماری کا وبائی صورت میں پھٹ پڑنا ناگزیر ہے لیکن حکومت کے کان پر جوں بھی نہ رینگی۔اس رپورٹ میں احتیاطی تدبیر کے طور پر مشورہ بلکہ ہدایت کی گئی تھی کہ ہوائی اڈّوں پر غیر ممالک سے آنے والوں کی سخت سکریننگ (مکمل طبّی جائزہ) ہونی چاہیئے ۔ مگر کیسی سکریننگ، اس وقت تو پردھان سیوک صاحب اپنے دوست ٹرمپ کو نمستے کرنے کے انتظامات میں مصروف تھے جس کا انعقادچوبیس فروری کو احمد آباد کے سردار پٹیل اسٹیدیم میں ہوا ۔( آج بھی احمد آباد میں کورونا کی صورت ِ حال ملک میں بد ترین سمجھی جا رہی ہے)گیارہ مارچ کو عالمی ادرۂ صحت نے کورونا بیماری کے عالمی وبا ہونے کا اعلان کر دیا۔اس وقت تک 114 ممالک میں ایک لاکھ اٹھّارہ ہزار افراد کورونا وائرس سے متاثّر ہوئے تھے اور چار ہزار تین سو ہلاک ہو چکے تھے۔ ایک مرتبہ پھر وزارت ِ صحت اور طبّی کاؤنسل کے ماہرین نے سخت الفاظ میں حکومت کو متنبّہ کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو یہ وبا ملک میں تباہی پھیلا دے گی۔اس مرحلے پر پردھان سیوک نے ’ہنگامی‘ اجلاس کئے اور بائیس مارچ کو رضاکارانہ کرفیو اور چوبیس مارچ کو اکیس دن کے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا جسے بعد میں تین مئی تک بڑھا دیا گیا۔لاک ڈاؤن کا نفاذ ہونے کے بعد جو حالات و واقعات پیش آئے اور ان کے جو نتائج اب سامنے ہیں وہ ثابت کرتے ہیں کہ اس مکمل تالہ بندی سے نقصان کے سوا کچھ نہیں ہوا۔بنیادی وجہ اس کی یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کو اچانک بغیر کسی تیّاری کے پورے ملک پر تھوپ دیا گیا۔ملک میں تقریباً پندرہ کروڑ ایسے مزدور ہیں جو اپنا گاؤن،قصبہ،شہر یا صوبہ چھوڑ کر بڑے کاروباری اور صنعتی شہروں میں کام کرتے ہیں۔پنجاب اور ہریانہ کے تمام زرعی مزدور اسی زمرے میں آتے ہیں۔اگر بہتّر گھنٹے کی مہلت دے کر لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہوتا تو بیشتر مزدور کسی نہ کسی ذریعے سے اپنے گھر پہنچ جاتے اور وہ انسانی المیہ ظہور میں نہ آتا جو لاکھوں مزدوروں کے مجبوراً پیدل اپنے گھروں کے لیے چل دینے سے وقوع پذیر ہوا۔کام بند، مزدوری بند، وبا کا خوف،گھر سے دوری،سفر کے ذرائع مفقود اور اس عالم میں کھانے پینے کے لالے۔سڑک کے راستے اور پیدل ہی ہجرت ِ معکوس شروع ہو گئی۔ہمہ وقت حکومت کے دفاع اور قصیدہ خوانی میں مصروف ٹی وی چینلوں میں سے ایک آدھ نے ہی اس پر آشوب سفر کی دلدوز تفصیلات ،وہ بھی مختصراً،سامنے لانے کی زحمت گوارا کی ۔وہ سفر جو نہ جانے کتنوں کے لیے سفر ِ آخرت ہی ثابت ہوا۔بعض بین الاقوامی اخبارات اور خصوصاً نیو یارک ٹائمز نے اس ضمن میں کئی مفصّل کہانیاں شائع کیں جن میں بتایا گیا کہ تقسیم ِہند کے بعد اس پیمانے کی پیدل ہجرت اس سے قبل کبھی نہیں دیکھی گئی جس میں ہزار ہزار میل کے لیے عازم ِ سفر ایسے مرد عورتیں اور بچّے بھی شامل تھے جن کے پاؤں میں جوتے تک نہیں تھے اور بیشتر پیٹ بھرنے کے وسائل سے محروم تھے۔