تمام دستاویزات کے باوجود اجاڑ دیئے گئے لوگ کیمپوں میں رہنے پر مجبور

قدرت اور نفرت کی مار جھلیتے آسام کے مسلمان، ہفت روزہ دعوت کی ایک چشم کشا گراونڈ رپورٹ

افروز عالم ساحل

45 برس کے محمد ابراہیم علی کی آنکھیں بہت نم ہیں۔ وہ بار بار اپنے ٹوٹے ہوئے مکان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ آنکھوں کے آنسو پونچھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں یہاں تیج پور سے ایک مسجد میں نماز پڑھانے کےلیے بطور امام آیا تھا اور یہیں بس گیا۔ میں یہاں کی مسجد میں نماز پڑھتا ہوں۔ پچھلے 7-8 برسوں سے مسلسل رقم جمع کرکے زمین خریدی اور اس گھر کو بنایا۔ لیکن 5 دسمبر کو میرے آشیانہ کومجھے بنگلہ دیشی بتاتے ہوئے توڑ ڈالا گیا۔ یہ کہتے ہی وہ رو پڑتے ہیں۔

یہ کہانی صرف ابراہیم علی کی نہیں ہے بلکہ کہانی آسام کے سونت پور ضلع کے 426 خاندانوں کی ہے، جن کا مکان یہ کہتے ہوئے توڑ ڈالا گیا کہ وہ بنگلہ دیشی ہیں، درانداز ہیں۔ اب ان  426 خاندانوں کے قریب ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد ٹھنڈ کے اس موسم میں کھلے آسمان کے نیچے کیمپوں میں اپنی زندگی گذار رہے ہیں۔ سونت پور کے مکوا، سیرووانی اور بیہیا گاوں کے کیمپ اس کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان کیمپوں میں زیادہ تر لوگ ڈیگولی چپوری، بالی چپوری، لالٹوپ، باٹی ماری بھیروی اور لنگی بازار گاوں کے رہنے والے ہیں۔ ان عارضی کیمپوں میں رہنے والے لوگوں کا الزام ہے کہ ان کے پاس زمین اور ہندوستانی شہری ہونے کا تمام دستاویزات موجود ہیں، لیکن پھر بھی ان کے گھروں کو بے رحمی سے بی جے پی رکن اسمبلی پدما ہزاریکا نے صرف اسلیے توڑوا ڈالا، کیونکہ وہ اس علاقے کے ووٹر نہیں ہیں۔   

ڈیگولی چپوری کے محمد ابراہیم علی پھر آنکھوں کے آنسو پونچھتے ہوئے کہتے ہیں، وہ  لوگ ہمارے گھروں کوتوڑنے کے لیے ہاتھی اور بلڈوزر لے کر آئے تھے۔ کچے مکانوں پر ہاتھی چلوا دیا گیا، وہیں پکے مکانوں پر بلڈوزر چلائے گئے۔ ساتھ میں پولیس فورس کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ ہمیں کچھ بھی بولنے یا کاغذ دکھانے کا موقع نہیں دیا گیا۔

ابراہیم علی کہتے ہیں، ‘میں ہندوستان میں جنما ہوں۔ میرے باپ دادا سب یہیں پیدا ہوئے ہیں۔ این آر سی لسٹ میں ہمارا نام 1951 میں بھی تھا، اور اس بار کے بھی این آرسی میں موجود ہے۔ میرے پاس تمام دستاویز ہیں، پھربھی پتہ نہیں کس بنیاد پر ایم ایل اے پدما ہزاریکا مجھے بنگلہ دیشی ر بتا رہے ہیں؟ ‘

65 سالہ کسان اکاس علی نے اپنی پوری زندگی گاؤں میں تین بیڈروم والے مکان کی تعمیر پر صرف کردی ہے۔ اب  ایک عارضی کیمپ میں اپنے ساتھ ایک لال پوٹلی لیے پریشان گھوم رہے ہیں۔ اس پوٹلی میں ان کے ہندوستانی شہری ہونے کے تمام کاغذات ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ہم ایک بار چل کر ان کا گھر دیکھ لیں۔ ہم ان کے ساتھ ان کے  باٹی ماری بھیروی گاؤں پہونچتے ہیں۔ جیسے ہی انھوں نے اپنا ٹوٹا ہوا گھر دیکھا ان کی آنکھیں آنسوں سے بھر جاتا ہے۔

اپنی ڈبڈبائی آنکھوں کو پوچھتے ہوئے بولتے ہیں، "اپنے آبائی گاؤں سے سیلاب کے بعد بہہ جانے کے بعد 15 سال سے زیادہ عرصہ سے یہاں رہ رہا ہوں۔ میں آسام کا ایک حقیقی شہری ہوں اور این آر سی میں بھی میرا نام آگیا ہے۔”

وہ آگے کہتے ہیں، "میرا قصور یہ ہے کہ میں سوتیا اسمبلی حلقہ میں جہاں میرا گاؤں پڑتا ہے وہاں ایک ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ نہیں ہوں۔ پڑوسی انتخابی حلقے میں میرا ووٹ ہے۔ پدما ہزاریکا نے انتظامیہ کے تعاون سے مجھے اور میرے جیسےچار سو سے زیادہ خاندانوں کو صرف اس وجہ سے علاقے سے باہر نکال دیا کہ ہم انھیں ووٹ نہیں دیتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ یہاں بی جے پی ہندو بنگالیوں کو آباد کرنا چاہتی ہے جو پارٹی کے لیے مستقل ووٹ بینک کی حیثیت سے کام کریں گے۔ “ بتا دیں کہ جب سے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) منظور کیا گیا ہے، آسام میں تناؤ بڑھتا جارہا ہے اور آسام کے لوگ اس خوف میں ہیں کہ اگر تارکین وطن ہندو بنگالیوں کو ہندوستانی شہری بننے دیا گیا تو وہ اپنی نسلی شناخت ختم کردیں گے۔ خاص طور پر آسام کے مسلمانوں میں یہ خوف ہے کہ وہ ریاست میں بی جے پی کی اکثریت پسند سیاست کا اصل نشانہ ہوں گے۔

توہرہ خاتون کی بھی یہی کہانی ہے۔ وہ کیمپ سے آکر چپ چاپ کنہی خیالوں میں ڈوبی ہوئی خاموشی سے اپنے ٹوٹے ہوئے گھر کی طرف نہار رہی ہیں۔ کئی سوال کرنے کے بعد وہ آسامی زبان میں بتاتی ہیں کہ میرا ووٹ سونت پور میں ہے۔ پدما ہزاریکا کو ووٹ نہیں دے سکے۔ تو اس نے میرا گھر توڑ دیا۔

کیمپ میں رہائش پذیر 60 سالہ وہد علی بتاتے ہیں کہ ان کا گھر اس سے قبل نوگاؤں میں تھا، لیکن 12 سال پہلے یہاں آیا تھا۔ میری ووٹر آئی ڈی کارڈ نوگاؤں کا ہی ہے۔ میں وہاں ووٹ ڈالنے جاتا ہوں۔ اب یہاں کے ایم ایل اے نے یہاں ووٹ نہ دینے کی وجہ سے میرا گھر توڑ دیا۔

یہ پوچھنے پر کہ آپ نے یہاں اپنا ووٹر آئی ڈی یہاں ٹرانسفر کیوں نہیں کرایا؟ اس پر وہ اپنی ٹوٹی پھوٹی ہندی میں کہتے ہیں، ‘ آپ کا تعلق آسام سے نہیں ہے، اسلیے آپ ایسا سوال پوچھ رہے ہیں۔ یہاں ووٹر آئی ڈی کارڈ ٹرانسفر کرانا اتنا آسان نہیں ہے۔ اس چکر میں بہت سے لوگوں کو ڈی ووٹر بنا دیا گیا۔ اور اب این آر سی کے عمل میں یہ کام اور بھی مشکل تھا۔ ‘

کھلے آسمان تلے کیمپ میں مقیم خواتین اور بچوں میں سخت غم و غصہ ہے۔ کئی خواتین کو یہ لگنے لگا ہے کہ اب آگے کی زندگی بیحد ہی تاریک ہے۔ زیادہ تر عورتوں کا کہنا ہے کہ انھیں ہمیشہ یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں ایم ایل اے کے لوگ ان کیمپوں اور ان کی عزت پر حملہ نہ کردیں۔