ایک رپورٹ میں یہ تفصیل بیان کی گئی کہ لاک ڈاؤن کے بعد بھوک اور بے بسی کا شکار ہونے والے مزدوروں اور دیگر شہریوں کو جو امداد اور راحت پہنچائی گئی اس کا بانوے فیصد پرائیویٹ افراد اور تنظیموں کی جانب سے پہنچا۔یعنی حکومت کی جانب سے راحت رسانی کے محض اعلان ہوتے رہے۔اور مرے پہ سو دُرّے اس وقت پڑے جب آخرش دور دراز کے پھنسے ہوئے مزدوروں کو ان کے گھر پہنچانے کے لیے ریل گاڑیوں اور بسوں کا جو انتظام ہوا تو ان کے ذریعے سفر کا کرایہ ان مظلوموں کے حلق میں ہاتھ ڈال کر وصول کیا گیا۔ایک افسوس ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ ابتدائی لاک ڈاؤن کے اعلان کے وقت مرکزی حکومت نے وبا سے نپٹنے کے لیے کسی قسم کی کوئی حکمت ِ عملی وضع نہیں کی تھی۔اب بھی وہی صورت ِ حال ہے اور حکومت کا موجودہ رویّہ دیکھتے ہوئے مستقبل قریب میں بھی کسی واضح منصوبے کی امید نہیں۔

اب ایک مضحکہ خیز اعلان کے ذریعے لاک ڈاؤن میں مزید تین ہفتوں یعنی سترہ مئی تک کے لیے توسیع کر دی گئی ہے۔یہ اعلان مضحکہ خیز اس لیے ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ لاک ڈاؤن میں بے شمار رعائیتیں بھی دے دی گئی ہیں جن میں دلی جیسے شہر میں ،جو پورے کا پورا ریڈ زون میں ہے،شراب کی دوکانوں کا کھولا جانا بھی شامل ہے۔بعض دیگر کاروبار اور سرکاری دفاتر بھی مشروط طور پر لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ کر دیئے گئے۔نتیجتاً پہلے ہی روز سڑکوں پر لوگوں کا اژدہام اور گاڑیوں کا جام دیکھنے میں آیا۔کورونا متاثرین کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوا اور ہو رہا ہے جس کا ویسے بھی اندازہ اور اندیشہ تھا۔دراصل پردھان سیوک ا پنے دوست ٹرمپ کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں جس نے امریکہ میں کورونا پر کنٹرول نہ ہوتے ہوئے بھی معیشت کو پوری طرح سے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ہمارے یہاں تو زمام ِ کار ہے ہی ان لوگوں کے ہاتھ میں جو ذات اور ذہنیت دونوں سے پکّے بنیے ہیں لہذٰا پیسہ ہی ان کا دھرم اور ایمان ہے۔اب اپنی حکومت کی غیر اعلان شدہ پالیسی کو ان سادہ سے الفاظ میں سمجھ لیجیئے۔’’ تم کورونا سے بیمار ہوتے ہو تو ہو جاؤ،ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔علاج کی استطاعت ہو تو علاج کرا لو۔بچ گئے تو تمہا ری قسمت،ورنہ ہمیں تو ہر حالت میں ملک چلانا ہے‘‘ (کچھ ارباب ِ اقتدار کا تو یہ بھی نظریہ ہو سکتا ہے کہ اگر دس بیس کروڑ آبادی کم ہو جائے تو معیشت اور بھی جلد پٹری پر آ جائے گی)۔