بچوں کی تعلیم بھی پڑ رہاہے اثر

پڑھائی کی بات پوچھنے پر ضیاء الرحمن نام کا ایک نوجوان بھڑک جاتاہے۔ کہتا ہے کہ کس کے والدین نہیں چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ پڑھ لکھ کر پیسہ کمائے۔ لیکن ہم کیمپ میں کیسے تعلیم حاصل کریں گے؟ اب تو جب سے ہمیں بنگلہ دیشی  بول کر ہٹایا گیا ہے، ہم اسکول جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ یہاں تو زندگی کیسے گزرے گی، یہی نہیں پتہ۔ زیادہ تر لوگ خود کشی کے بارے میں سوچنے لگے ہیں۔ ہمارے گھر ہم سے چھین لیے گئے۔ پہلے گھر تھا تو آس پاس کچھ اناج یا سبزیاں اگا کر کھا لیتے تھے۔ آس پاس کے گاؤں میں کام مل جاتا تھا۔ لیکن جب سے حکومت این آر سی اور نیا قانون (شہریت ترمیمی ایکٹ) لے کر آئی ہے، ہم اسی میں الجھے ہوئے ہیں۔ آج کل ہر طرف احتجاج ہورہا ہے۔ کہیں کوئی کام نہیں ہے۔ سب بیکار پڑے ہیں۔

19 سال کی محمد عمر دسویں پاس ہے۔ بارہویں کے بعد وہ ہندوستانی فوج میں بحال ہونا چاہتا تھا، لیکن اب اس نے اپنا تاریک مستقبل دیکھنا شروع کردیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ والد بیمار ہے۔ ہمیں اوپر سے بے گھر کردیا گیا۔ ایسی صورتحال میں مستقبل میں کیا ہونے والا ہے، کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔

آٹھویں میں پڑھتی سمون نشا بھی ڈاکٹر بننا چاہتی ہے۔ لیکن اب وہ اسکول نہیں جا پا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکول کیمپ سے بہت دور ہے۔ آپ کیسے جا سکیں گے؟ وہیں نیہا ہمیں اسکول ڈریس میں نظر آتی ہیں۔ یہ بھی آٹھویں جماعت میں پڑھتی ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اسکول میں سب مجھے بنگلہ دیشی سمجھتے ہیں۔

کیا کہتے ہیں رکن اسمبلی اور ڈسٹرکٹ کمشنر؟

اس سلسلے میں ہفت روزہ دعوت نے پدما ہزاریکا سے بھی خاص بات چیت کی۔ وہ ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ہزاریکا کا کہنا تھا، یہ لوگ ڈی ووٹر ہیں۔ اور یہ لوگ یہاں زمین قبضہ کر رہے تھے، اس لیے ہم نے انھیں یہاں سے ہٹا دیا۔ جب دعوت نے ان سے سوال کیا کہ اگر یہ لوگ ڈی ووٹر ہیں تو کیا آپ سب کے گھر توڑ دینگے؟ اس سوال پر رکن اسمبلی کا کہنا ہے کہ آپ اس سلسلے میں جو بھی بات کرنا چاہتے ہیں، ضلعی انتظامیہ کے ساتھ کریں۔

ڈپٹی کمشنر منویندر پرتاپ سنگھ کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے سرکاری اراضی پر قبضہ کیا تھا۔ چنانچہ انھیں وہاں سے ہٹا دیا گیا۔

لیکن ان تمام لوگوں کے پاس زمین سے متعلق دستاویزات موجود ہیں۔ منویندر پرتاپ سنگھ کہتے ہیں، "اگر ان کے پاس کاغذ ہے تو انھوں نے یہ زمین غیر قانونی قبضہ کار سے خریدی ہے، کیونکہ یہ ایک سرکاری اراضی ہے۔” یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وجہ ہے کہ صرف چند منتخب مکانات کو منہدم کیا گیا ہے؟ ہم نے دیکھا کہ ان کے اگل بغل کے مکانات بالکل محفوظ ہیں۔ کیا یہ سرکاری اراضی نہیں ہے؟ اس پر وہ کہتے ہیں کہ ہم سب کو جلد ہی وہاں سے ہٹا دیں گے کیونکہ ہمارا منصوبہ ہے کہ وہاں صنعتی پارک قائم کیا جائے اور زمین کا کچھ حصہ میڈیکل سائنس کے پوسٹ گریجویٹ کالج کھولنے کے لیے تیز پور یونیورسٹی کو دیا جائے گا۔ منویندر پرتاپ سنگھ نے ضلع میں کسی بھی قسم کے کیمپ کے ہونے سے انکار کیا ہے۔ انھوں نے دعوی کیا کہ "علاقے میں پناہ گزینوں کا کیمپ موجود نہیں ہے۔ وہیں کیمپوں میں رہ رہے لوگوں کا الزام ہے کہ حکومت ان کے کیمپوں کو بھی توڑنا چاہتی ہے۔ 

جماعت اسلامی ہند سے وابستہ سماجی کارکن اشفاق حسین کا کہنا ہے کہ پہلے تو قدرت نے ان کے ساتھ نا انصافی کی۔ جیا بھرولی ندی نے ان کی زمین اپنے اندر سما لی۔ اور اب حکومت کے لوگ ان سے ان کی زمینیں چھین رہے ہیں۔ کسی سے اس سے زیادہ نا انصافی اور کیا ہو سکتی ہے۔ یہاں کا ہر فرد جانتا ہے کہ یہ جیا بھرولی ندی لوگوں کی زمین کس طرح چھینتا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے ، "اگر یہ لوگ واقعی بنگلہ دیشی ہیں تو حکومت کو فوری طور پر انھیں پکڑ کر بنگلہ دیش بھیجنا چاہیے۔ اور اگر وہ نہیں بھیج رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہندوستانی ہیں، ایسے میں حکومت کو ان کے لیے رہائشی بندوبست کرنا چاہیے۔ کیمپوں میں رہنے کی وجہ سے ان کے بچے تعلیم سے محروم ہونے کے راستے پر ہیں۔ اور سوال یہ ہے کہ وہ کب تک کیمپ میں قیام پزیر رہیں گے۔ ایک بار بارش شروع ہونے کے بعد وہ کیمپ رہنے لائق نہیں بچ سکیں گے۔”  بتادیں کہ جماعت اسلامی ہند اور ان سے وابستہ ادارے یہاں کے تین کیمپوں میں بسنے والے لوگوں کے لیے ریلیف دے رہے ہیں۔

سماجی کارکن عبدالقادرکہتے ہیں، سونت پور ضلع کا سوتیا اسمبلی حلقہ ایک مثال ہے کہ کس طرح سے آسام میں مسلمانوں کو حکومت کے لوگوں کے ذریعہ دبایا جا رہا ہے۔  کس طرح سے مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی کی جارہی ہے۔ اور کس طرح سے حکومت ہندوتواوادی ذہنیت کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ وہیں 26 برس کے شاہ جمال کہتے ہیں اصل پروبلم یہ ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد نہیں ہے۔ اس علاقے کے کئی مسلمان پدما ہزاریکا کے ساتھ بی جے پی میں ہیں۔ انھوں نے ہی ان لوگوں کی لسٹ تیار کی جو اس اسمبلی حلقے میں ووٹر نہیں تھے۔ لیکن وہ یہ بھول گئے کہ آج ان کے گھروں کو توڑا گیا ہے، کل ان کا نمبر بھی آئے گا۔

بتا دیں کہ آسام میں بی جے پی کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہی سے ریاست میں لوگوں کو دیہی علاقوں سے درانداز قرار دے کر انخلا کا سلسلہ جاری ہے۔ ان میں سے اکثر و بیشتر علاقے مسلم آبادی پر مشتمل ہیں۔ اب تک یہ انخلا وادی برہم پتر تک محدود تھا جہاں قاضی رنگا سینکچری علاقے سے انخلا کے نتیجے میں پولیس کے ذریعے دو لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ جون میں ایک ہزار افراد پر مشتمل 82  خاندانوں کو رجنی کانت جنگل کے گاؤں سے نکال دیا گیا۔ یہ تمام افراد مسلمان تھے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ان تمام خاندانوں کے پاس شہریت کے تمام ثابت موجود تھے۔