قدیم بادبانی بحری جہازوں کے دور میں زیر ِ تربیت ملّاحوں کے سامنے سوال کی شکل میں ایک مسٔلہ پیش کیا جاتا تھا ۔ ’’ ساحل سے سینکڑوں میل دورآپ کا جہاز طوفان میں پھنس گیا ہے،بادبان بیکار ہیں اور سکّان (rudder ) ٹوٹ گیا ہے ۔اس صورت ِ حال کا آپ کیا حل تجویز کرتے ہیں ؟‘‘۔ جب کسی سے بھی جواب نہ بن پڑتا تو ٹرینر یعنی استاد ان سے کہتا تھا ،’’ اس صورت ِ حال کا واحد حل یہ ہے کہ ایسی صورت ِ حال آنے ہی نہ دی جائے۔‘‘اس تمثیل کے ذریعے ملّاحوں کو مکمّل احتیاط اور پیشبندی کا سبق دینا مقصود تھا۔ موجودہ دور کے بحری جہاز تو ترقّی یافتہ اور جدید ٹکنالوجی سے لیس ہوتے ہیں لیکن مذکورہ تمثیل کا استعمال قومی سلامتی کے اداروں خصوصاً جاسوسی ایجنسیوں میں دوران ِ تربیت اب بھی کیا جاتا ہے۔

کورونا وبا مزید شدید ہونے جا رہی ہے۔امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں ماہ ستمبر تک مریضوں کی تعداد لاکھوں میں ہو گی۔اس سلسلے میں حکومت کا کسی بھی قسم کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا ارادہ نظر نہیں آتا۔اس بیماری کے لیے دوا یا ویکسین ابھی بہت وقت لے گی۔کئی اطراف سے اس ضمن میں امید افزا خبریں آئی تو ہیں لیکن کامیاب ویکسین کے وجود میں آنے سے لے کر اس کے بین الاقوامی پیمانے پر بنائے جانے،فروخت یا تقسیم ہونے تک ایک طویل عرصہ حائل ہے۔تا تریاق از عراق آوردہ شود مارگزیدہ مردہ شود ( جب تک عراق سے تریاق لایا جائے گا سانپ کا کاٹا مر چکا ہو گا) سے سبق لے کر مار گزیدان کی صف میں شامل ہونے سے بچیئے۔بہت پرانا انگریزی محاورہ ہے ’’ انسداد علاج سے سے بہتر ہے‘‘ یہاں انسداد کے بجائے ’احتیاط‘ پڑھا جائے۔حکومت اب اس معاملے سے بری الذمّہ اور بے پروا ہو چکی ہے لہذٰا نہ تو سرکاری ہسپتالوںمیں مزید بستر فراہم کئے جایئں گے نہ علاج کا کوئی معقول انتظام ہو گا۔اور تو اور کورونا کے ٹسٹ کی فیس بھی مٹھی بھر کر لی جا رہی ہے اور اس میں اضافہ ہی کیا جائے گا جبکہ پوری دنیا میں کورونا کے ٹسٹ مفت کئے جا رہے ہیں۔یہاں تو بدعنوانی کا ایسا دور دورہ ہے کہ چین سے جو ٹسٹ کٹ درآمد کی گئیں ان کے ناکارہ ثابت ہو جانے پر کوئی متبادل انتظام اب تک نہیں کیا گیا۔رہے پرائیویٹ ہسپتال تو ان کا مذہب تو ہے ہی منافع خوری ۔وہ پیشۂ طب کے انسانی تقدّس ،اخلاقی اقدار اور قانونی تقاضوں کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔اور ویسے بھی عام آدمی کی دسترس سے پرے ہیں۔اٹلی سے ایک غیر مصدقّہ خبر موصول ہوئی ہے کہ کورونا بیماری کی تشخیص میں بہت بڑی غلطی کی گئی ہے۔در اصل یہ وائرس نظام ِ تنفّس کو نہیں دل کے فعل پر حملہ کر کے اس کو متاثرکرتا ہے۔اگریہ بات درست ثابت ہوئی تو بیماری اور علاج کا پورا منظرنامہ ہی بدل جائے گا۔ لیکن علاج تک نوبت ہی کیوں آئے ۔مکمل احتیاط ،جس میں ’سماجی فاصلہ‘ سب سے اہم ہے اور ماسک وغیرہ کے استعمال جیسی چند تدابیر اختیار اور ان کا مستقل استعمال کر کے اس مہلک وائرس اور اس سے ہونے والی ممکنہ موت سے بچا جا سکتا ہے۔

مضمون نگار سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ موصوف مختلف سماجی اور ادبی کازوں سے وابستہ ہیں۔ آپ موقر ادارے عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئرمین بھی ہیں۔