کون ہیں پدما ہزاریکا؟

پدما ہزاریکا سوتیا حلقہ انتخاب سے رکن اسمبلی ہیں۔ پہلے ان کا تعلق آسام گن پریشد سے تھا، لیکن اب بھارتیہ جنتا پارٹی میں ہیں۔ آسام میں ہمیشہ سرخیوں میں رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں گوالپاڑہ کے آس پاس کے لوگ ایک جنگلی ہاتھی سے پریشان تھے۔ خبروں کے مطابق اس جنگلی ہاتھی نے پانچ افراد کی جان لے لی تھی۔ دلچسپ ہے کہ بی جے پی نیتاؤں کی طرف کو اس ہاتھی کا نام ’’ اسامہ لادین‘‘  دیا گیا۔ اور اس ’’ اسامہ لادین‘‘ کو پکڑنے کے لیے پدما ہزاریکا خود بندوق لے کر اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنگل میں اس ہاتھی کی تلاش میں نکل پڑیں اور پکڑنے میں کامیاب رہیں۔ تب وزیر اعلی سربانند سونووال نے ان کی جم کر تعریف کی تھی۔  یہی نہیں، جب لوگوں نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ان کے گھر میں توڑ پھوڑ کی ، تب پدما ہزاریکا نے ایک پریس بیان جاری کر صاف طور پر کہا ہے کہ – "6 دسمبر کو میں نے خود 500 بنگلہ دیشیوں کو اپنے دم پر نکالا اور دوڑا کر بھگایا ہے۔ کیا میں نے ایسا اپنی برادری کے خلاف کوئی کام کیا ہے؟ ‘

جماعت اسلامی ہند کیا کر رہی ہے؟

اس معاملے کی اطلاع ملنے  پر 22دسمبر کو جماعت اسلامی ہند کے مرکزی سکریٹری جناب محمد احمد نے آسام کے ان علاقوں کا دورہ کیا، اور نکالے گئے سبھی خاندانوں سے ملاقات کی اور  انھوں نے متاثرین کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ۔ ان کے ساتھ جماعت اسلامی اپر آسام ڈویژن کے اشفاق اللہ حسین اور بذل الباسط چودھری بھی موجود تھے۔

جماعت اسلامی کی ٹیم نے ان علاقوں کا بھی دورہ کیا جہاں متاثرہ خاندان کے گھر تھے جنہیں منہدم کردیا گیا ہے۔ ٹیم نے متاثرین کے تعلق سے اہم معلومات بھی حاصل کیں، جس سے پتہ چلا کہ یہ لوگ آسام ہی کے شہری ہیں اور ان کے نام بھی این آر سی میں شامل ہیں۔ متاثرین نے  بتایا کہ صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ متعصابہ رویہ اپنایا جا رہا ہے، اور انھیں ہر طرح سے پریشان کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی سکریٹری جناب محمد احمد نے ہفت روزہ دعوت کے ساتھ خصوصی بات چیت میں کہا کہ انھوں نے اس سلسلے میں رکن اسمبلی پدما ہزاریکا سے بھی ملاقات کی۔ ’’ان کا صاف طور پر کہنا تھا کہ یہ ہمارے لوگ نہیں ہیں۔ ہمیں ان سے کوئی مطلب نہیں ہے۔  اس سے آگے وہ ہم سے بات کرنے کو تیار نہیں ہوئے۔’‘ انھوں نے یہ بھی صاف کیا کہ اگر ہمیں اس ظلم کے خلاف اگر عدالت بھی جانا پڑے تو ہم جائیں گے، کیونکہ ملک کا شہری کہیں بھی کسی بھی ضلعے میں جاکر زندگی بسر کر سکتا ہے۔

اس کے بعد 4 جنوری 2020 کو جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری و آسام کے انچارج محمد شفیع مدنی سوسائٹی فار برائٹ فیوچر (ایس بی ایف) کے قومی کوآرڈینیٹر عرفان احمد اور انکی ٹیم نے ان کیمپوں کا دورہ کیا اور متاثرہ لوگوں سے ملاقات کر انھیں امدادی کٹ فراہم کی۔

محمد شفیع مدنی نے تیز پور حلقہ کے ایم ایل اے جناب برندابن گوسوامی سے بھی ملاقات کی اور آسام کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ بتا دیں کہ یہ کیمپ جناب برندابن گوسوامی کے اسمبلی حلقے میں آتے ہیں اور ان کی اجازت سے یہ کیمپ یہاں قائم کی گئی ہے۔ انھوں نے بھی یہ یقین دلایا کہ وہ اپنے حلقہ انتخاب سے بے دخل ہونے والے متاثرین کے لیے پناہ گاہوں کا بندوبست کریں گے اور مفت تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔ انھوں نے کچھ علاقوں میں دوبارہ آباد کرنے کی بھی بات کہی ہے۔